توانائی بحران

 توانائی بحران
 توانائی بحران

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 یہ ایک ایسا بحران ہے جو پاکستان میں ”سدا بہار“ صورت حال اختیار کر چکا ہے، گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران ہونیوالے تین جنرل الیکشنز میں ”انرجی کرائسز“پر قابو پانا تینوں بڑی پارٹیوں کے منشور کا حصہ رہا۔2008ء میں پیپلز پارٹی، 2013 ء میں مسلم لیگ(ن) جبکہ 2018 ء میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومتیں بر سر اقتدار آئیں۔ تاہم اس کے باوجود پاکستان میں توانائی بحران وہیں موجود ہے جہاں سے پہلے دن شروع ہوا تھا۔ 
 پاکستان چونکہ ایک ”آئل بیس اکانومی“ ہے جس کی معیشت کا تمام تر دارومدار د رآمدی تیل پر ہے، جبکہ پاکستان میں غریب،مزدور، کسان، دوکاندار اور متوسط طبقے سے لے کر عام شہری تک ہر شخص پٹرول کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ براہِ راست جڑا ہوا ہے، مثال کے طور پر اگر ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں زیادہ ہو جائیں تو سبزی کی دوکان پر آلو اور پیاز کے نرخ بھی بڑھ جائیں گے جبکہ کریانہ سٹوروں پر آٹا، دالیں، گھی اور چینی کی قیمتوں میں بھی بڑھوتی دیکھی جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ششماہی نہروں میں پانی دستیاب نہ ہونے کے بعد ضرورت پڑنے پر کسان اپنی فصل کو ٹیوب ویل چلا کر پانی مہیا کر ے گا جو کہ ڈیزل سے چلتا ہے، جب گندم، چاول، آلو، پیاز وغیرہ کی فصل پک کر تیار ہو جائے گی تو اسے لاہور، کراچی جیسے بڑے شہروں کی سبزی اور غلہ منڈیوں تک پہنچانے کے لئے ٹرانسپورٹ کا جو بھی نیٹ ورک استعمال ہو گا اس کا تمام تر انحصار پٹرول اور ڈیزل پر ہے، آٹا ملوں اور دیگر چھوٹی صنعتوں میں چلنے والی ہیوی مشینری سے لے کر جنرل سٹور پر چلنے والے پنکھے کی بجلی کے فی یونٹ کا بڑا حصہ بھی درآمدی تیل کا مرہون منت ہے، کیونکہ پاکستان کا ”انرجی مکس“ عالمی معیار کے قریب تر بھی نہیں، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آبی ذرائع، شمسی توانائی یا پھر ونڈ انرجی کے ذریعے ماحول دوست بجلی پیدا کی جاتی ہے تاہم ہمارے ہاں آج بھی 60 فیصد بجلی انتہائی مہنگے اور ڈالروں میں درآمد کئے گئے فرنس آئل سے پیدا ہوتی ہے۔علاوہ ازیں بڑی تعداد میں عام آدمی کی سواری موٹر سائیکل، یا پھر آمد و رفت کے لئے رکشے، ویگنوں اور بسوں کے کرائے بھی پٹرول کی قیمتیں زیادہ ہونے کے بعد بڑھ جاتے ہیں جو کہ غریب کی جیب پر بھاری ہوتے ہیں۔


