عدم صاحب: کچھ مزید باتیں اور یادیں!

عدم صاحب: کچھ مزید باتیں اور یادیں!
عدم صاحب: کچھ مزید باتیں اور یادیں!

  



حضرت عبدالحمید عدم سے میرا تعلق خاطر لگ بھگ اٹھارہ بیس برس پر محیط رہا۔اس دوران میں بہت سے کل پاکستان مشاعروں میں ان کے ساتھ ہمسفری کا شرف بھی حاصل ہوا۔ ساہیوال، سرگودھا، جوہرآباد، گوجرانوالہ، گجرات،ملتان، میاں چنوں، لالہ موسیٰ، سکھر اور بھی نجانے کہاں کہاں؟

لاہور کا ایک مقامی مگر بہت بڑا مشاعرہ میری یادوں میں ابھی تک گھوم رہا ہے۔مال روڈ پر واقع وائی ایم سی اے کی بلڈنگ کی اوپری منزل کے وسیع و عریض ہال میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا،جس کے منتظمین میں جزوی طور پر میرا بھی عمل دخل تھا۔کوشش یہ کی گئی تھی کہ لاہور کا کوئی نامور شاعر شرکت سے رہ نہ جائے،چنانچہ مشاعرہ ہوا اور خوب ہوا۔سارا ہال سامعین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، سٹیج پر شعرائے کرام براجمان تھے۔مشاعرہ ابتدا ہی سے عروج پر تھا کہ میں نے اسٹیج سے دیکھا،حضرت عدم ہال میں داخل ہورہے ہیں مگر کچھ یوں کہ دو نوجوان انہیں دائیں، بائیں دونوں بازوﺅں سے تھامے ہوئے ہیں، وہ نوجوان بڑی مشکل سے عدم صاحب کو اسٹیج پر چڑھانے میں کامیاب ہوئے۔ عدم صاحب مہمان خصوصی کے صوفے میں یکدم پوری طرح دھنس گئے۔صاحب صدارت سے پہلے عدم صاحب نے اپنا کلام سنایا۔کچھ خود اپنی پسند سے سنایا، زیادہ تر فرمائشی سنایا۔خوب خوب داد کے ڈونگرے ان پر برسے۔کئی قطعات اور غزلوں کے بعد آخر میں عدم صاحب نے ایک نظم سنائی۔نظم اگرچہ مشاعرے کی چیز نہیں ہوتی، مگر عدم صاحب نے نظم کے بھی ہر ہر مصرعے پر نُدرتِ فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامعین کواپنی پکڑ میں رکھا۔رواں دواں بحر میں وہ مقبولِ عوام نظم کچھ یوں تھی[اشارتاً لکھ رہا ہوں،صحیح مکمل یاد نہیں]....

شیخ صاحب خدا خدا کیجے!

یہ حسین عورتیں، یہ تصویریں

رحمتِ ایزدی کی تفسیریں

یہ جہنم میں جانے والی ہیں؟

آپ کی منطقیں نرالی ہیں؟

شیخ صاحب خدا خدا کیجے!

یہ مشاعرہ مجموعی طور پر عدم صاحب کے ہاتھ رہا۔اختتامِ مشاعرہ پر بھی انہیں سہارا دے کر اسٹیج سے نیچے اتارا گیا۔سامعین کی اگلی صف میں سے ایک بہت ہی پُرکشش خاتون اچانک آگے بڑھیں اور بے ساختہ عدم صاحب کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر چومنے لگیں۔گویا زبانِ حال سے کہہ رہی ہوں:

اے مصور ترے ہاتھوں کی بلائیں لے لوں

خوب تصویر بنائی مرے بہلانے کو

جوں جوں وہ عدم صاحب کے ہاتھ تھامے ان کی شاعری پر تعریفوں کے پُل باندھتی گئیں۔ عدم صاحب انکسار اور عاجزی کی مجسم تصویر بنے جھکے جھکے ، مخمور انداز میں، والہانہ پن سے کہتے رہے:

