عمران امریکہ پر حملہ کرے گا؟ 

 عمران امریکہ پر حملہ کرے گا؟ 
 عمران امریکہ پر حملہ کرے گا؟ 

  

 ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے عمران خان کے امریکی سازش کے بیانئے کی بھرپورنفی کے بعد پی ٹی آئی ایک مرتبہ پھرمتحرک ہو گئی ہے اور  ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اعلیٰ عدلیہ کو بھی اس گند میں گھسیٹنا چاہتی ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ جونہی اپنے  خلاف امریکی سازش کا سرٹیفکیٹ ملا،عمران خان دوبارہ سے وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالتے ہی صدر علوی کو ایڈوائس جاری کریں گے کہ پاک فوج امریکہ پر حملہ کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادے!

ڈاکٹر شیریں مزاری کی بھی کمال منطق ہے کہ نیشنل سیکورٹی کونسل کی میٹنگ میں فوجی سربراہوں کی ایک رائے تھی اور سول قیادت کی دوسری رائے تھی اگر ایسا ہی تھاتوپھریہ بات اس اعلامئے میں کیوں درج نہیں کی گئی جس میں سازش کا لفظ ہٹا کر ملکی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کے الفاظ درج کیے گئے تھے۔ یہ بات تو اسی شام ڈاکٹر صاحبہ کو میڈیا پر آکر بتانی چاہئے تھی اور اگرتب یاد نہیں آئی تھی اور اب یاد آئی ہے تو اب تو یہ مکا انہیں اپنے ہی منہ مارنا پڑے گا۔ اس سے بھی بڑھ کریہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جس معاملے کو نیشنل سیکورٹی کونسل ایساایک اعلیٰ ترین فورم حل نہیں کر سکا اسے 1950ء کی دہائی کے انکوائری ایکٹ کے تحت قائم کوئی انکوائری کمیشن کیسے حل کرلے گا؟

تف تو شیخ رشید پر ہے جو کھلے بندوں جھوٹ بولتے ہیں کہ کسی بھی چیف نے میٹنگ میں کوئی بات نہیں کی تھی جس کی تردید ڈی جی آئی ایس پی آرکو کرناپڑی۔اب شیخ صاحب کچھ دن تک توکسی بنکرمیں چھپے رہیں گے اور جب گرد بیٹھ جائے گی تو منہ نکال کر کوئی نئی آواز نکال دیں گے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ پاکستان کو شیخ رشید، عمران خان کی شکلوں میں کیسی سیاسی قیادت میسر آگئی ہے کہ جو ملکی سطح کی سیاست کرنے کے بجائے ذاتی دوستی دشمنی کی سیاست میں مصروف ہیں۔

خیر چھوڑیئے اس بات کو، ذرادوبارہ سے عمران خان کی جانب سے امریکی سازش کے بیانئے کاجائزہ لیتے ہیں۔ راقم نے انہی کالموں میں کہیں تحریر کیا تھا کہ جس بھونڈے انداز میں عمران خان نے نام نہاد امریکی خط لہرا یاہے اس نے بھٹو کی جانب سے لہرائے گئے خط کو بھی مشکوک بنادیا ہے اور لگتا یہی ہے کہ تب بھی کوئی ایسا ڈرامہ ہی کیا گیا ہوگا۔ اب بھی عمران خان اور ان کے ووٹرو ں سپورٹرو ں کا خیال تھا کہ عمران خان کوامریکہ بھٹو کی طرح مروادے گا لیکن سازشی خط لہرانے کے باوجود امریکہ نے اس بات کو درخوراعتنا ہی نہیں جانا اور محض ایک دو بار وضاحت جاری کرکے معاملے پر مٹی ڈال دی ہے جس کی وجہ سے عمران خان اور ان کے ووٹروں سپورٹروں کی امید پر گھڑوں پانی پڑگیا ہے کیونکہ ان کے اندازے اور خواہش کے برعکس عمران خان اللہ کے فضل سے محفوظ و مامون ہیں اور ان کی جان کو فوری طور پر کوئی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جو پی ٹی آئی کے حلقوں کو تنگ کئے جا رہا ہے کہ آخر امریکہ خدانخواستہ عمران خان کی جان کیو ں نہیں لے رہا ہے تاکہ وہ یہ کہہ سکیں کہ امریکہ پاکستان میں جینوئن سیاسی قیادت کو زندہ ہی نہیں رہنے دیتا ہے۔ 

اب عمران خان اور ان کے حواریوں کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے کہ کسی طرح سپریم کورٹ ان کے دعوے کا ازخود نوٹس لے کر ایک عدالتی کمیشن قائم کرکے روزانہ کی بنیاد پر اس قصے کو دہراتی رہے،خواہ آخر میں فیصلہ  ان کے خلاف ہی دے دے مگر سپریم کورٹ کے پیش نظر سابق چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں بننے والے کمیشن اور عمران خان کی خواہش پر لگنے والے سابق چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کا انجام بھی ہے کہ اس کے باوجود کہ جسٹس ناصرالملک نے واشگاف انداز میں بتادیا تھا کہ 2013ئکے انتخابات میں کوئی منظم دھاندلی نہیں ہوئی تھی مگر عمرا ن خان نے دھرنا دیا اور پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی کی بلڈنگ پر حملہ کیا۔ اسی طرح بڑے چاؤ سے پہلے فخرالدین جی ابراہیم کو چیف الیکشن کمشنر لگوایا اور بعد میں انہی کو وہ مغلظات بکیں کہ وہ ہاتھ جوڑ کر پوری قوم سے معافی مانگ کر عہدے سے الگ ہو گئے۔ یہی نہیں بلکہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے بھی تنگ آکر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا تھا اور جب تک معافی نہیں منگوائی، ا ن کی جان نہیں چھوڑی تھی۔ چنانچہ پی ٹی آئی کے حوالے سے عدلیہ کا سابقہ تجربہ بھی کچھ خاص اچھا نہیں ہے اور اب تو لگتا ہے کہ جی ایچ کیو بھی ان کے انداز سیاست سے ناک ناک تنگ آیا ہوا ہے، ایسے میں سپریم کورٹ کیونکر بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالے گی؟

مزید :

رائے -کالم -