ڈرون حملوں کے متعلق اقوام متحدہ کا درست موقف

ڈرون حملوں کے متعلق اقوام متحدہ کا درست موقف

  



اقوام متحدہ نے پاکستانی علاقوںمیں امریکی ڈرون حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور پاکستان کی خود مختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم کے سربراہ بین ایمرسن نے کہا ہے کہ2004ء سے اب تک پاکستان پر 330ڈرون حملے کئے گئے جن میں 400عام شہریوں سمیت2200افراد جاں بحق ہوئے۔ اقوام متحدہ کی اس ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ پاکستان میں ڈرون حملے حکومت کی اجازت سے ہو رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے امریکی سفارتخانہ سے احتجاج کرکے انہیں بند کرنے کا مطالبہ کیااور کہا تھا کہ ان حملوں سے الٹا نقصان ہو رہا ہے۔ اس سے اوباما انتظامیہ کو متعدد بار آگاہ کیا گیا تھا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خلاف نہیں لڑنا چاہتا۔حقیقت یہ ہے کہ اب تک بہت سے پاکستانی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ڈرون حملوں سے پاکستان کی نئی نسل میں انتہا پسندی کے رجحانات پیدا ہورہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری فوجی مداخلت کے بغیر پائیدار امن کے قیام کی خاطر پاکستان کی آئندہ حکو مت کو مدد اور تعاون فراہم کرے۔

امریکہ کی طرف سے پاکستانی علاقوں میں کئے جانے والے ڈرون حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی کی اس رپورٹ سے خود امریکی عوام کو ڈرون حملوں کی صحیح صورت ِ حال کے متعلق آگہی ہو سکے گی۔ اس سے امریکی حکومت پر ان حملوں کے سلسلے میں بین الاقوامی دباﺅ بڑھنے کی توقع کی جاسکتی ہے، لیکن اس سلسلے میں ہمارے سفارت خانوں کو بھی کام کرنا ہو گا۔ اگر اس رپورٹ کی مغربی ممالک کے میڈیا میں مناسب پبلسٹی نہ ہو سکی تو اس سے ان ممالک کی رائے عامہ کو ہموار کرکے امریکی حکومت پر اس کے اپنے عوام کی رائے عامہ کا دباﺅ پیدا نہیں کیا جاسکے گا۔ اگرچہ ہمارا میڈیا ان حملوں سے جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں ، خواتین اور بوڑھوں کے المیہ کو نمایاں کرتا رہا ہے، لیکن اس سے قبل ہمارے سفارت خانوں نے اس بڑے قومی مسئلے سے عالمی رائے عامہ کو آگاہ کرنے کے لئے موثر کام نہیں کیا۔ ماضی میں اکثر یہی ہوتا رہا ہے کہ ہم خود اپنے مسائل کے حل کے لئے اتنا موثر کام نہیں کرسکے ،جتنا کہ دوسروں نے ہمارے لئے کردیا۔ ابلاغ عام کے ذرائع کی جدید ترقی اور معلومات تک دنیا بھر کے انسانوں کی فوری اور باآسانی رسائی نے اب پوری دُنیا کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی سے آگاہ کرنے کا کام بہت آسان کردیا ہے۔ ماہرین ابلاغ کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی آپ کی بات سمجھ نہیں پاتا تو اس میں نہ سمجھنے والے کا نہیں بلکہ آپ کااپنا قصور ہے۔ آپ کو اپنی بات اس طرح دوسروں تک پہنچانی چاہئے کہ وہ اسے اسی طرح سمجھ جائیں جس طرح کہ آپ انہیں سمجھانا چاہتے ہیں۔موجودہ دور میں کسی بھی مبنی بر حق موقف کو دوسروں تک پہنچانا اور انہیں اس کا قائل کرلینا دشوار نہیں، شرط یہ ہے کہ آپ اسے متعلقہ لوگوں تک قابل فہم انداز میں پہنچائیں۔ اگر ان کی طرف سے مثبت ردعمل نہ ملے تو اس کی وجوہ معلوم کرکے اپنی بات دوسرے انداز میں ان کے سامنے رکھیں۔ ابلاغی سائنس کا یہ ایک مربوط طریق کار ہے جس کے ذریعے بالآخر لوگ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم کمرشل لوگوں کے تشہیری مہموں سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں جو بلا ضرورت لوگوں کو اپنی مصنوعات یا خدمات خریدنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی، مسئلہ کشمیر ، دہشت گردی اور بھارت اور افغانستان سے اپنے تنازعات کے سلسلے میں رائے عالم کی تائید و حمایت حاصل کرنے کے لئے کبھی ماہرین ابلاغیات کی مہارت اور تجربے سے فائدہ اٹھانے اور کسی طرح کی کمیونی کیشن سٹرٹیجی بنانے کی کوشش ہی نہیں کی۔

