قومی اسمبلی کا سورج غروب نگران سےٹ اپ کے لےے اعتماد کا فقدان رسہ کشی جاری

قومی اسمبلی کا سورج غروب نگران سےٹ اپ کے لےے اعتماد کا فقدان رسہ کشی جاری ...

  



                                اسلام آباد سے خصوصی تجزیہ :سہیل چوہدری

جمہوریت کو در پیش سنگین خطرات کی تاریخ کی حامل اسمبلیاں بالآخر اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوگئیں ،اسمبلیوں اور حکومت کے قبل ازوقت خاتمے کی تاریخیں دینے والے نامراد ہوئے ،حتیٰ کہ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے آخری مرحلہ میں بھی اسے سیاست نہیں ریاست بچانے جیسے ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ نعرہ لگانے کے خالق اپنے اس ڈرون حملے کا ازخود ہی شکار ہوگئے اور وہ قومی اسمبلی کی چند روز قبل از وقت تحلیل کی سازش میں بھی کامیا ب نہ ہوپائے ، قومی اسمبلی ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی طبعی عمر پوری کرکے گزشتہ روز رات 12بجے پاکستان کی سیاسی جمہوری تاریخ کے اوراق میں باب اول کے طورپر آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بن گئی قومی اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہونے پر حکومت کا سورج تو غروب ہوگیا لیکن حکومت اور اپوزیشن کے مابین نگران سیٹ اپ پر ڈیڈلاک پیدا ہونے سے سیاسی مطلع صاف نہ ہوا جس کی وجہ سے نگرانوں کے اقتدار کا سورج طلوع نہ ہوپایا ،پوری قوم کی نظریں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین نگرا ن حکومت کے قیام پر جاری نفسیاتی و اعصابی جنگ پر لگی ہوئی ہیں ،اگرچہ صوبہ خیبر پختونخواہ نے اس حوالے سے ایک عمدہ نظیر قائم کردی ہے لیکن حکومت اور اپوزیشن کے مابین اعتماد کے گہرے فقدان کی وجہ سے نگرانوں کے نام پر اتفاق کی بیل ہنوز منڈھے نہ چڑھ سکی ہے ،اگرچہ کہا جارہاہے کہ اسمبلیوں اور حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کا کریڈٹ بہت حدتک اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کو جاتاہے کہ انہوں نے اس بارجوش کے بجائے ہوش سے کام لیتے ہوئے غیر جمہوری طاقتو ں کو اپنا کاندھا استعمال نہیں کرنے دیا ،درحقیقت سپرٹ کی اصل اساس پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے مابین چارٹر آف ڈیمانڈ (سی او ڈی )کی صورت میں پیدا ہونے والی انڈر سٹینڈنگ اور سیاسی بالغ نظری کو جاتاہے ،تاہم یہ خوش آئند بات ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی جمہوریت کے لئے بڑی سیاسی جماعتوں کے مابین ہونے والے اس عہد کے تقدس کو مجروح نہیں ہونے دیا گیا ،تاہم نگران حکومت کے قیام پر تاحال عدم اتفاق کے ماحول نے پر امن انتقال اقتدار کے پہلے مرحلے کو کچھ بدمزہ کردیا ہے ،یہ وقت نگران حکومت کے قیام پر اتفاق کرکے پر امن انتقال اقتدار کے پہلے مرحلے کا سفر ہموار بنایا جاسکتا تھا ،ا س حوالے سے ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو مورد الزام ٹہرایا جارہاہے ،لیکن معروضی حالات کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ جمہوریت کو در پیش خطرات میں کمی تو واقع ہوئی ہے لیکن یہ خطرات کلی ختم نہیں ہوئے اب بھی وفاقی دارالحکومت میں جہاں روز روشن کی طرح مقررہ آئینی مدت میں آئندہ عام انتخابات کے انعقادکے حوالے سے ٹھوس پیش رفت ہورہی ہے تو دوسری جانب طویل المدتی کیئر ٹیکر سیٹ اپ کی ہلکی پھلکی باز گشت اب بھی سنائی دے رہی ہے اس سے ملحقہ بہت سی سازشی تھیوریاں اسلام آباد کی گلی کوچوں میں پل بڑھ رہی ہیں ،بعض لوگوں کاخیال ہے کہ پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے مابین نگران سیٹ اپ کے قیام پر بہت تفصیل سے اگر نہیں تو موٹے موٹے نقاش پر ایک خاموش مفاہمت موجو دہے لیکن جمہوریت مخالف قوتوں کو کوئی موقع یکسر فراہم نہکرنے اور عوام کے سامنے فیس سیونگ کے لئے بھی دونوں حلیف جماعتوںمیں زور دار رسہ کشی جاری ہے تاکہ اس زور دار رسہ کشی کے داموں کے گرم تیوروں کو دیکھ کر کوئی تیسری قوت کسی ممکنہ سازش کے لئے جگہ نہ پاسکے ،بہر خوب پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی دونوں اپنے اپنے کارڈ نہایت احتیاط سے کھیل رہی ہےں۔اگرچہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے ساتھ چاروں وزراءاعلیٰ نے نہایت اچھے اور مثبت ماحول میں بات چیت کرتے ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی رو زکرانے پر تو اتفاق کرلیا ہے لیکن صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن نے ابھی کوئی یقین دہانی نہیںکروائی گویا پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنا یہ ترپ کا پتہ سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور مرکز میں نگران حکومت کے قیام کے حوالے سے اپنے اس کارڈ کو استعمال کررہی ہے ،ابھی تک دونوں اطراف سے وزارت عظمیٰ کے لئے جو نام سامنے آئے ہیں ان میں سے بظاہر یہی لگ رہاہے کہ جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد اور ڈاکٹر عشرت حسین کے مابین جوڑ پڑا ہواہے، وفاقی دارالحکومت کے بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر عشرت حسین کو ملک کے ایک انتہائی معتبر اسی کاروباری شخصیت کی آشیر باد حاصل ہے جس کی جسٹس (ر) شاکر اللہ جان کو حمایت حاصل تھی،جسٹس (ر) شاکراللہ جان کو مولانا فضل الرحمن کی بھی حمایت حاصل تھی اور شاید مولانا ہی نے انہیں اپوزیشن کی جانب سے نگران وزیراعظم کے ناموں کی فہرست میں شامل کروایا تھا ،اسی وجہ سے جب پاکستان مسلم لیگ ن نے یہ نام سرنڈر کیا تو مولانا فضل الرحمن اس پر سیخ پا بھی ہوئے دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم کیو ایم دوہری چال چل رہی ہے اس نے پاکستان مسلم لیگ ن کے چوٹی کے امیدوار جسٹس (ر) ناصر اسلم کی حمایت میں بھی اپنا وزن ڈالا ہوا ہے تو ساتھ ساتھ پاکستان مسلم لیگ ق کے ہم رکاب ہوکر ڈاکٹر عشرت حسین کی بھی حمایت کررہی ہے ،ڈاکٹر عشرت حسین جنرل(ر)پرویزمشرف دور کے ایک ممتاز ٹیکنوکریٹ ہیں انہیں ایم کیو ایم ،پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل ہے،بعض حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ اگر ڈاکٹر عشرت حسین نگران وزیراعظم بنے تووہ ملک میں ایک اصلاحاتی ایجنڈا متعارف کرواسکتے ہیں جس کے نتیجہ میں عام انتخابات کے انعقاد میں کچھ ماہ کا التواءممکن ہوسکتاہے ،جسٹس(ر) ناصر اسلم زاہد اس وقت سرفہرست ہیںیا پھر کسی نئے نام کا سرپرائز بھی آسکتا ہے تاہم یہ ساری امکانی سازشی تھیوریاں ہیں جو وفاقی دارالحکومت میں ہر پل چلتی رہتی ہیں،دوسری جانب عبدالحفیظ شیخ کے بارے میں اسلام آباد کے بعض حلقے دعویٰ کررہے ہیںکہ صدر آصف علی زرداری ان سے خوش نہیں تھے اور انہیں نگران وزیراعظم بنانے کا لالچ دےکر وزارت خزانہ اور حتیٰ کہ سینیٹ کی نشست سے بھی محروم کردیا گیا ،درحقیقت ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اگرچہ اپنی وزارت کے دورمیں کوئی انقلابی اقدامات تو نہیں کئے لیکن وہ بہت سے حکومتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے علاوہ ازیں ان کے بارے میں یہ بھی کہا جارہاہے کہ انہوں نے نگران وزیراعظم بننے کےلئے پارٹی سے ہٹ کر براہ راست بھر پور لابنگ کی جس میں وہ سینیٹ میں اپوزیشن رہنماءاسحق ڈار اور راولپنڈی میں مقتدر حلقوں سے بھی میل ملاقاتیں کرتے رہے جسے صدر زرداری نے پسند نہیں کیا ،اب قرین ازقیاس یہی ہے کہ حکومت او راپوزیشن کے مابین پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کے باعث حتمی فیصلہ پارلیمانی کمیٹی یا الیکشن کمیشن کو کرنا پڑے تاہم دارالحکومت میں ہر لمحہ بدلتی ہوئی اعصاب شکن صورتحال جاری ہے ۔

مزید : صفحہ اول