عوام مٹی کے مادھو نہ بنیں!

عوام مٹی کے مادھو نہ بنیں!
عوام مٹی کے مادھو نہ بنیں!

  



قومی اسمبلی اور حکومت کا آئینی عرصہ ختم ہوگیا، مگر آخری دنوں میں جس طرح لوٹ مچائی گئی اور طبقہءاشرافیہ نے سارے فیصلے اپنے مفادات کے لئے کئے ، اس سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ہمارے عوامی نمائندے کسی بھی طرح عوامی نمائندگی کے معیار پر پورا نہیں اُترتے۔ بجائے مہنگائی سے پسے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے ، اپنی مراعات بڑھانے اور اپنے خزانے کے منہ کھولنے کا جو منظر عوام نے ان گزرے دنوں میں دیکھا، وہ ان کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ ان لوگوں کا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں اپنے اعمال کے باعث دوبارہ اسمبلیوں میں آنے کی امید نہیں، اسی لئے وہ آخری دن تک قومی خزانے کا لہو نچوڑتے رہے، مگر اس کے باوجود یہ طے ہے کہ انہی لوگوں نے ایک بار پھر مسکین صورت بنا کر عوام کے پاس آنا ہے، جس طرح پیپلز پارٹی نے کم از کم تنخواہ اٹھارہ ہزار روپے کرنے اور لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کا منشور میں دعویٰ کر دیا ہے۔ اُسی طرح یہ اقتدار کی مچھلیاں بھی ایسے ہی بلند بانگ دعوے اور وعدے کریں گی۔ یہ سوچ کر کہ عوام تو ٹھہرے سدا کے کملے اور کُند ذہن، اُنہیں کوئی بات یاد رہتی ہے اور نہ ہی چکنی چپڑی باتوں میں آنے سے باز آتے ہیں، اس لئے اس بار بھی انہیں مستقبل کے سہانے خواب دکھا کر رام کر لیں گے۔

دو روز پہلے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے ہمراہ مظفر گڑھ کینال کے منصوبے کا افتتاح کیا، جس پر اربوں روپے لاگت آئے گی۔ اس پر تحریک انصاف مظفر گڑھ کے رہنما رانا محبوب اختر نے دلچسپ سوال کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اسمبلی ختم ہونے میں48 گھنٹوں سے بھی کم وقت رہ گیا تھا، تو ایسے منصوبے کا افتتاح کر کے جس کے لئے نہ تو بجٹ میں رقم رکھی گئی ہے اور نہ ہی اس منصوبے پر عملدرآمد کی ابھی دور دور تک گنجائش ہے، عوام کو بے وقوف بنایا گیا ہے۔ اس پر ہمیں یاد آیا کہ اپنے مرشد سائیں تو ایسے کاموں میں خاصے ماہر ہیں۔ انہوں نے بلا جھجھک سرائیکی صوبہ بنانے کا اعلان کر دیا تھا اور ان کی باتوں سے یوں لگتا تھا کہ جیسے سرائیکی صوبہ بس چند دنوں میں بن جائے گا۔ صوبہ تو نہ بنا، البتہ وہ وزارت عظمیٰ سے محروم کر دئیے گئے۔ جب تک وزیراعظم تھے، سید یوسف رضا گیلانی سرائیکی صوبے کا نام لیتے تھے۔ جب وزیراعظم نہ رہے تو جنوبی پنجاب صوبے کی بات کرنے لگے۔ تھوڑے عرصے بعد وہ اس سے بھی دستبردار ہوگئے اور بات ”بہاولپور جنوبی پنجاب“ صوبے پر آکرٹھہر گئی، لیکن ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ قومی اسمبلی کے آخری اجلاس میں جو سات گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ حکومتی جماعت کی طرف سے کسی ایک رکن نے بھی بہاولپور جنوبی پنجاب صوبے کی بات نہ کی، خود مرشد سائیں بھی اب علیحدہ صوبے کی تکرار سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سیاستدان عوام کو بے وقوف بنانے کا عام دنوں میں بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، جبکہ الیکشن کے دنوں میں تو ان کی زبان پر اسی طرح کے جھوٹے وعدے اور دعوے ہوتے ہیں، جیسے ایک ہر جائی عاشق اپنے محبوب سے کرتا ہے۔

