میرا دُلارا دُلا بھٹی

میرا دُلارا دُلا بھٹی
میرا دُلارا دُلا بھٹی

  



فرائیڈکہتا ہے خبط عظمت میں مبتلا انسانوں کے لئے کسی کی صلاحیت کا اعتراف کرنا نہایت دشوار امر ہے۔عظمت سے کوسوں دور مجھ نامعقول ناہجار کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے کہ جس کی شہرت چہار دانگ عالم میں پھیل رہی اور اس کے عقیدت مند اس کی محبت بھری ایک نظر کو سرمایہ افتخار گردانتے ہیں، وہ مجھے ایک عام انسان ہی معلوم ہوتا ہے....لیکن ایسا انسان جو کڑی تپسیا سے خود کو اس قابل بنا گیا کہ خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق کو سمجھ سکے۔مَیں نے پہلی بار اسے دیکھا تو وہ مجھے ایسا شعبدہ باز محسوس ہوا جو چرب زبانی سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا رہا ہے، اس کے گرد عقیدت مندوں کا جم غفیر تھا اور وہ اس سے بھرپور عقیدت کا اظہار کررہے تھے، لیکن مَیں نے ایسا کچھ نہ کیا،جس پر اس نے مجھے غور سے دیکھا اور کہا:مَیں بھی بالکل تمہاری طرح تھا۔حد سے زیادہ سوچنا اور Gray Zoneمیں رہنا میرا بھی شعار تھا ۔دراصل تمہارے جیسے پڑھے لکھے لوگوں کا مسئلہ یہی ہے کہ تم لوگوں کی صلاحیتوں کے اس وقت تک معترف نہیں ہوتے، جب تک انہیں پرکھ نہ لو (حالانکہ وہ خود بھی نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور تین مضامین میں ماسٹرز کررکھا ہے) مَیں نے اثبات میں اور خود سر ہلایا اور خود مَیں اور اس میں کوئی قدر مشترک تلاش کرنے کی کوشش کی جو مجھے جلد ہی مل گئی اور وہ قدر مشترک ہے تلاش.... برسوں پہلے جب مَیں نے ایک انگریزی نظم تحریر کی تو مَیں اس کے اصل معانی و مفاہیم سے نہ آشنا تھا،لیکن میری وہی نظم اب مجھے اپنے پیارے دلا بھٹی سے قریب اور قریب کرتی جارہی ہے۔چند لائنیں پیش خدمت ہیں:

Where are you?

Iam a wanderer

Wandering here and there

In scarch of you

But found you no Where

Where are you?

Some times I feel you near

But Where?

I know never

I had a connection with you

In the world of Sprits

Then

Hope to find you here

But where?

I know never

where are you?

 مَیں نے اپنے مرشد حضرت ساجد حسین شاہ کا تذکرہ جب عبداللہ بھٹی کے سامنے کیا تو اس نے بڑی خوبصورت بات کہی کہ مرشد کوئی بھی ہو، اللہ سے تعلق اسی وقت مضبوط ہوگا،جب مرشد کی کامل اطاعت کی جائے گی۔مَیں نے کہا کہ مَیں ذاتی طو ر پر ان صوفیاءاور فقیروں کے خلاف ہوں، جو کشف و کرامات کو اپنا حلقہ ادارت بڑھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں تو اس نے مجھ سے اتفاق کیا۔

مَیں ذاتی طور پر اس خیال کا حامی ہوں اور کشف القلوب اور کشف القبور کی منازل طے کرنے والے اولیاءاللہ کی اکثریت بھی اس بات کی قائل رہی ہے کہ روحانیت کو پیش گوئیوں، قیافہ شناسی اور علم النجوم کے ساتھ غلط ملط نہ کیا جائے، بلکہ اسے اللہ اور بندے کے مابین تعلق کو بڑھاوا دینے کے لئے استعمال کیا جائے۔ہمارے شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ کشف القلوب اور کشف القبور تو ابتدائی مدارج ہیں اور ان کا حصول بھی چنداں مشکل نہیں، لیکن ان کے حصول کے بعد خود کو سنبھالنا بہت مشکل ہے۔ شاہ صاحب کے بقول روحانیت کی 101منزلوں میں کشف القلوب کا نمبر17واں ہے،لیکن اس کا حصول انسان کی عاجزی و مسکنت کو ختم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

یاد رہے طریقت، حقیقت اور فنایت کی منازل اسی وقت طے کی جا سکتی ہیں، جب شریعت پر عمل کیا جائے۔ فنا فی اللہ اور فنا فی الشیخ کے مدارج کو طے کرنے کے لئے شریعت کو نظر انداز کردینے والے تمام عمر بھٹکے ہی رہے ہیں۔مقام طمانیت ہے کہ عبداللہ بھٹی بھی اسی راہ پر لوگوں کو چلا کر اللہ سے ان کے تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔اس کے عقیدت مندوں میں بیورو کریٹس، نامور صحافی، قانون دان، بڑے بڑے صنعت کار، سیاست دان اور نجانے کون کون شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ عاجزی و انکساری کا پیکر ہے۔ملک کے نامی گرامی صحافیوں نے اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا، لیکن وہ ان سب سے بے نیاز رہتا ہے۔اس کے عقیدت مندکوہ گراں میرے مقابلے میں کہیں بلند مرتبت ہیں، لیکن مجھے مذاقاً کہنے لگا کہ مَیں اپنے بارے میں تمہاری رائے کا منتظر رہوں گا۔میری اور اس کی ابتدائی ملاقاتوں میں مَیں نے اس کی شخصیت کے کمزور پہلوﺅں (جو بشریت کے تقاضے کے مطابق ، کسی میں بھی پائے جا سکتے ہیں، ماسوائے انبیاءکے)کو بھی مدنظر رکھا، لیکن اس کے باوجود میرا اور اس کا تعلق بڑھتا ہی گیا۔حضرت شاہ صاحب اور ان کے خلیفہ نور الدین کے بعد عبداللہ بھٹی ہی کی بدولت مجھے قرآن کی وہ آیت بار بار یاد آتی ہے۔

الاان اولیاءاللہ لاخوف علیہم ولاہم یحزنون

اور جو ہمارے دوست ہیں ،انہیں نہ کوئی خوف لاحق ہے نہ ہی ملال۔

حضرت شاہ صاحب کو اپنا مرشد مان لینے کے بعد میں اگرچہ عبداللہ بھٹی کے روایتی عقیدت مندوں میں تو شامل نہیں، لیکن میری خواہش ہے کہ وہ روحانیت کا فیض اسی طرح بانٹتا رہے اور اس کا اور میرا تعلق مزید مضبوط ہوتا رہے۔     ٭

مزید : کالم