دہشت گردی کی لہر اور قومی لائحہ عمل

دہشت گردی کی لہر اور قومی لائحہ عمل

  



سال رواںکے آغاز کے ساتھ ہی یکم جنوری کو عائشہ منزل کراچی میں ہونے والے دھماکوں سے دہشت گردی کا جو سلسلہ شروع ہو ا تھا وہ نہ صرف رکنے میں ہی نہیں آرہا ،بلکہ اس کے بعد ہونے والے کم و بیش دہشت گردی کے17 واقعات میں کئی واقعات تو ایسے ہیں جن کے نتیجے میں بیسیوں لوگ جان بحق اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ یکم جنوری کو عائشہ منزل کراچی میں ہونے والے دھماکے میں چار افراد جاں بحق اور 45 افراد زخمی ہوئے تھے۔ حکومت کی طرف سے سال کے شروع میں ہی اس الم ناک آغاز پر کوئی مناسب حکمت عملی اپنانے اور آنے والے دنوں میں ہونے والے ان خطرناک حادثات کے سدباب کے بجائے سارا زور قوم کو متوقع دہشت گردی کی اطلاعات دینے پر صرف ہوتا رہا کہ فلاں شہر میں اتنی شدت کا اور اس نوعیت کا دھماکہ اور دہشت گردی کا واقعہ ہو سکتا ہے۔ اب ہزارہ ٹاﺅن کے بعد عباس ٹاو¿ن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 3مارچ 2013ءکی شام مغرب کی نماز کے بعد امام بارگاہ عباس ٹاو¿ن میں اس وقت دھماکہ ہوا جب مغرب کی نماز کا وقت تھا۔ اس دھماکے میں170 فلیٹس اور70 دکانیں تباہ ہو گئیں۔ پچھلے سال اسی جگہ18نومبر کو امام بارگاہ مصطفی میں بھی دھماکہ ہوا تھا۔

دہشت گردی کے ان حالیہ واقعات میں یہ بات قابل غور ہے کہ دہشت گردوں کا نشانہ کراچی اور کوئٹہ ہیں۔10جنوری کو کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے میں ہزارہ برادری کے86 افراد جان بحق ہوئے اور اس کی شدت کا یہ عالم تھا کہ اس واقعے کے نتیجے میں حکومت کو کوئٹہ میں صوبائی حکومت معطل کر کے گورنر راج لانا پڑا۔ لیکن نہ تو گورنر راج آنے کے باوجود ۱۰ جنوری کو ہونے والے دھماکوں کے مجرموں کا سراغ لگایا جا سکا اور نہ ہی مستقل طور پر اس طرح کے واقعات کا سدباب کیا جا سکا۔ حتی کہ 16فروری کو ہزارہ ٹاو¿ن ہی میں دوبارہ دھماکہ ہوا، جس میں 90افراد جان بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات میں کراچی اور کوئٹہ ہی کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ کراچی ہماری قومی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اس کی حیثیت ایک بین الاقوامی شہر کی ہے۔ سیاسی، معاشی اور سماجی لحاظ سے کراچی کی حیثیت پورے پاکستانی وجود میں مرکز کی حامل ہے۔ جب کراچی دہشت گردی کا شکار ہوتا ہے یا یہاں بدامنی پھیلتی ہے تو نہ صرف کراچی کے حالات متاثر ہوتے ہیں بلکہ اس کا اثر پورے ملک کی معیشت پر پڑتا ہے۔ اہمیت کے لحاظ سے ایسی ہی حیثیت کوئٹہ کی ہے۔ بلوچستان پچھلے کتنے عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے، لیکن اب کوئٹہ کے دہشت گردی کے واقعات کا مرکز بننے کے بعد بلوچستان کے مختلف حصوں میں ہونے والے واقعات کی شِدّت کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ایک اور نکتہ جو ان واقعات میں قابل غور ہے وہ یہ کہ یہ سارے بڑے واقعات ان جگہوں پر ہو رہے ہیں جن سے شیعہ آبادی متاثر ہو رہی ہے۔ اگرچہ عباس ٹاﺅن میں سُنی آبادی بھی نشانہ بنی ، جب بھی اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں تو سوائے اخباری بیانات، وقتی اور نمائشی بھاگ دوڑ اور ہڑتالوں اور تالہ بندی کے علاوہ کوئی موثر رد عمل سامنے نہیں آتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے علاقائی حالات اور یہاں کی مخصوص صورت حال جو پاکستان کے ہمسائے میں موجود ہے، کے نتیجے میں ایسے واقعات کرنے والوں کو موافق حالات میسر آتے ہیں۔ لیکن جب ہم اس طرح کے واقعات سے گزر رہے ہیں اور اب سرحدوں پر ہمیں سیکورٹی کی ناگفتہ بہ صورت حال کا سامنا ہے ضروری ہے کہ ہمارے اقدامات مو¿ثر ہوں اور ہم عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے عام اور نارمل حالات کی نسبت زیادہ مستعد اور چوکنے ہوں، لیکن یہاں صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں تو کسی بڑے واقعے کے بعد ہی عوامی احتجاج حکومت کو اپنی ترجیحات میں کہیں نہ کہیں عوام کے جان و مال کے تحفظ کو جگہ دینے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کا ایک بڑا ثبوت کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر ہونے والے حملے اور دھماکے ہیں کہ جب احتجاج اپنی انتہا کو پہنچا تو حکومت نے عوامی مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے صوبائی حکومت کو بھی بر طرف کر دیا۔ وزیر اعظم خود کوئٹہ ہزارہ برادری کے پاس ان کی اشک شوئی کے لئے پہنچ گئے، لیکن کیا اس سے ان واقعات کا سدباب ہوا یا اس سے ظاہری اور نمائشی اقدامات سے بڑھ کر کوئی مو¿ثر حکمت عملی بھی سامنے آئی یا ہر اس طرح کے بڑے سانحے کے بعد حکومت نے کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بناتے ہوئے عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا یہی لائحہ عمل ہمیشہ اختیار کئے رکھنا ہے۔