ڈرون حملوں کے خلاف ملک میں پہلی اور آخری کامیاب کوشش عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کی طرف سے کی گئی،جنہوں نے فارن میڈیا کو ساتھ لے کر وزیرستان تک لانگ مارچ کیا، تاکہ غیر ملکی صحافی خود اپنی آنکھوں سے ڈرون حملوں سے بے گناہ شہریوں کے تباہ شدہ گھر، سکول اور مساجد کو دیکھیں اور ان علاقوں کے لوگوں سے مل کر معلوم کریں کہ وہاں ڈرون حملوں سے کتنے اور کس طرح کے لوگ جا ں بحق ہوتے رہے ہیں۔عمران خان کے اس مارچ کی وجہ سے بھی امریکہ و یورپ کے بہت سے اخبارات، ٹیلی وژن چینلز اور تنظیموں نے ڈرون حملوں کے خلاف لکھا تھا ، انہی دنوں دو اہم امریکی یونیورسٹیوں کی تحقیق بھی سامنے آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکی ڈرون حملوں سے مطلوبہ افراد سے کہیں زیادہ بے گنا ہ افراد جاں بحق ہو رہے ہیں جن میں اچھی خاصی تعداد بچوں اور خواتین کی بھی ہے۔اس کے مطابق یہ حملے امریکہ کے متعلق پاکستان میں نفرت بڑھانے کا سبب ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی کی یہ رپورٹ بھی از خود سامنے نہیں آگئی اس میں بھی ہماری سفارتی سطح کی کوششوں کا دخل ہے۔اگر ہم نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ سے رجوع نہ کیا ہوتا تو یہ کمیٹی اس معاملے کی تحقیقات کے لئے کام نہ کرتی اور آج دنیا کے سامنے ہمارے اس بہت بڑے مسئلے اور اس سلسلے میں ہمارے مبنی برحق موقف کے موثر انداز میں پیش کئے جانے کے امکانات پیدا نہ ہوتے۔

سفارت خانے، بیرونی پبلسٹی کے شعبے اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سب قومی خزانے سے قائم ہونے والے ایسے ادارے ہیں جن کی حیثیت قومی نطق کی ہے۔ ان کی طرف سے قوم کا موقف دنیا کے سامنے جانا چاہئیے۔ ہر سطح پر پاکستان کی بھرپور وکالت اور پاکستانی عوام اور پاکستانی علاقوں کے حسن و دلکشی کے متعلق دنیا کو بتایا جانا چاہئے۔ متعلقہ ملازمین اگر افسر بننے کے بعدملکی مفاد کو ترجیح دیں تو وہ اپنے بے مثل ملک کی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے اقوام عالم کے سامنے پاکستان کا ہر کیس مو¿ثر انداز میں پیش کرسکتے ہیں۔ ہرسطح پر دشمنوں کو سفارتی شکست سے دوچار کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے وطن عزیز کے پاس مضبوط بنیادیں موجود ہیں، ہر طرح کے مسائل ہمیں حاصل ہیں۔ صرف یہ کام کرنے والوں کی نیتوں کی درستی اور عزم کی ضرورت ہے ،جس کے بعدہم اپنی کامیابیوں کے لئے پورے یقین کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کی واپسی سے پہلے اقوام متحدہ کی طرف سے یہ رپورٹ ہمارے لئے اس لئے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اِس کے سلسلے میں ہمارے تحفظات عالمی طاقتوں پر بہتر طور پر واضح ہوں گے ۔ دنیا کو ہمارے اخلاص اور مسائل کا علم ہوسکے گا۔ ہم اعتماد کی فضا میں افغانستان کے اندر قیام امن کے لئے اپنا بہتر کردار ادا کرسکیں گے ، جس کی وجہ سے ہمیں وطن عزیز میں بھی دہشت گردی کے خاتمے اور امن وامان کی بحالی میں مدد ملے گی۔

 ٭

مزید : اداریہ