قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کر کے تحلےل

قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کر کے تحلےل

  



                                                                       اسلام آباد (ثنا نیوز) 13 ویں قومی اسمبلی ہفتہ کی رات 12 بجے تحلیل ہو گئی ہے۔ صدر کی منظوری کے بعد اس بارے میں آئین کے آرٹیکل 52 کے تحت وزارت پارلیمانی امور قانون و انصاف نے 16 مارچ کو اسمبلی کی مدت مکمل اور تحلیل ہونے کا اعلامیہ نمبر F.1 (5) / 2007 - PA (NA) جاری کر دیا۔ اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی وفاقی کابینہ ختم ہو گئی ہے۔ اس بارے بھی کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، نگران وزیراعظم کے حلف اٹھانے تک اپنے عہدے پر موجود رہیں گے۔ سابق 13 ویں قومی اسمبلی کے پچاس سیشنز ہوئے جو ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ جمہوری طور پر منتخب حکومت نے آئینی مدت خوش اسلوبی سے مکمل کی ہے اور اقتدار پر امن اور جمہوری انداز میں اگلی حکومت کو منتقل ہو گا۔ 13 ویں قومی اسمبلی کے اجلاسوں کے مجموعی دن 666، اصل ایام کار کا دورانیہ 521 دن رہا۔ پہلی اسمبلی ہے جس نے پانچ بجٹ منظور کئے ہیں۔ 13 مشترکہ اجلاس ہوئے ان میں پانچ صدارتی خطاب کے بارے میں مجلس شوریٰ کی مشترکہ نشستیں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح سابق قومی اسمبلی نے 134 بلز منظور کئے ان میں 19 پرائیویٹ بلز شامل ہیں۔ 85 قراردادیں منظور کی گئیں، بیشتر بلز اور قراردادیں اتفاق رائے سے منظور کی گئیں۔ وزیراعظم اور سپیکر قومی اسمبلی بھجوائی گئی کارکردگی رپورٹ کے مطابق پارلیمانی و سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ 13 ویں قومی اسمبلی میں دفاعی بجٹ کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ منظور 85 قراردادوں میں 43 حکومتی اور 42 مختلف جماعتوں کے اراکین نے پیش کی تھیں۔ قومی اسمبلی میں پانچ سال کے دوران مجموعی طور پر 427 بلز پیش ہوئے، ان میں 222 حکومتی اور 205 پرائیویٹ ممبر بلز شامل ہیں۔ قومی اسمبلی 18 ویں، 19 ویں اور 20 ویں تین آئینی ترامیم منظور کیں۔ 13 ویں قومی اسمبلی نے اجلاسوں کی گولڈن جوبلی کا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف دو قائد ایوان رہے۔ اس طرح چودھری پرویز الٰہی، چودھری نثار علی خان، دو قائد حزب اختلاف دیکھے۔ عسکری قیادت نے ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی دفعہ اس پارلیمینٹ کو دو بار قومی سلامتی اور دفاع کے معاملے پر بریفنگ دی۔ آزاد خارجہ پالیسی پر 13 نکاتی متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے رہنما اصول وضع کئے۔ صوبائی خودمختاری میں پیش رفت اور آزاد و خودمختار الیکشن کمیشن کی تشکیل کو یقینی بنایا۔ منتخب جمہوری حکومت کے آخری روز اسلام آباد میں بڑی ہلچل رہی۔ حکومتی اور اپوزیشن کیمپوں میں قائدین سر جوڑ کر بیٹھے اور نگران حکومتوں اور ایک ہی دن انتخابات کرانے پر صلاح مشورہ کیا۔ آخری روز بلوچستان کے گورنر اور وزیراعلیٰ اسلام آباد میں موجود رہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں بلوچستان میں نگراں سیٹ اپ پر بات کی گئی۔ نگراں سیٹ اپ کے حوالے سے ن لیگ کی قیادت بھی متحرک رہی۔

قومی اسمبلی تحلیل

مزید : صفحہ اول