”حضور! مَیں آپ کا غلام،مَیں آپ کا کُتا“۔

مَیں اس سارے عقیدت بھرے منظر کو پاس کھڑا حیرت و افسوس کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔افسوس یوں کہ عدم صاحب ہنوز مکمل طور پر ”ام الخبائث“ کی گرفت میں تھے۔ان کی ڈھیلی ڈھالی پتلون اوپر سے پائینچوں تک تربتر تھی اور پائینچوں کی تری فرشِ زمین کو بھی گیلا کررہی تھی، مگر عدم صاحب شرمندگی والی اس ساری صورت حال سے یکسربے نیاز تھے اور اپنی مداح خاتون کے عقیدت مندانہ اظہار ستائش پر مسلسل گردان کئے چلے جارہے تھے:

”مَیں آپ کا غلام، مَیں آپ کا کُتا“۔

اگلی ملاقات پر جب مَیں نے عدم صاحب کو کئی روز پہلے کی بظاہر ”رات گئی بات گئی“ والی مخصوص کیفیت یاد دلائی اور کہا کہ ” عدم صاحب! مَیں آپ کا ناصحِ مشفق ہوں نہ ظالم محتسب، ایک انتہائی خورد نیاز مند کے طور پر آپ سے التجا کرتا ہوں کہ کم از کم مشاعرے میں تو آپ بقائمی ہوس و حواس شریک ہوا کریں۔آپ کو تو اپنی وارفتگی میں کچھ احساس نہیں ہوتا،آپ کے مداح عقیدت مند اور مجھ جیسے نیاز کیش بڑی خفت محسوس کرتے ہیں“....!

عدم صاحب میرا یہ وعظ تحمل سے سن کر گویا ہوئے:

”میرے عزیز! ٹھیک ہے مَیں کوشش کروں گا کہ ہمیشہ کے لئے ہی اسے چھوڑ دوں،اگرچہ:

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

پھر یوں ہوا کہ اس مکالمے کے خاصی مدت بعد جوہرآباد کے کل پاکستان مشاعرے میں، مشاعرے سے قبل پروفیسر توصیف تبسم، مُحبی اظہر جاوید مرحوم اور میرے سامنے، اپنے میزبان حضرتِ جوہر نظامی کی طرف سے خاص طور پر کہیں سے مہیا کی گئی بوتل کا کاگ کھلنے سے پہلے عدم صاحب نے جوہرنظامی صاحب کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے اپنی موعودہ توبہ کے پس منظر میں یوں درخواست کی ”حضور! گڑھا کھود کر اس بوتل کو بند کا بند زمین میں دفن کردیجئے“....! ترکِ مے نوشی کا یہ عجیب و غریب منظر تھا، جس کا میں نے زندگی میں پہلی بار مشاہدہ کیا۔حیرت مجھے اس بات پر تھی کہ عدم صاحب نے عام روایتی انداز میں جام توڑنے اور صہبا کو پھینکنے کی بات نہیں کی، بلکہ سالم بوتل کو دفن کرنے کے لئے کہا، وگرنہ تو ایسے موقعوں پر محتسب سے منت خوشامد کی جاتی تھی:

اے محتسب نہ پھینک ! مرے محتسب نہ پھینک!

ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے

عدم صاحب ترک بادہ نوشی کے اس ”حادثے“ کے بعد چندبرس ہی زندہ رہ سکے۔وہ کیونکہ پہلے ہی سے آئندہ نسلوں کے حصے کی بھی پی چکے تھے، اس لئے بغیر پئے بھی تادمِ مرگ پئے ہوئے ہی لگتے تھے۔گویا:

