” چاچا دی گریٹیسٹ“ بھی سدھار گئے

” چاچا دی گریٹیسٹ“ بھی سدھار گئے
” چاچا دی گریٹیسٹ“ بھی سدھار گئے

  



 دن گزرتے تو پتہ نہیں چلتا، جمادل الاول کا مہینہ شروع ہو چکا،اس کے بعد جمادی الثانی بھی آئے گا، گزر جائے گا پھر رجب اور شعبان کے مہینوں کے بعد رمضان المبارک شروع ہو گا جس کا اختتام عیدالفطر ہے۔ اس عیدالفطر پر یقینا نماز کے بعد عزیز و اقارب، دوستوں اور محلے داروں سے گلے ملیں گے، مبارک باد دیں گے اور لیں گے، اسی طرح احباب فون پر بھی عید مبارک کہیں گے، لیکن وہ فون کال اب نہیں آئے گی جو عموماً پہلی کال ہوتی اور اکثر نماز کے لئے روانگی سے پہلے آ جاتی۔ بچوں کے ساتھ گھر سے قدم نکالنے لگتے تو گھنٹی بجتی،دل گواہی دیتا، فون اٹھایا جاتا تو کڑک دار آواز آتی ”خادم حسین چودھری، جواب دیتے“ گڈ مارننگ، انکل ”دی گریٹیسٹ“ پھر چاچا چودھری کہتے، بہت بہت عید مبارک، ہم خیر مبارک کہتے تو چاچا ایف۔ای دُعائیں دیتے۔ ”گاڈ بلیسں یو“ اور پھر فوراً ہی کہتے، یار میری طرف سے اکمل علیمی بھائی سلیمی کو بھی عید مبارک کہہ دینا کہ تم تو اسے فون کرو گے“۔

یہ ہمارے سینئر بزرگ اور مہربان چاچا ایف۔ ای چودھری کا معمول تھا، وہ پیرانہ سالی اور سو کا ہندسہ عبور کر جانے کے باوجود ذہنی طور پر چاق و چوبند تھے ان کو سب یاد رہتے اور عیدین یا خوشیوں کے موقع پر خود فون کرتے اور اگر ایسے دوستوں یا برخورداروں میں سے کوئی شخص کرسمس کے موقع پر ان کو فون نہ کرتا تو وہ خود فون کر کے لتاڑ بھی دیتے تھے۔ چاچا ایف۔ ای چودھری ایسی شخصیت تھے جن کی جھڑکی سعادت جانی جاتی۔اب خیال آتا ہے کہ یہ جو چار ماہ بعد عید آئے گی تو فون خاموش تو نہیں رہے گا گھنٹی ضرور بجے گی اور پہلا خیال یہی آئے گا، چاچا چودھری کا فون آ گیا، لیکن جب چونگا اٹھائیں گے تو کوئی اور آواز ہو گی، پھر یاد آ جائے گا کہ وہ پیار کرنے اور یاد رکھنے والی ہستی تو اب دُنیا میں نہیں ہے۔ سینہ دُکھ سے بھرے گا تو کوئی تعجب والی بات تو نہیں ہو گی۔

چاچا ایف۔ ای چودھری بھرپور زندگی گزار کر اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہو گئے ، وہ ٹھیک ٹھاک تھے۔ گزشتہ تین چار سال سے جو فرق آیا وہ یہ تھا کہ اونچا سننے لگے اور نظر کی عینک کے شیشے قدرے اور موٹے ہو گئے تھے، قریباً دس روز ہوئے ہوں گے جب اُن سے ملاقات کے لئے علامہ اقبال روڈ پر گئے وہ ان دنوں اپنے بڑھے صاحبزادے سہریل چودھری کے پاس تھے، پورا خاندان ان کی خدمت میں حاضر رہتا تھا، چاچا ملنے کے لئے برآمدے میں آ گئے ۔ سلام کیا، جواب نہ ملا، معلوم ہوا کہ آلہ ¿ سماعت کان سے نہیں لگایا توجہ دلانے پر جیب سے نکالا اور کسی نہ کسی طرح ”ایڈجسٹ“ کر کے لگا ہی لیا، پھر بات ہوئی تو پہچان کر اپنے انداز میں گفتگو شروع کی۔ حال چال ہو چکا تو اُن کو خیال آ گیا۔ کہنے لگے:یار، راﺅ سے کہو کہ میری تصویریں تو واپس کر دے، مجھ سے مانگ کر لے گیا تھا“۔

یہ بات وہ اکثر اوقات موبائل فون سے فون کر کے دہراتے اُن کو شدت سے یہ احساس ستاتا تھا کہ تاریخ کی حامل تصاویر مستعار لی گئی تھیں جو واپس نہیں کی گئیں، وہ ہمیشہ مجھے ہی کہتے ایک تو مَیں وقتاً فوقتاً ان سے ملاقات کے لئے چلا جاتا اور دوسرے تصاویر جن صاحب کے پاس تھیں وہ ان دنوں ہمارے ادارے میں کام کر رہے تھے اور متعدد تصاویر ہمارے اخبار میں انہی کے توسط سے شائع ہوئیں، حالانکہ وہ حقیقتاً چاچا ایف۔ ای چودھری کی تھیں۔ ہم نے ہمیشہ موقع ملتے ہی دیانت داری سے پیغام دیا اور ہر بار یہ جواب پایا ” مَیں دو روز پہلے ہی مل کر آیا ہوں“ دُکھ ہے کہ ہم ان صاحب کو تصویریں واپس کرنے پر مجبور نہ کر سکے اور یہ تاریخی اور یادگار تصاویر آج بھی ان کے پاس ہیں ممکن کہ چاچا ایف۔ ای چودھری کی دُنیا سے رخصتی ان کو احساس دلا دے اور وہ تصاویر ان کے صاحبزادے کے حوالے کر دیں۔

