ڈراؤنا خواب 

 ڈراؤنا خواب 
 ڈراؤنا خواب 

  

 ناشکرے عوام کو حکومت کا یہ احسان ماننا چاہئے کہ اس بار پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں اس وقت بڑھائیں جب بارہ بج چکے تھے۔ یہ کام کاج سے فارغ عوام جب دس بجے پٹرولیم مصنوعات مہنگا ہونے کی خبر سنتے ہیں تو پٹرول پمپوں کی طرف بھاگ پڑتے ہیں، لڑتے ہیں، جھگڑتے ہیں، امن و امان کا مسئلہ پیدا کر لیتے ہیں، انہیں سکون کی نیند سلانے کے لئے مفتاح اسماعیل نے اس بار پٹرول کا انجکشن اس وقت لگایا جب قوم سو رہی تھی، صبح اٹھی تو معلوم ہوا پانی سر سے گزر گیا ہے۔ اب ذرا چشم تصور کو بیدار کیجئے اور سوچیئے کہ حکومت تبدیل نہ ہوئی ہوتی اور عمران خان ہی حکمرانی کر رہے ہوتے، وہ چار یا دس روپے بھی پٹرول کی مد میں بڑھا دیتے تو اس ملک میں کیا ہوتا۔ ہاہا کار مچ جاتی، مہنگائی مارچ شروع ہو جاتے، حکومت کو عوام دشمن اور ملک دشمن کے خطاب دیئے جاتے۔ اب کیا ہو رہا ہے، اب یہ کہا جا رہا ہے عمران خان سستا پٹرول بیچ کر ہمارے لئے بارودی سرنگیں بچھا گئے اور اگر یہ بارودی سرنگیں تھیں تو چار روپے پٹرول بڑھانے پر لانگ مارچ کیوں کرتے تھے، شور کیوں مچاتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آئی ایم ایف بھی اس بار سوکھے چمڑے کی طرح اکڑا ہے اسے ہلا شیری ہمارے حالات سے ملی ہے، کیونکہ جب طلب بڑھ جائے اور دینے والا کوئی نہ ہو تو جس کے پاس پیسے ہوتے ہیں وہ آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتا ہے۔ عمران خان نے اپنے دوسرے جذباتی فیصلوں کی طرح یہ فیصلہ بھی کیا کہ کشکول توڑ دینا ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا، اسد عمر کی بڑھکیں ہمیں اب تک یاد ہیں جس  کے بعد سے آئی ایم ایف والوں کا رویہ کیدو جیسا ہو چکا ہے، بات بات پر ضد کرتے ہیں، کڑی سے کڑی شرائط منواتے ہیں، نہ مانو تو ملک کے دیوالیہ ہونے کا خوف دلاتے ہیں۔

ہم سب مولا جٹ بنتے ہیں، یہ بڑھک ضرور مارتے ہیں کہ آئی ایم ایف کو لات مار کے بھگا دیا جائے۔ بھوکے پیاسے رہ لیں گے لیکن آئی ایم ایف کی غلامی نہیں کریں گے، آئی ایم ایف کا جو یار ہے،غدار ہے غدار ہے۔ مگر عملاً صورت یہ ہے کہ ذرا سا آٹا مہنگا ہو جائے، گھی نہ ملے اور چینی نایاب ہو جائے تو سیاپا شروع کر دیتے ہیں۔اللہ نہ کرے ہمارے ہاں سری لنکا جیسی صورت حال پیدا ہو مگر ڈرایا تو اسی صورت حال سے جا رہا ہے، جو لوگ اپنے محلے کی کریانہ شاپ والے کے آگے نظریں نہیں اٹھا سکتے کہ اس کا ادھار دینا ہوتا ہے، وہ حکمرانوں کو گالیاں دے کر مطالبہ کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف پر لعنت بھیج کر غیرت کا مظاہرہ کریں۔ پاؤں میں قرض کی زنجیریں پڑ جائیں تو جان اتنی آسانی سے تھوڑی چھوٹتی ہے، پہلے قرض چکاؤ گے تو آگے چلو گے، یہ کوئی گلی محلے کا ادھار تھوڑی ہے کہ جس وقت چاہو کر جاؤ اور دینے سے انکار کر دو۔ ملکوں کو اُدھار تو معاہدوں کے تحت ملتا ہے، جس دن معاہدے سے روگردانی کی اسی دن باقی سب ادھار نہ صرف بند ہو گئے بلکہ آپ کا عالمی سطح پر ناطقہ بھی بند ہو گیا اور آئی ایم ایف تو ویسے بھی سود خوروں کا امام ہے۔ اگر وہ انکار کر دے تو باقی کوئی دوسرا بھی قرض نہیں دیتا، اس کا اندازہ اس دو ماہ کی حکومت کو ہو چکا ہے مفتاح اسماعیل کہہ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی پیسے دینے کو تیار نہیں۔ آئی ایم ایف کی اپنی شرائط ہیں جنہیں پورا کئے بنا وہ ایک پیسہ دینے کو تیار نہیں ہے۔ تو صاحبو! اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم مفت خور بن چکے ہیں، قرضوں پر پل رہے ہیں، حکومت ہو یا عوام کوئی بھی سدھرنے کو تیار نہیں، آج بہت سوں کی غیرت یہ سوچ کر جاگتی ہے کہ آئی ایم ایف ہمیں ڈکٹیشن کیوں دیتا ہے۔ ہمارے اندرونی معاملات کا ماما لگتا ہے۔ یہ غیرت اس وقت نہیں جاگتی جب ہم اس سے قرض مانگ رہے ہوتے ہیں۔ یہ تو بڑا سادہ سا اصول ہے کہ جو قرض دیتا ہے وہ اپنی شرائط بھی منواتا ہے، ہاں یہ درست ہے کہ اب آئی ایم ایف نے باقاعدہ ڈنڈا اٹھا لیا ہے۔ ایسے جیسے کہہ رہا ہو میری بات مانو گے تو ٹھیک وگرنہ میں تمہیں ویسے ہی سیدھا کر دوں گا۔