 اپنے اندر کی خواہش یا شاید بدلتے ہوئے حالات سے متاثر ہو کر مَیں جب بھی تبدیلی کا ذکر کرتا ہوں تو میرے اکثر پڑھے، لکھے، دانشور دوست میرا مذاق اُڑاتے ہیں۔ کچھ اسے میری رجائیت قرار دیتے ہیں اور کچھ کے نزدیک یہ حالات کا ادراک نہ کر سکنے کا نتیجہ ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ جب تک عوام کے اندر تبدیلی نہیں آتی، ملک میں کیسے آسکتی ہے۔ عوام پانچ برسوں تک ایک ناقابلِ بیان عذاب سے گزرتے رہے ہیں۔ مگر ووٹ اس بار بھی انہی لوگوں کو دیں گے، جو ہمیشہ ان کا ووٹ لے کر کامیاب تو ہو جاتے ہیں، مگر پھر پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھتے۔ دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ کس طرح مختلف حلقوں کے وننگ ہارسز (جیتنے والے گھوڑے) ہاٹ کیک کی طرح بِک رہے ہیں۔ جماعتیں منڈی میں بیٹھے ہوئے آڑھتی بنی ہوئی ہیں، جو اچھے اور منافع بخش حال کی تلاش میں ہمیشہ سرگرم رہتا ہے۔ ان لوگوں نے عوام کے ساتھ چاہے کچھ بھی کیا ہو، عوام انہیں گلے کا طوق بنائے رکھیں گے۔ بقول اُن کے عوام ان کے سو جوتے بھی کھاتے ہیں اور گن بھی گاتے ہیں۔ مَیں اپنے ان دوستوں سے لاکھ اختلاف کرتا ہوں، انہیں یاد دلاتا ہوں کہ ایک طرف حکومتوں کی بُری کارکردگی نے عوام کی آنکھیں کھول دی ہیں اور دوسرا میڈیا کا کردار عوام کے اندر بیداری کی لہر دوڑا رہا ہے، مگر ان کا یہی اصرار رہتا ہے کہ یہ سب دانشورانہ بقراطی ہے۔ حقیقت سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ عوام آج بھی لکیر کے فقیر ہیں اور ہر حلقے میں جن لوگوں نے سال ہا سال سے اپنی سیاسی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ وہی عوام کا آج بھی انتخاب ہوں گے۔ تبدیلی کا نعرہ چونکہ عمران نے دیا ہے، اس لئے جب بھی تبدیلی کی بات کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی حمایت کی جا رہی ہے، حالانکہ اصل بات یہ نہیں، بلکہ یہ نکتہ ہے کہ عوام میں اب یہ شعور پروان چڑھ رہا ہے کہ جس جمہوریت کو وہ اپنا ووٹ دے کر آگے بڑھاتے ہیں۔ وہ اس لئے انہیں کچھ نہیں دے پاتی کہ جن لوگوں کو وہ منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں، وہ جمہوری ذہن کے مالک نہیں ہوتے۔ ان کا مقصد سیاست کومنفعتکے لئے استعمال کرنا ہوتا ہے، نہ کہ مخلوقِ خدا کے لئے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی فضا پیدا ہوئی ہے کہ جس میں کسی بُرے آدمی کا انتخابات میں حصہ لینا ممکن نہیں رہا۔ آئین میں 62، 63 شقیں تو عرصے سے موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی کمزوریاں اور نگران حکومتوں کی مصلحتیں آڑے آتی رہیں۔ حالات اس حد تک لچکدار، بلکہ شرمناک تھے کہ جب بی اے کی شرط رکھی گئی تو امیدواروں کی اکثریت نے جعلی ڈگریاں ساتھ لگا دیں اور منتخب بھی ہوگئے۔ انہیں اس بات کا کوئی خوف نہیں تھا کہ ڈگری جعلی ثابت ہونے پر وہ نا اہل ہو جائیں گے، یا غلط بیانی پر آئین کی شقوں 62، 63 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے۔ اس بار الیکشن کمیشن کے غیر روائتی کردار اور سپریم کورٹ کی مکمل حمایت نے تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ نیا نامزدگی فارم کسی امیدوار کا سب کچھ سامنے لے آئے گا۔ ان نکات سے جن کا ذکر اس نامزدگی فارم میں موجود ہے۔ سال ہا سال تک مملکت اور عوام کو دھوکہ دینے والے اس لئے پریشان ہیں کہ آئین کی62، 63 شقیں پل صراط بن گئی ہیں، جن سے روایتی امیدواروں کی اکثریت تو گزر ہی نہیں پائے گی۔ گویا تبدیلی کی بنیاد الیکشن کمیشن اور عدلیہ سے مل کر رکھ دی ہے۔ اب اس پر ایک مضبوط عمارت تعمیر کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام عوام نے کرنا ہے۔

جمہوریت کے نام پر مسلط کی جانے والی جعلی جمہوریت کے خاتمے اور ایک حقیقی جمہوریت کو قائم کرنے کے لئے آج حالات انتہائی موافق ہیں۔ عدلیہ، فوج، الیکشن کمیشن اور خود عوام اس نکتے پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ صاف وشفاف انتخابات کے نتیجے میں ایک اہل حکومت اور عوامی کردار رکھنے والی اسمبلیاں وجود میں آئیں۔ نگران حکمران کوئی بھی ہوں۔ ان کا کردار ثانوی رہ جاتا ہے اگر الیکشن کمیشن اور عوام صاف و شفاف انتخابات اور صالح قیادت لانے کا تہیہ کر لیتے ہیں۔ یہاں عوام کو بھی اپنا تاریخی کردار ادا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے، کیونکہ ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والوں کی قسمت پر آخری ٹھپہ عوام ہی اپنے ووٹوں سے لگاتے ہیں۔ پاکستان اب تبدیلی یا تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ماضی کی طرح لٹیرے اور کرپٹ نمائندوں کا انتخاب اسے تباہی کی طرف لے جاسکتا ہے اور اچھے نمائندوں کا انتخاب اسے اس تبدیلی سے ہمکنار کر سکتا ہے، جو 65 سالہ استحصالی نظام کے خاتمے کی نوید ثابت ہوگی۔ فیصلے کا اختیار ایک بار پھر عوام کے ہاتھوں میں آگیا ہے اور میرا حسن ظن یہ ہے کہ وہ اس بار مٹی کے مادھو ثابت نہیں ہوں گے۔     ٭

مزید : کالم