اب عدم کا یہ حال ہے ہر وقت

مَست رہتا ہے چُور رہتا ہے

عدم صاحب سے وابستہ بہت سی یادوں میں ایک اور قابل ذکر یاد”انٹرنیشنل ہومیو پیتھک میڈیکل کالج“ کے یادگار مشاعرے کی بھی ہے۔یہ کالج میرے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کے سامنے کی ایک بلڈنگ میں ”عرب ہوٹل“ اور قومی کتب خانے کے دفتر کی لائن میں تھا۔میں سیکنڈ ایئر کا امتحان دے کر امتحان کے نتیجے تک کالج سے تو فارغ تھا ،مگر ”عرب ہوٹل“ کی نشست باقاعدہ جاری تھی۔اس کے لئے ہر روز مجھے ماڈل ٹاﺅن سے ریلوے روڈ تک آنا ہوتا تھا۔یونہی ایک روز بلا اختیار و ارادہ مَیں انٹرنیشنل میڈیکل کالج میں جا پہنچا کہ چلو”ہومیوپیتھک ڈاکٹر“ ہی بن جائیں۔وہاں گلزار عابد نامی ایک انتہائی خوبصورت، بلی آنکھوں والے نوجوان نے پذیرائی کی اور بتایا کہ وہ بھی شعر کہتے ہیں، یوں پہلی ہی ملاقات میں برسوں کی دوستی قائم ہوگئی۔مرزا اظہر برلاس کالج کے مالک اور پرنسپل تھے جو زیادہ تر لندن میں رہتے تھے۔گلزار عابد ہی کالج کو چلاتے تھے اور بڑی فراخدلی سے ہومیو ڈاکٹر کی ڈگری مقررہ فیس لے کر چند ہفتوں بلکہ دِنوں میں جاری کردیتے تھے۔چنانچہ دو عدد ڈاکٹر،ڈاکٹر رشید انور اور ڈاکٹر رشید کامل تو میرے سامنے بلکہ میرے توسط سے ہی ”ڈاکٹر“ بنے! مَیں نے خود کبھی اس ڈگری کے طفیل ”ڈاکٹر“ کا لاحقہ نہ لگایا ،نہ پسند کیا۔کیونکہ اس ”ریپڈ سروس“ ڈاکٹری کی آئندہ حالت کو مَیں ”ریپڈ میٹروبس“ کی صورت میں چشم تصور سے دیکھ رہا تھا۔تاہم میرے ایک بڑے بیٹے نے سول انجینئر کی تعلیم کے بعد باقاعدہ چار سال کا مکمل کورس پاس کرکے ہومیو پیتھک کی ڈگری ضرور حاصل کی ہے اور وہ بجاطور پر ڈاکٹر[ہومیو] کا لاحقہ لگانے کا حق دار ہے۔اس نے غریبوں کے مفت علاج کی خاطر”حسن کلینک“ کھول کر پریکٹس بھی شروع کر دی تھی، مگر بھتہ مافیا، قبضہ گروپ اور دہشت گرد بدمعاشوں بلکہ ٹارگٹ کلر نے پنپنے نہ دیا تو غریبوں کے مفت علاج کا جو بھوت بیٹے کے سر پر سوار تھا، وہ اُتر گیا!

مَیں اپنی یادنگاری کے سلسلے میں موضوع سے ذرا دور چلا گیا، مگر خیر، آمدم برسرِ مطلب۔ انٹرنیشنل میڈیکل کالج میں میں نے ”بزمِ شعرو سخن“ کی بنیاد رکھ کر بزم کی صدارت خود سنبھالی، گلزار عابد، جنرل سیکرٹری قرار پائے۔بزم کا پہلا ہی مشاعرہ ہٹ مشاعرے کی صورت میں منعقد ہوا۔انڈیا سے آئے ہوئے ساحر ہوشیار پوری مہمان خصوصی تھے۔ عدم صاحب صدرِ محفل تھے اور شعراءکا فی البدیہہ منظوم تعارف کرانے والے قمر صدیقی نظامت کار تھے....مشاعرے کے آخر میں عدم صاحب کے رشید انور نامی ایک مداح نے اجازت چاہی کہ وہ گھڑے ،مٹکے پر گاتے بجاتے ہیں اور عدم صاحب کی ایک غزل اسی سازوآواز کے ساتھ سنانا چاہتے ہیں غزل تھی:

