پاکستان کا سب سے پہلا آستھیٹک میڈیسن سنٹر بنانے کے لیے یونیورسٹی آف لاہور اور اے اے آر ایم کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط

پاکستان کا سب سے پہلا آستھیٹک میڈیسن سنٹر بنانے کے لیے یونیورسٹی آف لاہور ...
پاکستان کا سب سے پہلا آستھیٹک میڈیسن سنٹر بنانے کے لیے یونیورسٹی آف لاہور اور اے اے آر ایم کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) یونیورسٹی آف لاہور نے اے اے آر ایم کے ساتھ پاکستان کا پہلا آستھیٹک میڈیسن سنٹر قائم کرنے کے لیے مفاہمت کی یادداشت  پر دستخط کیے ہیں، معاہدے کا مقصد  اس شعبے میں پریکٹس کا معیار مزید بہتر کرنے کے منصوبوں کو آگے بڑھانا ہے۔

یونیورسٹی آف لاہور کے چیئرمین اویس رؤف اور  اس پروگرام کے بانی جواد قریشی نے ہیلتھ کیئر کے شعبہ میں کارکنوں کو شاندار آستھیٹک پریکٹس، تعلیم اور مہارت حاصل کا ایک ذریعہ فراہم کرنے کے لیے اشتراک کیا ہے۔ آستھیٹک طریقہ علاج دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور اس کی مارکیٹ 53 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ 

مفاہمتی یاداشت پر دستخط  کی  تقریب سے خطاب کرتے ہوئےبورڈ آف گورنرز کے چیئرمین  اویس رؤف کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد تمام ماڈیولز کے دوران حفاظتی اقدامات کی پاسداری کے ساتھ آستھیٹک میڈیسن کی مکمل تربیت  فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا اس مقصد کے لیے ڈاکٹر عثمان کو نئے قائم کردہ مرکز برائے آستھیٹک میڈیسن کے بین الاقوامی معالجین، پریکٹیشنرز اور سرجنز کی ٹیم کے ساتھ  رہنمائی اور تربیت فراہم کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف لاہور میں سنٹر برائے آستھیٹک میڈیسن کے بانی جواد قریشی کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان بھر میں تھری ڈی لائف سٹائل اور کے کے ٹی سپائن سنٹر کے درجنوں کلینک قائم کیے ہیں. دونوں اداروں میں مریضوں کو بہترین سہولیات اور علاج کی فراہمی کے دوران مجھے احساس ہوا کہ پاکستان میں علاج اور نگہداشت کے شعبہ میں انتہائی باصلاحیت افراد موجود ہیں۔ تاہم آستھیٹک میڈیسن کے تیزی سے ترقی کرتے شعبہ میں ضروری ہے کہ تمام ماہرین مشورے اور علاج کے دوران بہترین پیشہ وارانہ طریقے سیکھنے کے لیے معروف کلینکس میں انٹرن شپ اور معیاری ڈپلومہ پروگراموں میں شامل ہوں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -