صمدانی میاں مرحوم

صمدانی میاں مرحوم
صمدانی میاں مرحوم
کیپشن: syed fiaz ud din

  

بڑھاپے میں ہر انسان کو بھولی بسری یادیں بہت یاد آتی ہیں اور غالباً انہی یادوں کے سہارے بڑھاپے کا سفر آسان بھی ہوجاتا ہے ،اس عمر میں نئی دوستیاں یا نئے تجربات تو ہونے سے رہے۔ان دنوں مَیں بھی اسی دور سے گزرہا ہوں اور بہت سی پرانی یادوں سے اپنے پڑھنے والوں کو گاہے گاہے بور کرتا رہتا ہوں۔ ان باتوں کی پذیرائی بھی ہوتی ہے اور ہم عصر لوگ اپنی اپنی یادوں سے مجھے بھی آگاہ کرتے رہتے ہیں، جس سے ان یادوں کا لطف دوبالا ہو جاتاہے۔

ہمارے بچپن اور عنفوان شباب کا زمانہ آج کے حساب سے زمانہءقدیم تھا، دوسری جنگ عظیم جاری تھی، جاپان اور جرمن کے حملوں کا خدشہ رہتا تھا اور ہم یونین جیک کی برتری کے لئے دعائیں بھی کیا کرتے تھے ، افواہ تھی کہ جاپانی اور جرمن دونوں بہت سفاک ہوتے ہیں اور جوتھوڑی بہت آزادی انگریزوں کے دور میں ہے، وہ بھی نہیں رہے گی۔اس زمانے کی ایک یاد بہت واضح ہے۔ ہمارے گھرانہ میں زنانہ و مردانہ دو حصے ہوا کرتے تھے اور غیر شادی شُدہ لڑکے مردانہ میں رہتے تھے اور کم ہی زنانہ میں داخل ہوتے تھے اور وہ بھی کھانس کر اپنی آمد کاا علان کیا کرتے تھے۔گھروں میں خادمائیں بھی ہوتی تھیں اور باہر کے لئے ایک مستقل مرد ملازم۔ ہمارے گھر میں باہر کے کاموں کے لئے ایک بڑے جفاکش، قابل اعتماد ملازم صمدانی میاں تھے جو میری دیکھ بھال بھی کیا کرتے تھے۔

مَیں جب چوتھی کلاس میں سکول میں داخل ہوا تو وہی مجھے سکول لے جاتے تھے اور لاتے تھے، پھر جب بڑا ہوا تو بڑے بھائی کے ساتھ آنا جانا ہوتا تھا، مگر ان کے ساتھ جھگڑے بھی ہوا کرتے تھے ،مگر ہم لوگ ایک ہی کمرے میں علیحدہ بستروں پر سویا بھی کرتے تھے اور ہمارے اور ان کے درمیان ایک تپائی (میز) پر لالٹین ہوا کرتی تھی، جس کو کبھی ہم دونوں استعمال کرتے اور کبھی اس پر ایک طرف کالے رنگ کاگتہ لگا دیا جاتا تھا، تاکہ روشنی صرف ایک طرف ہی آئے۔ جب ہم سونے لگتے تھے تو اس کو دھیما کرکے دروازے کے پاس (جو عموماً کھلا رہتا تھا) رکھ دیا کرتے تھے۔

 گھر میں بجلی تھی نہیں کہ ان دنوں خاص خاص گھروں میں ہوا کرتی تھی، لہٰذا لالٹین کا رواج تھا جو ہر شام کو سورج غروب ہونے سے پہلے صمدانی میاں کے پاس جایا کرتی تھی جو اسے صاف کرکے اس میں تیل اور بتی وغیرہ کا اہتمام کرکے آواز لگا کے پھر زنانہ میں رکھ دیا کرتے تھے۔ایک بار صمدانی میاں اپنے گاﺅں چلے گئے تو ہمارے بڑے ماموں نے ایک مزاحیہ نوحہ بھی لکھ ڈالا، جس کے چند اشعار یاد ہیں:

لوٹے میں گھڑے میں نہ صراحی میں ہے پانی

        ہے ہے صمدانی

اللہ تمہیں بخشے بڑے کام کے تھے تم

بوڑھے تو فقط نام کے تھے تم

        ہے ہے صمدانی

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ میری ان سے اتنی اُنسیت ہو گئی تھی کہ ایک بار جب وہ اپنے گاﺅں گئے توضد کر کے مَیں بھی ان کے ساتھ چلا گیا اور تقریباً ایک ہفتہ گاﺅں کی کھلی فضا، دودھ، دہی مکھن، بھینس پر سواری کرکے آیا جس کا لطف ابھی تک یاد ہے۔ آج کے دور میں اس طرح کا اعتماد شاید ہی کسی کو اپنے گھریلو ملازم پر ہو۔1996ءکے ہندو مسلم فسادات سے کچھ قبل صمدانی میاں اپنے گاﺅں چلے گئے۔ مجھے یاد نہیں کہ وہ خفا ہو کر گئے تھے یا انہیں کفایت شعاری کی نذر کردیا گیا، مگر ان کے جانے کے بعد کافی عرصے تک ان کی یاد آتی رہی اور ان کی کمی سبھوں کو محسوس بھی ہوتی تھی اور تب ماموں جان کا کہا ہوا نوحہ بار بار لوگ پڑھتے بھی رہے۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ فسادات میں ان کے پورے خاندان کو تہہ تیغ کردیا گیا، رحم اللہ میری ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ میں ان کے گاوئں جاکر دیکھوں کہ کیا اب ان کے خاندان کا کوئی فرد ہے یا سب کچھ اجڑ گیا، کیونکہ صمدانی میاں جیسے لوگ فی الحقیقت اب نایاب ہیں۔

مزید :

کالم -