انتخابات اور طالبان

انتخابات اور طالبان
انتخابات اور طالبان

  


کیا طالبان عام انتخابات میں قومی قیادتوں پر حملہ آور ہوں گے؟۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق ایسے کئی منصوبے پنپ رہے ہیں۔ مستقبل کے مذاکراتی عمل سے باہر رہنے والے طالبان کے چند گروپ، میاں محمدنواز شریف، میاں شہباز شریف ، حمزہ شہباز شریف اور یوسف رضا گیلانی کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کر سکتے ہیں۔ اس بار بڑی کارروائی کی شروعات لاہو ر سے کی جائیں گی۔ غیر مستحکم پاکستان نہ صرف انہیں قوت بخشے گا، بلکہ خوف و ہراس کی کیفیت اپنا آپ منوانے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔ طالبان کبھی بھی کمزور نہیں پڑے تھے۔اگرچہ ان کی پسپائی بارے پاکستانی میڈیا نے دنیا کو ہر اہم موقع پر یہی باور کروایا۔ اگر طالبان کمزور ہوتے تو شمالی علاقوں میں حکومت کے مقابل نیٹ ورک قائم نہ کر سکتے۔ نیٹ ورک بھی ایسا جو شہروں کے اندرونی معاملات اور لاءاینڈ آرڈرسے لے کر افغان تجارت تک اثر و رسوخ کا حامل ہے۔

طالبان اس وقت تک کمزور نہیں ہوں گے جب تک کہ افغانستان میں باضابطہ مذاکراتی عمل شروع نہیں ہوتا۔ فی الوقت طالبان امریکی پیشکش اور حامد کرزئی کی مذاکراتی دعوت کو پھندے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ افغانستان میں دو پھندے کام کر رہے ہیں۔ دونوں ہی افغان ہیں۔ ایک طالبان اور دوسرا حامد کرزئی انتظامیہ۔ افغان جنگ سے قبل امریکی ، برطانوی حکمرانوں کو افغانستان بارے جو سیاسی، سماجی اور معاشی بریفنگ دی گئی وہ بڑی حوصلہ افزا تھی۔ اسی بریفنگ کی بنیاد پر دونوں ممالک نے اتحادیوں کو اعتماد میں لیا۔ بنیادی نکات میں القاعدہ کا خاتمہ،ہم خیال طالبان کو قومی دھارے میں لانے کی کوششیں، مغرب نواز مستحکم حکومت کا قیام،مستقل فوجی اڈوں کی تعمیر اور اربوں ڈالرز کے معدنی ذخائر تک رسائی تھا۔ انہی معدنی ذخائر میں حصہ داری کی بنیاد پر اتحادیوں نے جنگ میں شمولیت کی حامی بھی بھری۔ لیتھیم، کاپر، گولڈ، آئرن اور قیمتی پتھروں کے ذخائر نکالنے کے لئے اتحادی ممالک نے باقاعدہ شرائط پیش کیں۔ ان شرائط کا واشنگٹن، لندن میں جائزہ لیا گیا اور بالآخر باقاعدہ کوٹوں کی صورت اتحادی ممالک کو معدنیات تک رسائی کے پروانے جاری کر دیے گئے۔ یہ کام اتنی سرعت سے کیا گیا کہ افغان معدنیات کو نکالنے کے لئے اقوام متحدہ کے وضع کردہ اصول و ضوابط تک کی بھی پرواہ نہیں کی گئی۔نئے وسائل کی اپنے ممالک تک بحفاظت منتقلی کے لئے ان اتحادی ممالک نے اپنے فوجی دستے افغانستان بھیجنا شروع کر دیئے۔ فوجیوں کی حفاظت کے لئے ہر ملک نے یا تو اپنی پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کا سہارہ لیا یا افغانستان میں پہلے سے موجود امریکن سیکیورٹی کمپنیوں کی خدمات سے استفادہ کیا گیا۔ بظاہر ان سیکیورٹی کمپنیوں کے اہلکاردلیر اور اعلی تربیت یافتہ تھے۔ تاہم ابتدائی دنوں میں اُٹھائے گئے جانی اور مالی نقصان کی بدولت انہیں جلد ہی اندازہ ہوگیا اپنے ٹاسک کو پورا کرنے کے لئے افغان مسلح گروپوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ اس مقصد کے لئے انہیں زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑی۔ افغان گروپوں نے خود ہی ان سے روابط شروع کر دیئے۔ ان گروپوں میں وہ طالبان بھی شامل تھے جو رات کے اوقات میں امریکنوں پر حملے کرتے اور صبح کے وقت ان اتحادی ممالک کے فوجیوں کی حفاظت کرتے جن کے ساتھ مالی معاملات طے پا چکے ہوتے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ان گروپوں نے فی گھنٹہ کی بنیاد پر بھی خدمات فراہم کرنا شروع کر دیں۔ پاکستان میں خونریزی کرنے والوں کی اکثریت انہی ”رینٹ اے طالب“ گروپس پر مشتمل ہے۔

کرزئی انتظامیہ کی نظروں سے یہ کاربار پوشیدہ نہیں تھا۔ جلد ہی وہ حفاظتی مسلح گروپ بھی اس کاروبار میں شریک ہوگئے، جن کی پشت پناہی کرزئی انتظامیہ کر رہی تھی۔ اتحادیوں کی حفاظت کے نام پر معرض وجود آنے والے گروپوں کی کاروباری رقابت نے معاملات کو مزید ابتر کیا۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ساکھ خراب کرنے کی خاطر جھوٹی مخبریوں کے ذریعے شادیوں اور جنازوں پر بمباریاں کروائی گئیں۔ معصوموں کی ہلاکت کا سارا ملبہ امریکنوں پر پڑا۔ امریکہ کو اقوام عالم میں بار بار صفائی دینا پڑی۔خود کو بچانے کی خاطر امریکہ نے کبھی ان غلطیوں کا بوجھ پاکستان کی طرف شفٹ کیا، کبھی نیٹو پائلٹوں کی کوتاہی قرار دیا، کبھی سی آئی اے کے افغان یونٹوں کو مورد الزام ٹھہرایا اور کبھی جرنیل، سیاستدان آمنے سامنے آجاتے رہے۔ یاد رہے سبکدوش جنرل میک کرسٹل کو جب فوجی کمان سونپی گئی تھی، تو توقع کی جا رہی تھی، وہ معاملات کو بتدریج نارمل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، لیکن افغان پھندہ ان کی گردن کے گرد اس قدر کس دیا گیا وہ امریکن فوج کا تشخص، اعتماد اور مستقبل بچانے کی خاطر سیاست دانوں، پالیسی میکروں پر برس پڑے۔ جنرل کے رویے کو دیکھتے ہوئے امریکن کانگریس کو خدشہ لاحق ہوگیا اگر جنرل سے فی الفور اختیارات واپس نہ لئے تو اندیشہ تھا وہ کوئی ایسی بات نہ کہہ جاتے جو طالبان کے حوصلے مزید بلند کر دیتی۔

طالبان کے عام تشخص سے ہٹ کر یہ حقیقت بدستور موجود ہے کہ مالی اور کاروباری معاملات میں یہ کایاں تاجروں کی مانند پوری طرح حاضر دماغ ہیں۔ یہ تصور کچھ اتنا پائیدار نہیں کہ القاعدہ نے مالی چمک کی بنیاد پر طالبان کو شکنجے میں جکڑا تھا۔ درحقیقت طالبان خود ہی اس شکنجے میں جکڑنے پر آمادہ تھے۔ ان کی نظریں اسامہ بن لادن کے نظریات اور وسائل پر جمی تھیں، انہی چیزوں کی خاطر نہ تو انہوں نے پاکستان کی پرواہ کی ، نہ سعودی عرب کے مشوروں پر کان دھرا اور نہ ہی مستقبل میں بھی ایسا کریں گے۔ اسامہ بھی اپنی دولت یونہی نہیں لٹا رہے تھے۔ اپنے انجینئرنگ بیک گراﺅنڈ کی بدولت وہ افغانستان میں چھپے قدرتی وسائل کو بہت پہلے بھانپ چکے تھے۔ کلنٹن دور حکومت میں انہی ذخائر کا معاملہ طے کرنے کے لئے افغان وفد سرکاری دورے پر امریکہ بھی گیا۔ وہاں نہ صرف اس وفد کو بھرپور پروٹوکول دیا گیا، بلکہ ایک فائل بھی پیش کی گئی جس میںامریکن اور افغان حصہ داریوں کی تفصیلات بھی درج تھیں۔ بات آگے کیوں نہ بڑھ سکی؟ اصل حقیقت ملا عمر ، رشید دوستم ، حکمت یار اور آئی ایس آئی جانتی ہے۔

افغانستان کے معاملات وہیں پہنچ چکے ہیں جہاں سے شروع ہوئے تھے۔ گذرے سالوں میں فریقین کے حصے سواءتباہی و بربادی کے کچھ نہیں آیا۔ اب دیکھنا یہ ہے امریکن حکومت اس واضح ہزیمت سے کس طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوتی ہے جو آنے والے دنوں میں نیم دل اتحادیوں کی جانب بڑھتی نظر آرہی ہے۔ اس موقع پر اگر امریکن انتظامیہ نے کوئی انتہائی قدم اٹھانے کی کوشش کی تو دہشت گردی کے خلاف جنگ راتوں رات کسی اور سمت کو بھی نکل سکتی ہے۔ امریکن فوج کا ردعمل اور بارک اوبامہ کی گرتی ساکھ بہت کچھ نیا بھی دکھا سکتی ہے۔ افغان پھندے سے بچاﺅ اوباما کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

دوسری طرف اگر امریکہ، طالبان مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں تو پاکستانی ریاست اور سیاست دانوں کا امتحان بھی شروع ہو جائے گا۔ افغانستان کے بعد طالبان اپنی فکر کو پاکستان میں پھیلانے کے بھی خواہشمند ہوں گے۔ پاکستان کے موجودہ حالات اس سوچ کے پھیلاﺅ میں مزید معاونت کریںگے۔آنے والے دنوں میںیہ توقع بھی کی جا سکتی ہے کہ ملا عمر کی جانب سے انتخابات تک پاکستان میں کارروائیاں روکنے کے احکامات جاری کر دیئے جائیں، لیکن اس چیز کی کوئی گارنٹی نہیں کہ طالبان کے باغی گروپ بھی ان احکامات کو مانیں۔ اس انتخابی سیزن میں نامور سیاستدانوں اور قریبی عزیزوں کے اغواءکا خطرہ بھی بدستور موجود رہے گا۔ شورش پر آمادہ ان باغی گروپوں کے لئے یہ آخری موقع ہے۔ نئی حکومت کراچی سمیت ان تمام علاقوں میں رٹ قائم کرے گی جہاں سانس لینا تک دشوار ہوچکا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو ان گروپوں کو مرو یا مار دو کی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔   ٭

مزید : کالم