اعصاب کی جنگ شدےد شہباز شرےف تےل اور تےل کی دھار دےکھ رہے ہےں

اعصاب کی جنگ شدےد شہباز شرےف تےل اور تےل کی دھار دےکھ رہے ہےں

           تجزیہ:- قدرت اللہ چودھری

قومی اسمبلی تو اپنی آئینی مدت پوری کرکے ختم ہوگئی ہے، ارکانِ اسمبلی کے ساتھ ساتھ وزراءبھی سابق ہوگئے ہیں، البتہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیر اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اپنی جگہ موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کی مدت 27 مارچ کو، بلوچستان اسمبلی کی مدت 4 اپریل کو، سندھ اسمبلی کی مدت 6 اپریل کو اور پنجاب اسمبلی کی مدت 8 اپریل کو پوری ہوگی۔ یہ اسمبلیاں اگر اپنی مدت سے پہلے توڑی نہیں جاتیں تو پھر اپنی اپنی مدت پوری کرکے ختم ہوں گی۔ اسلام آباد میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا جو مشاورتی اجلاس بلایا تھا اور جس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز کرانے پر اتفاق رائے پایا گیا، یہ طے نہیں ہوسکا کہ وزرائے اعلیٰ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کی ایڈوائس کب دیں گے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اسلام آباد کے اجلاس سے واپس آکر لاہور میں اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسلام آباد کے اجلاس میں ایک ہی روز انتخابات کرانے پر اتفاق رائے ہوا ہے، لیکن انہوں نے ابھی تک اسمبلی کی تحلیل کے سلسلے میں ایڈوائس دینے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایڈوائس سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیاں توڑ کر غیر جانبدار نگران سیٹ اپ کے قیام سے مشروط ہے، لیکن عمومی طورپر یہ خیال کیا جارہا ہے کہ اس سلسلے میں تمام معاملات جلد ہی طے ہو جائیں گے۔

جہاں تک نگران وزیراعظم کا تعلق ہے، پیپلز پارٹی نے گزشتہ روز جو تین نام دیئے تھے، وہ مسلم لیگ (ن) نے مسترد کردیئے۔ یہ تین نام حفیظ شیخ، ڈاکٹر عشرت حسین اور جسٹس (ر) میر ہزار خان کھوسو تھے۔ ہفتے کے روز پیپلز پارٹی نے بھی جواب آں غزل کے طور پر مسلم لیگ (ن) کے دیئے ہوئے نام مسترد کردیئے۔ ایک نام (جسٹس (ر) شاکر اللہ جان) تو خود مسلم لیگ (ن) نے واپس لے لیا تھا، باقی دو نام یعنی ناصر اسلم زاہد اور میر ہزار خان کھوسو کے نام پیپلز پارٹی نے مسترد کردیئے۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد ان کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے، کیونکہ جسٹس نظام الدین کے قتل میں صدر آصف علی زرداری کو ملوث کیا گیا تھا جو جسٹس ناصر اسلم زاہد کے رشتہ دار تھے۔ اب پوزیشن یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے نام مسلم لیگ (ن) نے مسترد کردیئے اور مسلم لیگ (ن) کے نام پیپلز پارٹی نے مسترد کردیئے۔ اب دونوں جماعتیں کئی دن پہلے والی پوزیشن پر چلی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کچھ مزید ناموں پر غور کررہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) بھی ممکن ہے بعض نئے ناموں پر غور کررہی ہو، لیکن سیاسی حلقوں کی رائے ہے کہ اس کے لیڈر مطمئن ہیں کہ نگران وزیراعظم کا معاملہ اُن کی تسلی کے مطابق حل ہوجائے گا، جب کہ پیپلز پارٹی اپنے نام مسترد ہونے کی وجہ سے کچھ دباﺅ میں ہے، لیکن اس کے رہنماﺅں کو بھی اعتماد ہے کہ معاملہ بالآخر طے پا جائے گا۔ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ بہتر تو یہ تھا کہ یہ معاملہ اسی طرح حل ہوجاتا جس طرح صوبہ خیبر پختونخوا میں خوش اسلوبی سے حل کرلیا گیا ہے۔ وہاں وزیراعلیٰ اور قائد حزب اختلاف ملے، تبادلہ خیال ہوا، وہ متفقہ نتیجے پر پہنچے اور ملاقات کے اگلے روز دونوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرکے نگران وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان کردیا۔ اسی جذبے سے کام لیا جاتا تو وفاق میں بھی وزیراعظم کا انتخاب اتفاق رائے سے ہوسکتا تھا، ایسی صورت میں یہ معاملہ نہ تو پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کرنے کی ضرورت پڑتی اور نہ چیف الیکشن کمشنر کو ریفر ہوتا، اب لگتا یہ ہے کہ اگر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان کسی ایک نام پر متفق نہ ہوئے تو ممکن ہے فیصلہ پارلیمانی کمیٹی یا بالآخر چیف الیکشن کمشنر کو ہی کرنا پڑے، اس وقت تک بہرحال اعصاب کی جنگ جاری رہے گی۔ پنجاب میں اسمبلی توڑنے کے سلسلے میں اگر وزیراعلیٰ شہباز شریف کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرا رہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ اس مسئلے کو تُرپ کے ایک پتے کے طور پر سنبھال کر رکھنا چاہتے ہیں اور وزیراعظم کے سلسلے میں تیل اور تیل کی دھار دیکھ رہے ہیں۔ اب انہوں نے سندھ اور بلوچستان میں نگران سیٹ اپ کو بھی اس کے ساتھ منسلک کردیا ہے۔ بہرحال یہ معاملہ کسی بھی سطح پر ہو، بالآخر طے ہو ہی جائے گا۔ بس یہ ہے کہ اعصاب کی یہ جنگ چند روز تک مزید جاری رہے گی۔

مزید : صفحہ اول