یہی وجہ ہے کہ جب سے تجرباتی بنیادوں پر روس سے تیل کا جہاز پاکستان پہنچا ہے ہر عام و خاص اس بارے کسی خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ شاید پاکستان نے کوئی سنگ میل عبور کر لیا ہے، حالانکہ صورت حال اس سے مختلف ہے، اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت خام تیل کی سالانہ کھپت دس سے گیارہ ملین ٹن ہے، جس میں تین ملین ٹن خام تیل مقامی طور پر پیدا ہوتا ہے جبکہ باقی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت سے درآمد کیا جاتا ہے۔رواں کاروباری ہفتے کے آغاز پر 183 امیٹر لمبا ”پیو رپوائنٹ“ نامی روسی جہاز جو کراچی بندر گاہ پر لنگر انداز ہوا ہے۔اس میں 45 ہزار میٹرک ٹن خام تیل ہے جس سے پاکستان آئل ریفائنری میں پراسیسنگ کے بعد تقریباً 7 لاکھ بیرل پٹرولیم مصنوعات بنیں گی۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی یومیہ کھپت 3 لاکھ بیرل سے زائد ہے لہٰذا مذکورہ جہاز آئل اکانومی میں کوئی ”گیم چینجر“ نہیں،بلکہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔یہی وجہ ہے کہ سستے روسی تیل کی درآمد کے باوجود حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی پرانی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ روسی تیل کی پاکستان آمد کے بعد پورے ملک میں اس  کے چرچے ہیں اور ہر شخص اس کے بارے میں بات کرتا نظر آ رہا ہے، پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت اسے اپنا بہت بڑا کارنامہ قرار دے رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی والے اسے اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ روسی کے ساتھ تیل کا معاہدہ گزشتہ برس اپریل 2022 ء میں ہوا تھا جب عمران خان وزیر اعظم تھے، انہوں نے دورہ روس کے دوران اس معاہدے کو حتمی شکل دی تھی۔


اس شورو غوغے میں تاثر ابھر رہا ہے کہ روسی تیل شایدکوئی ”توپ“ چیز ہے، حالانکہ صورت حال اس سے مختلف ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں پہلے سے موجود آئل ریفائنریاں روس سے آنے والے خام تیل کو پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق اس خام تیل سے بڑی مقدار میں فرنس آئل بنے گا کیونکہ تکنیکی فزیبلٹی کے مطابق اس سے فرنس آئل زیادہ اور ڈیزل اور پٹرول کم مقدار میں بنتے ہیں،جبکہ روسی خام تیل کو پٹرولیم مصنوعات میں بدلنے کے لئے لاگت بھی زیادہ آئے گی۔ ماہرین کے مطابق یہی روسی تیل بھارت بھی خرید رہا ہے تاہم اس کی آئل ریفائنریاں جدید ٹیکنالوجی کی حامل ”ڈیپ کنورژن“ ریفائنریاں ہیں جو درآمدی خام تیل سے ڈیزل پیدا کرنے کے بعد اسے برآمد بھی کر رہاہے۔


موجودہ تمام تر صورتحال میں جہاں ایک طرف یہ تاثر ابھر رہاہے کہ روسی کے ساتھ سستے خام تیل کی درآمد توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت ہے، وہاں پر عوام یہ خبر بھی ملاحظہ کر لیں کہ ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 7 ہزار میگاواٹ سے تجاو ز کر گیا ہے جبکہ طلب و رسد کا خسارہ بڑھنے سے شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی 12 گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے۔ لہٰذا اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی پارٹیاں ایک ایک کرکے بر سر اقتدار آئیں لیکن توانائی کے ”سدا بہار“ بحران سے نجات ممکن نہیں ہو سکی۔ جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آئل کمپنیوں پر انحصار اور کمیشنوں سے چھٹکارا حاصل کرکے پاکستان کو طویل المدتی اقدامات کرتے ہوئے بڑے آبی منصوبوں سے سستی بجلی پیدا کرنا ہو گی، جبکہ ہوا اور بجلی سے توانائی کے حصول کا بے پناہ پوٹینشل بروئے کار لاتے ہوئے ماحول دوست سمارٹ انرجی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ یہ سستی بجلی جب 24 گھنٹے چلنے والی برآمدی انڈسٹری کو ملے گی تو صنعت و حرفت کا پہیہ گردش کرے گا،ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور قیمتی زرمبادلہ آئے گا۔

مزید :

رائے -کالم -