پاکستان کے امیج کو اقوام عالم میں بحال رکھنے، عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے اس طرح کے واقعات کا مستقل طور پر سدباب کرنے کے لئے ہمیں جامع، موثر اور نتیجہ خیز حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے ان واقعات کے سدباب کے لئے وہی حکمت عملی سود مند اور نتیجہ خیز ہو گی جس میں دہشت گردی کے واقعات کے تمام پہلوﺅں کو پیش نظر رکھا گیا ہو اور ان کے تمام امکانات کا سدباب کیا گیا ہو ۔ ہمیں کچھ اقدامات عوامی سطح پر کرنے ہوں گے اور کچھ اقدامات حکومتی سطح پر۔ عوامی سطح پر ایسے اقدامات جن سے ان واقعات کا سدباب ہو سکے اور اس کا بھی خیال رکھنا ہو گاکہ ان واقعات سے خدا نخواستہ قوم میں مایوسی، نفرت، تفرقہ بازی اور باہمی منافرت اور تعصب نہ پیدا ہو ۔ اس میں اہم کردار علماءکا ہے، کیونکہ یہ بات قابل غور ہے کہ ان واقعات میں مذہب کے عنصر کو غلط طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ جب کسی بھی جگہ دہشت گردی کا واقعہ ہو یا اس طرح کا سانحہ ہو تو اس کی قومی سطح پر ہر مکتبہ ¿ فکر کے علماءکھلے انداز سے واضح طور پر مذمت کریں۔ اگر اجتماعی سطح پر علماءاور مختلف مسالک کے نمائندہ رہنما اپنے سیاسی ،جماعتی اور مسلکی مفادات سے قطع نظر قومی وقار، سلامتی، عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ترجیح بناتے ہوئے اس طرح کے واقعات اور انکے ذمہ داروں کی کھل کر مذمت کریں تو اس سے نہ صرف قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا ،بلکہ اس طرح اجتماعی ،عوامی، مسلکی اور جماعتی رد عمل آنے پر دہشت گردی کے واقعات کا ارتکاب کرنے والوں کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی۔

عوامی سطح پر دوسرا بڑا اہم پہلو اجتماعات کا انعقاد ہے۔ ہر وہ اجتماع جس کے اس طرح کے دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بننے کا امکان ہو اس کے انعقاد میں غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے جب تک ہمارا ملک دہشت گردی کے ان واقعات کی زد سے نکل نہیں جاتا ہمیں اس طرح کے اجتماعات کے انعقاد میں احتیاط کرنی چاہئے۔ تاکہ دہشت گردوں اور اس طرح کے سانحات کا ارتکاب کرنے والوں کو کم سے کم ایسے مواقع میسر ہوں کہ وہ اجتماعی آبادی کو نشانہ بنا سکیں ۔اس کی ایک مثال پچھلے سال18نومبر کو اسی جگہ امام بارگاہ عباس ٹاو¿ن ہی میں ہونے والا واقعہ ہے جو عباس ٹاو¿ن کی امام بارگاہ مصطفی میں ہوا، لیکن اس دھماکے نتیجے بہت کم افراد یا املاک کو نقصان پہنچا۔

حکومتی سطح پر جن اقدامات کی ضرورت ہے وہ براہ راست حکومتی اہلیت سے متعلق ہیں۔ اگر حکومت اپنی ترجیح دہشت گردی کے واقعات کے خاتمے کو قرار دے دے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ ہمارے ادارے جو ماضی میں بھی بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں، اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اگر سیکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کو ہر طرح کی مصلحت سے بالا تر ہو کر دہشت گردی کے خاتمے کا ٹاسک دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان واقعات کا سدباب کر سکیں اور ان کے ذمہ دار مجرموں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دے سکیں، جس سے ہمارا معاشرہ امن و سکون کا نمونہ بن سکتا ہے۔    ٭

مزید : کالم