چاچا ایف۔ ای چودھری کی سالگرہ منانے کا سلسلہ کس عمر سے شروع ہوا یہ تو یاد نہیں، لیکن جب بھی اُن کے خاندان والوں نے یہ رسم ادا کی، چاچا ایف۔ ای چودھری کے مہمانوں کی فہرست میں ہمارا نام ضرور رہا اور ہم نے بھی حاضری دی اور” ہیپی برتھ ڈے ٹو چاچا “ کہا۔

چاچا ایف۔ ای چودھری کی سالگرہ ہوتی اور وہ سنچری کے قریب ہوتے جا رہے تھے ایسے میں جب مہمان کہتے چاچا جیو ہزاروں سال تو وہ کہتے رہنے بھی دو، بہت ہو گئی، پھر کہا جاتا چاچا سنچری بنانی ہے، تو ہم کہتے ” چاچا دی گریٹیسٹ“ یہ سب آپ کے لئے تو کہتے ہیں لیکن درحقیقت اپنے لئے دُعا کرتے ہیں کہ آپ کی سو سالہ سالگرہ میں شرکت کی دُعا ہے تو یہ سب خود بھی تو ہوں گے چاچا ہنس دیتے۔

چاچا ایف۔ ای چودھری کا اور ہمارا ساتھ پی پی ایل سے تھا وہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے بھی عہدیدار رہے، ہم نے فیڈریشن اور یونین کے لئے کارکن کی حیثیت سے جدوجہد کی۔ چاچا ایف۔ ای چودھری ہمارے قائدین کے ساتھ تھے، لیکن آنکھیں بند کر کے نہیں، جو بات اُن کو بُری لگتی اس پر کھری کھری بھی سنا دیتے تھے،۔ ایک بات جو حسین نقی اور آئی اے رحمن کہتے ہیں وہ یہ بھی ہے کہ چاچا ضرورت مندوں کو اُدھار بھی دے دیتے تھے اور جو لینے والا ہوتا اسے یہ قرض مقررہ تاریخ پر واپس کرنا ہوتا تھا وہ ایک روز کی تاخیر بھی برداشت نہیں کرتے تھے اور مقررہ تاریخ کو ادھار واپس نہ آتا تو مقروض کو بھری محفل میں بھی چاچا کی سننا پڑتی تھی۔

اپنے پیشہ فوٹو گرافی میں ماہر اور صحافت سے مخلص اور اصول پسند شخصیت تھے، بے داغ زندگی تھی۔ قیام پاکستان سے قبل شوقیہ فوٹو گرافی کی تو قائداعظم، شہید ملت لیاقت علی خان کے ساتھ ساتھ دوسرے اکابرین کی تصویریں بنائیں۔ تحریک پاکستان کی تصاویر قیمتی اور یادگار ہیں، اس کے بعد پاکستان ٹائمز کی ملازمت کے دوران کھیلوں کے میدان ان کی خصوصی توجہ کے مرکز ہوتے۔ ہم نے ان کو کرکٹ میچوں کی تصاویر بناتے دیکھا، وہ بڑے بڑے یادگار لمحات قلم بند کرنے میں کامیاب ہوتے تھے۔

آٹو سائیکل (کوٹیکلی) پر کیمرہ لئے ہنگاموں کی عکس بندی کرتے بھی بہت محتاط ہوتے تھے، وہ کسی خوف اور لالچ کے بغیر پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے۔

جمعہ کے روز برادرم ناصر نقوی نے فون کر کے چاچا جی کے کوائف معلوم کرنا چاہے تو معلوم ہوا کہ وہ عین اس روز رخصت ہو گئے جب زندگی کے104 سال پورے کر چکے تھے۔ ہم نے اچھا بھلا دیکھا تھا تو گھر والوں کے لئے بھی یہ زبردست صدمہ تھا کہ وہ بستر پر اچھے بھلے لیٹے لیٹے ابدی نیند سو گئے ۔ اب وہ نہ ڈانٹ رہی اور نہ ہی فون کی گھنٹی پر کوئی ”خادم حسین چودھری کہے گا“ ہم آخر میں اس محترم سے جن کے پاس چاچا کی نایاب تصاویر ہیں، ان سطور کے ذریعے مودبانہ گزارش پر مجبور ہیں کہ وہ اب ان کی یہ تصاویر ان کے صاحبزادے کے گھر پہنچا دے کہ ان تصاویر سے وہ جو حاصل کرنا چاہتے تھے کر چکے۔       ٭

مزید : کالم