ایف۔ ای۔ چودھری کا انتقال

ایف۔ ای۔ چودھری کا انتقال

  



صدارتی ایوارڈ یافتہ سینئر ترین صحافی فوٹو گرافر ایف۔ ای۔ چودھری بھی چل بسے۔ اُن کی وفات عین اُس روز 104سال کی عمر میں ہوئی جو اُن کا یوم پیدائش تھا۔ وہ15مارچ1909ءمیں پیدا ہوئے اور15مارچ2013ءکو دُنیا فانی کو چھوڑ گئے۔ ایف۔ ای۔ چودھری جو چاچا چودھری کے نام سے معروف اور جگت چاچا تھے: بہترین پیشہ ور فوٹو گرافر تھے، جنہوں نے تحریک پاکستان سے قیام پاکستان تک اور اِس کے بعد پاکستان کی تاریخ میں بہت ہی یادگار تصاویر بنائیں۔ اُن کی کارکردگی پر اُن کو بیسیوں ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ایف۔ ای۔ چودھری ایک اُصول پرست اور کھرے انسان تھے، جنہوں نے پوری زندگی بے داغ گزاری۔ وہ اپنے پیشہ سے والہانہ عشق کرتے تھے۔ تحریکوں اور ہنگاموں کے ساتھ ساتھ عام زندگی کی تصویر کشی کے علاوہ انہوں نے کھیلوں کی بھی بہت اچھی اچھی تصاویر بنائیں، جرنلزم میں ٹیلی لینز کا استعمال کرنے والوں میں بھی پہلے فوٹو گرافر تھے۔

ایف۔ ای۔ چودھری نے سکول ٹیچر کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ فوٹو گرافی شوقیہ اختیار کی اور اِسی شوق سے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے مدیران کی نگاہ میں آئے، جنہوں نے اُن کو سٹاف فوٹو گرافر بنا لیا۔ قیام پاکستان کے بعد سول اینڈ ملٹری گزٹ کے بعد انہوں نے روزنامہ ”پاکستان ٹائمز“ میں ملازمت اختیار کی اور باقی عرصہ یہیں گزارا اور ریٹائر ہو کر الگ ہوئے۔

وہ سیلف میڈ انسان تھے۔ اپنے بچوں پر خصوصی توجہ دی، صاحبزادے اور صاحبزادیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، گروپ کیپٹن(ایئر فورس) سیسل چودھری ان کے صاحبزادے تھے وہ13اپریل 2012ءکو انتقال کر گئے تھے۔ سیسل چودھری نے1965ءاور1971ءکی پاک بھارت جنگوں میں اپنے سکواڈرن اور گروپوں کی قیادت کرتے ہوئے بہت نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور بھارتی ہوائی اڈوں اور طیاروں کو زبردست نقصان پہنچایا، ان کو ستارہ¿ جرا¿ت اور تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔ چاچا کے ایک اور بیٹے انتھونی چودھری پاکستان ایئر فورس سے ونگ کمانڈر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ تیسرے صاحبزادے سہریل چودھری باٹا کمپنی سے بطور منیجر منسلک رہے اور چاچا اُنہی کے پاس رہائش پذیر تھے۔

104سال کی عمر کے باوجود ایف۔ ای۔ چودھری کی یاد داشت بہت شاندار تھی، ان کو نہ صرف واقعات یاد تھے بلکہ وہ دوستوں اور اپنے ساتھیوں کو بھی یاد رکھتے تھے، انہوں نے اپنے بعد صاحبزادوں، صاحبزادیوں، پوتے، پوتیوں، نواسے، نواسیوں اور اُن کی اولادوں پر مشتمل وسیع کنبہ چھوڑا ہے۔

وہ ایک اُصول پرست اور کھرے صحافی تھے، ٹرید یونین سرگرمیوں میں حصہ لیا، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے کئی بار عہدیدار منتخب ہوئے۔ صاف بات مُنہ پر کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔ اُن کی زندگی کام اور محنت سے عبارت ہے، ایسی شخصیات خال خال پیدا ہوتی ہیں۔ اُن کا خلاءپورا نہیں ہو گا۔ یادیں رہ جائیں گی، اُن کی آخری رسومات آج (اتوار) ایک بجے ادا ہوں گی۔ کیتھڈرل چرچ لارنس روڈ پر سروس کے بعد گلبرگ روڈ کے قبرستان میں تدفین ہو گی۔      

مزید : اداریہ