امریکہ: ملزموں کاتبادلہ اور عمران خان

امریکہ: ملزموں کاتبادلہ اور عمران خان
امریکہ: ملزموں کاتبادلہ اور عمران خان

  

 مسلم لیگ ن کے رہنما روحیل اصغر نے انٹرویوکے دوران عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کے سوال پر کہا کہ عمران خان تو خود گرفتار ہونا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اگلی چونکا دینے والی  بات کی۔  ”امریکہ میں نقوی گرفتارہوا ہے۔ اس نے عمران خان کا بھی نام لیا ہے۔ عمران خان امریکہ کومطلوب ہوتے ہیں تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان ملزموں کی حوالگی کا معاہدہ موجود ہے۔ پھر دیکھ لیں عمران خان کا مستقبل کیا ہوگا۔“ عمران خان کی امریکہ کو حوالگی ممکن ہے یا نہیں؟آیا نقوی پر ایسا کوئی کیس ہے جس میں عمران خان مطلوب ہو سکتے ہیں یہ الگ بحث ہے۔ پہلے تودیکھا جائے کہ  نقوی کون ہے؟ امریکہ میں کیاکرتا رہا جس میں عمران خان بھی شریک ملزم تھے۔ میں نے  ریسرچ کی، رپورٹس دیکھیں اور باخبر لوگوں سے  بات کی تو کئی پرت اور تہیں کھلتی چلی گئیں۔

یہ عارف مسعودنقوی ہیں جو 1960ء میں کراچی میں پیدا ہوئے، لندن سکول آف اکنامکس سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد کیریئر کا آغاز لندن کی آرتھر اینڈرسن سے کیا اور پھر امریکن ایکسپریس میں کام کرنے کے بعد سعودی عرب کی سب سے بڑی ٹریڈنگ کمپنی اولیان گروپ کا حصہ بنے۔1994ء میں پچاس ہزار ڈالر  سے کپولا نامی کمپنی قائم کی۔عارف نقوی نے 2002ء میں ابراج ایکوئٹی نامی فرم قائم کی جو صرف پندرہ برس میں دنیا کی سب بڑی ایکوئٹی فرم بن چکی تھی۔

 عارف نقوی سرمایہ کاری کی دنیا کا بڑا نام تھا۔2009ء میں کے الیکٹرک کے60فیصد شیئرز خریدے۔ کراچی میں امن فاؤنڈیشن قائم کی۔2016ء میں بل گیٹس اور ملنڈا گیٹس کی طرف سے عارف نقوی کی فاؤنڈیشن کو انسانیت کی بہترین خدمت کا ایوارڈ دیا گیا۔2011ء میں پاکستان میں انہیں ایسی ہی خدمات کے اعتراف میں تمغہ امتیاز دیا گیا، یہ پیپلز پارٹی کا زرداری رجیم تھا۔صدر پرویز مشرف نے عارف نقوی کو کابینہ میں شامل کرنے کی پیشکش کی جسے ان کی طرف سے مناسب نہ سمجھتے ہوئے معذرت کر لی گئی۔2013ء کے انتخابات میں عارف نقوی نے عمران خان کی تحریک انصاف کے لیے 2ملین ڈالر کی فنڈنگ کی  جسے نہ صرف تحریک انصاف تسلیم کرتی ہے بلکہ انگریزی اخبار دی نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن میں عارف نقوی کا حلف نامہ بھی جمع کروایا گیا ہے۔ میاں نواز شریف2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں حکومت میں آئے تو ان دنوں ابراج گروپ بلندیوں پر تھا اور اسی دور میں اس کی زوال کی داستان بھی شروع ہو گئی۔ ابراج گروپ نے کے الیکٹرک کی چین شنگھائی الیکٹرک کو فروخت کرنے کی کوشش کی، کہا جاتا ہے کہ عارف نقوی نے ایک وزیر کے ذریعے میاں نوازشریف کو سودے میں مدد کرنے کے لئے20ملین ڈالر کی پیشکش کی  تاہم ان رپورٹوں کی عارف نقوی اور میاں نواز شریف کی طرف سے تردید کر دی گئی تھی۔ عارف نقوی اور میاں نواز شریف کی پاکستان اور جنیوا میں فوٹیج میڈیا میں آتی رہی ہیں، فوٹیج سے کوئی مجرم یا معصوم نہیں بن جاتا۔عمران خان کے ساتھ عارف نقوی کے قریبی تعلقات تھے، وہ کے الیکٹرک کی فروخت میں عمران خان سے تعاون کے خواستگار رہے پھر ایسا وقت آیا کہ ان کے خلاف کمپنی میں بے ضابطگیوں کے الزامات لگنے لگے،  بل گیٹس اور ملنڈا گیٹس بھی الزام علیہان میں شامل تھے۔ امارات میں عارف نقوی کو تین سال قید کی سزابھی ہوئی جو بعد ازاں ختم کردی گئی۔ امریکہ میں ان پر16مقدمات درج ہوئے۔اگر یہ  ثابت ہو جاتے ہیں تو 300سال قید ہو سکتی ہے۔عارف نقوی امریکہ کے ہتھے تو نہ چڑھ سکے کیونکہ وہ پاکستان آگئے تھے  جہاں سے اپریل2019ء کو لندن گئے تو امریکہ کے ایماء پر حراست میں لے لیا گیا،امریکہ نے ان کی حوالگی کا کیس کیا اور برطانوی لوئر کورٹ نے فیصلہ امریکہ کے حق میں دے دیا جو عارف نقوی کے وکلاء نے ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