قرضوں کا بوجھ ہم پر اتنا ہے کہ شاید اگلی کئی نسلیں نہ اتار سکیں۔ یہ بوجھ اس لئے بھی نہیں اتر سکتا کہ جتنا قرض اتارتے ہیں،اس سے دوگنا قرض ہماری حکومتیں پھر لے لیتی ہیں۔ 75 سال میں قرضوں کا گراف اٹھا کر دیکھ لیں، اوپر ہی اوپر جا رہا ہے۔ ایک حکومت آتی ہے تو قرضوں کے انبار کا رونا روتی ہے مگر جب جاتی ہے تو اس انبار کو ڈبل کر چکی ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہی جب ہر حکومت کی ترجیح یہ رہے کہ اسے کہیں سے قرض مل جائے تاکہ وہ دورِ حکومت اچھی طرح گزار سکے تو پھر قرض کی معیشت ہی پروان چڑھے گی اس بار آئی ایم ایف نے  انہیں گردن سے پکڑ لیا ہے جو  اب چھڑانا مشکل ہو چکی ہے۔ پہلے حکومتیں قرض لے کر اور سبسڈی دے کر کام چلا لیتی تھیں لیکن اس بار آئی ایم ایف نے ایک سیدھا فارمولا پکڑا ہے کہ عالمی منڈی کے مطابق تیل کی قیمتیں رکھو اور سبسڈی کا خاتمہ کرو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نے اپنے آخری دنوں مں ی پٹرول پر سبسڈی دے کر ایک بڑا رسک لیا، ایک طرف بجٹ خسارہ بڑھتا گیا تو  دوسری طرف آئی ایم ایف نے ضد باندھ لی کہ جب تک  قیمتیں نہیں بڑھیں گی  اس وقت تک قسط نہیں ملے گی۔ شکنجے میں آئی ہوئی چڑیا کی طرح ہم پھڑپھڑا رہے ہیں۔آزادی، خود مختاری کے سارے نعرے جھوٹا ڈھکوسلا لگتے ہیں، سب کچھ گروی رکھنے والی قومیں سر جھکاتی ہیں سر اٹھا کر نہیں جی سکتیں۔

دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں ہر قربانی عوام سے مانگی گئی ہے۔ اشرافیہ نے کبھی قربانی نہیں دی جو اشرافیہ مختلف خانوں میں بٹی نظر آتی ہے،وہ صرف عوام کو دکھاوے کے لئے ہے۔ اصل میں سارے ایک ہیں، ہمارا کوئی لیڈر بھی عوام میں سے نہیں، سب اشرافیہ کا حصہ ہیں اور کروڑ یا ارب پتی ہیں۔اس ملک کے جج، جرنیل، بیورو کریٹ، بڑے بڑے صنعت کار، لینڈ لارڈز، فطرتاً ایک قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور عوام دوسرے قبیلے سے۔یہ آئی ایم ایف والے بھی ایسے ظالم ہیں کہ پاکستان میں ہر قربانی غریب عوام سے مانگتے ہیں، انہیں پٹرول پر چند روپے کی سبسڈی اس لئے چبھتی ہے کہ موٹر سائیکل میں ایک لٹر پٹرول ڈلوانے والے کو فائدہ ہوتا ہے۔ وہ کبھی معاہدہ کرتے ہوئے حکومت پر یہ دباؤ نہیں ڈالتا کہ سرکاری ملازمت کرنے والے عدلیہ، فوج، بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ کے ہر فرد سے مفت پٹرول کی سہولت واپس لے کر انہیں مخصوص پٹرول الاؤنس دیا جائے۔ آئی ایم ایف کبھی یہ نہیں کہتا کہ ٹیکس نیٹ کا دائرہ ہر اس شخص تک بڑھایا جائے جو ایک کنال کا گھر یا پندرہ سو سی سی گاڑی رکھتا ہے۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں براہ راست ٹیکس سے کتنی آمدنی ہوتی ہے، اسے تو بس اس سے غرض ہے کہ غریب کے منہ سے آخری نوالہ تک چھین لیا جائے۔ حکومتیں بھی آئی ایم ایف کو اس طرف نہیں لاتیں کہ ہم دیگر مدات سے آمدنی بڑھا کے بجٹ خسارہ پورا کر دیں گی، عام آدمی کو ریلیف دینے کے لئے سبسڈی ختم کر دی جائے،اس کا مطلب ہے عوام کے خلاف اشرافیہ اور آئی ایم ایف کا گٹھ جوڑ ہے۔ دونوں کا مقصد عوام کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنا ہے۔ عوام زندہ کیسے رہیں گے؟ اپنا پیٹ کیسے پالیں گے؟ انہیں بس اس بات سے ڈرایا جاتا رہے گا کہ ملک دیوالیہ ہو جائے گا اس لئے پٹرول مہنگا کرنا ضروری ہے۔ ان ظالموں کو یہ نہیں پتہ کہ مہنگائی نے اس ملک کے کروڑوں غریبوں کو دیوالیہ کر دیا ہے اور ان کے لئے زندگی ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -