قومی اسمبلی کی مدت پوری رکاوٹوں کو عبور کرنے کامرحلہ بھی سرہوجائے گا

قومی اسمبلی کی مدت پوری رکاوٹوں کو عبور کرنے کامرحلہ بھی سرہوجائے گا
قومی اسمبلی کی مدت پوری رکاوٹوں کو عبور کرنے کامرحلہ بھی سرہوجائے گا

  



موجودہ جمہوری دور نے جیسے تیسے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر لی، وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے الوداعی خطاب بھی کر لیا اور قومی اسمبلی بھی تحلیل ہو گئی جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے حوالے سے یہ اطلاع ہے کہ یہ تین روز میں تحلیل ہوں گی مقصد عام انتخابات کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ قومی اور صوبائی انتخابات ایک ہی روز کرانا ہے۔ اس سلسلے میں رکاوٹیں اور پیچیدگیاں آئین اور تادم تحریر موجود بھی ہیں لیکن ساری صورتحال کے پس پردہ جو جذبہ اور خیال کار فرما ہے وہ یہی ہے کہ سیاست دان اپنا سیاسی کردار اس طرح ادا کریں کہ کسی کو ایڈونچر کا موقع نہ ملے اور نہ ہی انتخابات اور اس جمہوری عمل کے مخالفین کو وار کرنے میں کامیابی حاصل ہو سکے،بلاشبہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں کشمکش ہے لیکن یہ سب حکمت عملی سے متعلق ہے۔ بڑی جماعتوں نے انتخابات میں جانا ہے اور ہر کوئی سیاست میں اسی لئے حصہ لیتا ہے کہ اسے اقتدار میں آنے کا موقع ملا، اس وقت نگران وزیر اعظم اور وزراءاعلیٰ کے ساتھ ساتھ نگران حکومتوں کے قیام کا معاملہ درپیش ہے۔ اس میں کئی موڑ ہیں۔ تاہم رکاوٹوں پر قابو پایا جا رہا ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ بھی بات چیت سے حل ہو چکا ہے جبکہ خیبر پختون خوا والوں نے اول آنے کا اعزاز حاصل کر لیا، باقی معاملات بھی کل تک طے پا جائیں گے۔

عام انتخابات کے حوالے سے ان دنوں الیکشن کمیشن کا کردار بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے اور الیکشن کمیشن کے اراکین ایک خود مختار اور آزاد ادارے کی حیثیت سے اپنا کردار نبھانے میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دینا چاہتے، حکومت نے کاغذات نامزدگی کے حوالے سے کسی ردعمل کا اظہار نہ کر کے زبردست تعاون کا مظاہرہ کیا جبکہ عدالت عظمیٰ نے بھی مہر تصدیق ثبت کر دی تھی، تاہم ابھی تک کراچی میں سیاسی جماعتوں کے اکابرین، رائے دہندگان کی فہرستوں کی درستگی کے عمل سے مطمئن نہیں اور نہ ہی عدالت عظمیٰ کے اس واضح حکم کی تعمیل ہوئی جس کے مطابق حلقہ بندیوں میں رد و بدل مقصود تھا، الیکشن کمیشن نے اسے مشکل قرار دیا تو یہ برداشت بھی کر لیا گیا ہے اس پر کراچی کے سیاسی حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور یہ سب برداشت بھی اس لئے کیا جا رہا ہے کہ انتخابات پُر امن فضا میں آزادانہ اور شفاف کرانے کا یقین دلایا گیا ہے۔

حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے بالآخر آخری وقت میں انتخابی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ منشور دے دیا گیا جو سابقہ وعدوں ہی کا نتیجہ ہے، اسے حالات حاضرہ سے منسلک کیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے بھی اپنی انتخابی مہم سائنسی بنیادوں پر چلانے کا فیصلہ کیاہے، مختلف شعبے بنائے گئے ہیں جن کے ذریعے پانچ سالہ کارکردگی اجاگر کی جائے گی۔ معترضین کے الزامات کا جواب دیا جائے گا اور جوابی مہم جارحانہ طور پر چلائی جائے گی کہا تو یہ جاتا ہے کہ کئی وائٹ پیپر بھی جاری ہوں گے جو ”صالح“ حضرات کے چہروں سے نقاب الٹ دیں گے۔ بہرحال اس وقت سب سے بڑا سوال آئین کے آرٹیکل 62-63کا ہے اور امیدوار نامزد کرتے وقت احتیاط کرنا پڑے گی۔ سخت قسم کی عدالتی جنگ کا احتمال موجود ہے اور یہ حکمت عملی بھی ہو گی کہ اہم امیدواروں کے ایک سے زیادہ متبادل امیدوار ہوں تاکہ کسی بھی مخالف فیصلے کے اثرات کو زائل کیا جا سکے۔ پیپلزپارٹی کے پاس درخواستوں کے اعتبار سے امیدواروں کی کمی نہیں تاہم ان میں سے 62-63 پر پورے اترنے والے ”Electable“ کی تلاش ہو رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کو سخت مقابلہ کرنا ہو گا یہ الیکشن آسان نہیں ہے۔

مزید : تجزیہ