روحیل اصغر نے کہا تھا کہ عارف نقوی نے عمران خان کا شریک ملزم کے طور پرنام لیا ہے۔غالب امکان ہے کہ عارف نقوی نے عمران خان کا نام فنڈنگ کے حوالے سے لیا ہوگا جس سے بادی النظر میں امریکہ کو سروکار نہیں ہے۔ عارف نقوی کیوں زیر عتاب آئے ان کا ممکنہ مستقبل کیا ہو سکتا ہے، اس بارے میں کنگسٹن یونیورسٹی کے انسانی حقوق کے پروفیسر برائن بریوٹی کا حالیہ دنوں نشر ہونے والا انٹرویواہمیت کا حامل  ہے۔ پروفیسر برائن نے کتاب ”ابراج گروپ اینڈ جیوپالیٹکس“ بھی لکھی ہے۔  برائن کے حقائق کو آشکار کرتے انٹرویو کے چند اقتباسات ملاحظہ کیجئے۔

"عارف نقوی کی کہانی ایک محب وطن پاکستانی کی کہانی ہے جس نے ایک انتہائی کامیاب گلوبل کمپنی قائم کی اور پھر وہ برباد کر دیا گیاکیونکہ وہ اپنی کمپنی میں ایک سپر پاور(امریکہ) کے مفادات اور مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بن گیا تھا۔ انہوں نے 2016ء میں فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ کراچی الیکٹرک کوچین کی شنگھائی الیکٹرک کے ہاتھ فروخت کر دیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد امریکہ اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں شدت آگئی اور امریکہ نے کراچی الیکٹرک کا شنگھائی الیکٹرک کو فروخت کا معاہدہ روکنے کی کوشش کی، میری تحقیق میں شواہد سامنے آئے ہیں کہ امریکہ نے ابراج کو منظم طریقے سے تباہ کیا۔

امریکہ کو اس کمپنی  ایک مسئلہ یہ تھا کہ عارف نقوی نے ایک پاکستانی شہری ہو کر تن تنہا یہ کمپنی قائم کی اور اسے کامیابی سے چلایا۔برائن عارف نقوی کی کمپنی ابراج ایکوئٹی کے بارے مزیدکہتے ہیں ”کہیں بھی اور کسی بھی عدالت میں کسی ایک شخص نے بھی اس کمپنی پر کوئی دعویٰ نہیں کیاکہ اس کی رقم چوری ہوئی ہے، کچھ سرمایہ کاروں نے فنڈز کی مینجمنٹ پر سوال اٹھائے تھے جنہیں ان کی تمام رقم منافع سمیت واپس کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود کمپنی کے اثاثے منجمد کر دیئے گئے  اورری سٹرکچرنگ کی نگرانی امریکہ کی ایک چوٹی کی کمپنی کے حوالے کی۔عارف نقوی آسان ٹارگٹ تھے کیونکہ وہ پرائیوٹ ایکوئٹی کی سفید فام دنیا میں واحد پاکستانی تھے۔  وہ ذہنی صدمے سے گزر رہے ہیں، ان کی تمام  دولت بکھر کر رہ گئی ہے، مجھے یقین نہیں ہے کہ ان پر امریکہ میں شفاف مقدمہ چلایا جائے گا،ان کی ذہنی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور جیسا کہ ایک ماہر نفسیات عدالت کو بتا چکا ہے کہ  وہ خودکشی بھی کر سکتے ہیں،ایسی صورت میں انہیں امریکہ کے حوالے کرنا محفوظ نہیں ہوگا۔وہ امریکہ کے خلاف اپنی ملک بدری کی لڑائی لندن ہائی کورٹ میں لے گئے ہیں ایسے کیسوں میں جیت کا امکان بہت کم ہوتاہے،برطانوی شہریوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کو برطانیہ گرفتار کرتا ہے اور لگ بھگ ہر کیس میں انہیں امریکہ کے حوالے کر دیتا ہے،اگر انہیں ملک بدر کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا جاتا ہے تو مجھے عاف نقوی کی زندگی کے متعلق خدشہ لاحق ہوگا“۔امریکہ ہمارے جیسے ممالک میں بہت کچھ کرنے پوزیشن میں ہوتا ہے  اور اس کی ایک مثال عارف نقوی کے گرد بُنا جانے والا جال ہے۔عمران خان نے بھی امریکہ کے ساتھ سینگ پھنسائے ہوئے ہیں۔۔۔خدا خیر کرے۔

مزید :

رائے -کالم -