میکدہ تھا، چاندنی بھی، مَیں نہ تھا

اک مجسم بے خودی تھی میں نہ تھا

طُور پر چھیڑا تھا جس نے آپ کو

وہ مری دیوانگی تھی میں نہ تھا

وہ حَسیں بیٹھا تھا جب میرے قریب

لذتِ ہمسائیگی تھی میں نہ تھا

میکدے کے موڑ پر رُکتی ہوئی

مُدتوں کی تشنگی تھی میں نہ تھا

مَیں اور اس غنچہ دہن کی آرزو

آرزو کی سادگی تھی مَیں نہ تھا

رشید انور نے گھڑے اور مٹکے پر اپنی خوش الحانی سے ایسا سماں باندھا کہ عدم صاحب نے دس کا ایک نوٹ ”ویل“ کے طور پر ان کی نذر کیا۔بعد میں رشید انور نے اس نوٹ پرعدم صاحب کے دستخط بھی کرا لئے اور نوٹ کو فریم کراکے تادم آخرحرزجاں بنائے رکھا جبکہ وہ گائیک رشید انور سے ڈاکٹر رشید انور کے نام سے پنجابی کے بے حد مشہور و مقبول شاعر ہوچکے تھے اور جنگ 65ءمیں ان کی ایک نظم نے پاک و ہند میں تہلکہ مچا دیا تھا:

”مہاراج اے کھیڈ تلوار دی اے

جنگ کھیڈنئی ہوندی زنانیاں دی“

1963ءمیں منعقدہ انٹرنیشنل ہومیو پیتھک میڈیکل کالج کے اس مشاعرے نے رشید انور کو آئندہ کامشہور شاعر بھی بنایا اور ”ڈاکٹر“ بھی....!

عدم صاحب کے حوالے سے اور کیا کیا باتیں یاد کروں؟

لذیذ بُود حکایت دراز تر گفتم....اس مشاعرے کے 22برس بعد انڈیا کے مشہور شاعر ساحر ہوشیار پوری سے 1985ءمیں دہلی کے ایک عالمی مشاعرے میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے لاہور کے متذکرہ مشاعرے کا بھی ذکر کیا جو انہیں بخوبی یاد تھا۔پھر اپنی بے حد مخلصانہ میزبانی کا شرف بخشتے ہوئے دہلی کے معززین کو جمع کرکے اپنے دولت کدے پر اس سے کہیں بڑھ کر پذیرائی کی،جو مَیں نے لاہور میں کی تھی۔انہوں نے اپنے کئی اردو شعری مجموعے بھی مجھے دستخطوں کے ساتھ محبت سے پیش کئے اور کہا کہ ”میرے مل اونر،متمول ترین بیٹے میرے اُردو مجموعوں کے نام بھی اردو میں نہیں پڑھ سکتے، انڈیا میں اب اردو کا کیا مستقبل رہ گیا ہے؟.... قیاس کرلیجئے!میری اردو کتب کی بہت بڑی ذاتی لائبریری ہے، آپ چاہیں تو ساری کتابیں اپنے ساتھ پاکستان لے جائیں!“.... ساحر ہوشیارپوری(آنجہانی) سے اس تعلق خاطر کا سبب بھی حضرت عدم ہی تھے۔نہ مَیں انٹرنیشنل میڈیکل کالج میں عدم صاحب کی صدارت میں مشاعرہ کراتا نہ ظہیر کاشمیری، خیال امروہوی اورقمر صدیقی انڈیا سے اتفاقیہ طور پر آئے ہوئے مہمان ساحر ہوشیارپوری کو اپنے ہمراہ لاکر مہمان خصوصی بنواتے، نہ آگے چل کر مشہور شاعر کی حیثیت سے ساحر ہوشیارپوری دلی میں ناصر زیدی کی پذیرائی کرتے۔  ٭

مزید : کالم