رسم جہیز ایک معاشرتی ناسور

رسم جہیز ایک معاشرتی ناسور
رسم جہیز ایک معاشرتی ناسور

  

اس میں شبہ نہیں کہ جہیز کی موجودہ شکل ایک تباہ کن رسم بن کر رہ گئی ہے۔آج کل ہمارے معاشرے میں دوسری برُائیوں کی طرح جہیز بھی ایک بہت بڑی برُ ائی بن چکی ہے۔جہیزبہت زیادہ نمودونمائش کے ساتھ لیااور دیا جا رہا ہے ،جیسے یہ گناہ نہ ہوثواب کا کام ہو۔لڑکی کو ماں باپ اپنی محبت وشفقت میں رخُصت ہوتے وقت جو کچھ دیتے ہیں،وہ ایک انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ انسانوں نے حوا کی بیٹی کی قیمت لگانا شروع کر دی ہے، کیا بنت حوااس قدربے مول ہے کہ جہیز سے اس کی قیمت لگائی جائے ،غیروں کی دیکھا دیکھی یہ رسم اب مسلمانوں کے اندر بھی پیدا ہو چکی ہے اگر یہی سب چلتا رہاتو بنت حواء کی وفا اور محبت اتنی کم ہوتی جائے گی جتنا اس کو بے مول کیا جائے گاپھر لوگوں کو اس بات پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے کہ حواکی بیٹی کی وفا اور محبت کم ہوتی جا رہی ہے۔جہیز کے مطالبوں کو پورا کرتے کتنے گھر برباد ہو چکے ہیں ،آج اگر دیکھا جائے کہ ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح زیادہ بڑھنے کی وجہ بھی جہیز ہے، لڑکے والے جو جہیز کی ڈیمانڈ کرتے ہیں، وہ ماں باپ پورا نہیں کر سکتے۔جہیز کم لانے کی صورت میں لڑکا اور اس کے ما ں باپ دن رات لڑکی کو طعنہ دیتے ہیں یہاں تک کے اُس کو مارتے پیٹتے ہیں،بس اس گناہ کے سبب سے کہ وہ جہیز اُن کی ڈیمانڈ کے مطابق نہ لا سکی۔

معاشرے میں ہم دیکھتے ہیںآج کل کے والدین اپنے بیٹے کو پڑھاتے لکھاتے ہیں پھر اس کی شادی کرتے ہیں اور شادی میں جہیز مانگتے ہیں،کیا یہی نیا رواج چل نکلا ہے جسے دیکھے جہیز مانگتا پھر رہا ہے اور جہیز میں قیمتی اشیاء کوفرض سمجھ کے مانگا جاتا ہے ،افسوس کی بات یہ ہے کہ جو گھر جہیز مانگتے ہیں، ان کے بیٹے انجینئر،ڈاکٹر یا ہائی کوالیفائیڈہوتے ہیں۔تو تعلیم سے لو گ یہ سیکھ رہے ہیں کے جہیز مانگا جائے اور یہ کہا جائے کے جہیز میں فریزر، کار، یا سوناقیمتی سامان ضروری ہے ،اگر یہی سب کچھ کرنا ہے تو اچھا ہے یہ لوگ اپنے بیٹوں کو نہ پڑھائے کیونکہ اگر انہوں نے پڑھ لکھ کے یہ سب کچھ کرنا ہے تواُس ادارے کا نام کیوں خراب کرنا ہے، جس میں وہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

جہیز رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بھی اپنی بیٹی کو دیا تھا،لیکن چند ایک ضرورت کی اشیاء ایک لوٹا،جائے نماز،چٹائی۔مانا آج کل کا زمانہ اور ہے اور ضرورت کی اشیاء بھی بدل گئی ہیں ،لیکن کیا ضرورت کی اشیاء کے علاوہ اور کچھ جہیز میں لینا چاہئے اور وہ بھی اگر والدین بخوشی اور با آسانی سے دے سکیں ،لیکن خود مانگنا نہیں چاہیے نہ لڑکے کو اور نہ اس کے والدین کو۔ لڑکے والوں کی غیر ضروری جہیز کی ڈیمانڈ کو پورا نہ کرنے کے با عث لاکھوں گھروں کا سکون بربا د ہونااور لڑکی کی پیدائش جو بلا شبہ اسلام و پیغمبراسلام صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں خوش بختی کی علامت ہے ہم نے اپنے ہاتھوں اسے بد بحتی میں بدل دیا ہے۔ہماری سوسائٹی کیونکہ زوال پذیر ہے اور جہیز شادی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، یہ برُائی نہ وعظ سے نہ کسی لیکچر سے درست ہو سکتی ہے، اس کے لیے میجر آپریشن کی ضرورت ہے۔جب لوگ خود جہیز دیتے اور لیتے ہیں تو اسے بُرا کون کہے گا۔

والدین بھی اپنی جگہ سچے ہیں کہ اگر بیٹی کو جہیز کم دیاتو اُس کے سسرال والے اُس کا جینا دو بھر کر دیں گے۔معاشرے میں اونچی سوسائٹی والوں نے جہیز کو متعارف کروایا ہے اور اسی طرح شادی کو ایک کاروباری شکل دے دی گئی ۔اس غلط رسم کا سب سے زیادہ مڈل طبقہ شکار ہو رہا ہے جو کوڑی کوڑی کا مقروض ہو کا بھی اپنی بیٹی کے لئے خوشیاں نہیں خرید سکتا۔حقیقت تو یہ ہے کہ خوشیاں جہیز سے نہیں خریدی جا سکتیں۔کتنے ایسے گھرانے ہیں جو بغیر جہیز کے بھی خوش وخرم زندگیاں بسرکر رہے ہیں اور کچھ بہت بھاری بھرکم جہیز لانے کے باوجودسکون سے نا آشناہیں۔ضرورت صرف سوچ بدلنے کی ہے، جہیز ضرورہونا چا ہیے ،مگر اس کی شکل بدلنی چاہیے۔ساری اشیاء کی بجائے بچیوں کوتعلیم و تربیت اور اخلاق کا جہیز دینا چاہیے کہ مانا اس راہ پر چلنا مشکل ہے ، ناممکن نہیں،بس ایک قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔چاہے وہ والدین ہوں چاہے ،وہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے بس ایک قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ہمیں اس مسئلے کے لئے کچھ کرنا چاہیے کیونکہ اگر یہی سب چلتا رہا توغریب گھر کی بیٹی گھر ہی بیٹھی رہ جائے گی۔ یہ مسئلہ ہم سب کا ہے، کیونکہ بیٹیاں سب کے گھرمیں ہوتی ہیں، چاہے وہ بہن ہو یا بیٹی ہوظاہر ہے یہ مسئلہ ہر کسی کے گھر کا ہے ،پاکستان کا ہے تو پھر یہ آپ کا بھی ہے۔ہمیں اپنے ملک میں اگر تبدیلی لانی ہے تو پہلے اپنے گھرسے شروعات کرنا ہو گی ،کیونکہ تبدیلی کبھی تم سے نہیں آتی ہمیشہ میں سے آتی ہے ،اگر آپ چاہتے ہیں کے کوئی آپ کے گھر کی بیٹی کی قیمت نہ لگائے تو آپ بھی کسی کے گھر کی بیٹی کو بے مول مت نہ کریں اور اگر ہم ٹھان لیں کہ اس بُرائی کواپنے پاک وطن سے نکال دینا چاہیے تو یہ زیادہ مشکل نہیں بس ایک دفعہ ہمت کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

کالم -