ایک ہی روزانتخابات کے انعقاد کاآئینی راستہ موجو دہے

ایک ہی روزانتخابات کے انعقاد کاآئینی راستہ موجو دہے
ایک ہی روزانتخابات کے انعقاد کاآئینی راستہ موجو دہے

  



پنجاب اسمبلی کو قومی اسمبلی کے ساتھ ہی تحلیل کرنے کی تجویز وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہو چکی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کی مدت 8 اپریل کو پوری ہو رہی ہے۔ اگر پنجاب اسمبلی کو قبل از وقت تحلیل نہ کیا گیا تو ملک بھر میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات ایک ہی روز ہونا ممکن نہیں رہے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ اُن کی بھی خواہش ہے کہ ایک ہی دن ملک بھر میں الیکشن ہوں تاہم پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادی صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان میں من پسند نگران حکومتوں کے لئے جو چالیں چل رہے ہیں اس کے توڑ کے لئے ضروری ہے کہ پنجاب اسمبلی کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے۔ دوسرے لفظوں میں پنجاب اسمبلی کی آئینی مدت کو مسلم لیگ (ن)ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ یہ ایسا ہتھیار ہے جس کے بل بوتے پر مسلم لیگ (ن) بلوچستان اور سندھ کی نگران حکومتوں کے قیام کے سلسلے میں بھی مشاورت میں شرکت کی متمنی ہے۔ آئینی طور پر تو نگران وزیراعلیٰ کی نامزدگی متعلقہ صوبہ کے وزیراعلیٰ اور صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا استحقاق ہے۔ دونوں کے درمیان اتفاق نہ ہو سکے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جاتا ہے۔ وہاں بھی اکثریت رائے سے فیصلہ نہ ہو تو پھر متعلقہ نامزد لوگوں میں سے کسی ایک کا تقرر الیکشن کمیشن کرے گا، تاہم جہاں آئین کو موم کی ناک بنانے کی کوشش کی جائے اور نت نئی سازشی تھیوریاں سامنے آ رہی ہوں، وہاں ایک بڑی قومی جماعت اپنا کردار ادا کرنا چاہے تو اسے غیر اخلاقی اقدام بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

آئینی طور پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ ملک بھر میں ایک ہی روز الیکشن ہوں، تاہم پاکستان میں یہ روایت رہی ہے کہ چاروں صوبوں میں ایک ہی روز الیکشن ہوتے آئے ہیں، خواہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے انعقاد میں چند روز کا وقفہ ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ 1977ءمیں قومی اسمبلی کا الیکشن 7 مارچ جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 10 مارچ کو ہوئے تھے۔ پنجاب اسمبلی کی آئینی پانچ سالہ مدت 8 اپریل کو ختم ہو گی۔ آئینی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب کو قبل از وقت اسمبلی کی تحلیل کے لئے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پنجاب اسمبلی آئندہ دو ہفتے (یکم اپریل تک) میں تحلیل نہیں ہوتی تو قومی اور صوبائی اسمبلی پنجاب کے انتخابات کا مقررہ آئینی مدت کے اندر رہتے ہوئے ایک ہی روز انعقاد ممکن نہیں ہو گا۔ قانونی طور پر انتخابی عمل کے لئے کم از کم 45 سے 50 دن درکار ہیں جن میں کاغذات نامزدگی داخل کرنے، ان کی جانچ پڑتال، اپیلوں اور کاغذات نامزدگی واپس لینے جیسے مراحل طے ہوتے ہیں جبکہ امیدواروں کی حتمی فہرست کے اجراءکی تاریخ اور ووٹنگ کے مرحلہ کے درمیان 22 روز کا وقفہ ہونا چاہئے۔ اسمبلی اپنی مدت پوری کرکے تحلیل ہو تو آئین نئے انتخابات کے لئے 60 دن کی مہلت دیتا ہے۔ یوں ضروری ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) ایک روز ملک بھر میں انتخابات پر آمادہ ہو جاتی ہے تو پنجاب اسمبلی کی تحلیل اس طرح ہونی چاہئے کہ اس کی تحلیل اور قومی اسمبلی کی تحلیل کے درمیان اتنا وقفہ ہو کہ کاغذات نامزدگی کی وصولی اور انتخابات کی تاریخ کے درمیان کم از کم 45 روز کا فرق ہو، تاہم آئین میں آرٹیکل 254 بھی موجود ہے جس کے تحت آئین میں دئیے گئے وقت کے اندر اگر کوئی کام نہ ہو سکے تو اسے غیر آئینی تصور کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے کالعدم سمجھا جائے گا۔ یوں قومی اسمبلی کا انتخابی شیڈول اس طرح ترتیب دیا جا سکتا ہے کہ انتخابات 60 روز سے آگے چلے جائیں اور یہ شیڈول اس انداز میں مرتب کیا جائے کہ پنجاب اسمبلی کی میعاد کے خاتمہ کے بعد قانونی تقاضوں کے مطابق وقت مل جائے اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز ہونا ممکن ہو جائے۔

مزید : تجزیہ