امام آزادی و حُرّیت، حضرت حافظ محمد صدیق القادریؒ

امام آزادی و حُرّیت، حضرت حافظ محمد صدیق القادریؒ

امام آزادی و حُرّیت،

حضرت حافظ محمد صدیق القادریؒ

فقیر حکیم سرور حسین زاہد قادری نقشبندی

حضرت حافظ الملت محمد صدیق قادریؒ 1234 ہجری میں اس جہان فانی میں تشریف لائے۔وہ دور سیاسی ابتری اور مذہبی و سماجی افراتفری کا تھا۔یہ وہی دور ہے جس میں مجدّدِ دین و ملت حضرت شاہ ولی اللہؒ محدث دہلوی اپنی خدا داد صلاحیتوں سے دین متین کی احیا ء کی بھر پور تحریک کا آغاز کر چکے تھے۔ خانقاہی نظام زوال پذیر تھا۔حضرت حافظ الملت ؒ نے انہی نامساعد حالات میں آنکھ کھولی۔ آپ ؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر سے حاصل کی اور حفظ قران کے لئے سوئی شریف حضرت سیّد محمد حسن جیلانی ؒ کے مدرسہ میں تشریف لے گئے۔ یہاں آپ ؒ ایک منفرد طالب علم کی حیثیت سے علم حاصل کرتے رہے آپؒ کے قطب زمانہ ہونے کی پیش گوئی بھی زمانہ طالب علمی میں ہو چکی تھی۔

حفظ قران کے بعد آپ ؒ اپنے شیخ مکرم ؒ کی خدمت میں روحانی تعلیم و تربیت کے لئے حاضر ہوئے اور سلسلہ عالیہ قادریہ نقشبندیہ کے تمام ذکرو اذکار و اعمال میں پوری لگن اور محنت سے اتمام و کمال حاصل کیا۔ خانقاہ عالیہ سوئی شریف کے زمانے میں آپؒ نے جہاد پتن منارہ میں ایک قابل فخر سپہ سالار کی خدمات انجام دیں۔ کفر و شرک میں ڈوبے ہوئے معاشرے میں آپ ؒ کے اس جہاد کے ذریعے زلزلہ طاری ہو گیا۔ حافظ الملتؒ کی مجاہدانہ سرگرمیوں نے معاشرے پر ایسا خوشگوار اثر ڈالا کہ ظلمت و گمراہی میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے لئے آپؒ کی ذات گرامی مرکز رشدو ہدایت بن گئی۔

امکانِ غالب ہے کہ حضرت حافظ الملت ؒ نے1258ہجری میں درگاہ عالیہ بھر چونڈی شریف کی بنیاد رکھی جو دیکھتے ہی دیکھتے مر جع خلائق بن گئی۔ آپؒ نے نہ صرف حفظ قران کی نعمت عظمیٰ مخلوق کو عطا کی،بلکہ قران و حدیث اور دیگر علوم دینیہ کی تعلیم سے بھی لو گوں کو روشناس کرایا۔ حضرت حافظ الملتؒ سے اخذِ فیض کرنے والے مردان حرّیت کی شاندار جماعت ہے ان میں محسن اسلامیان سندھ حضرت حافظ محمد عبداللہ ؒ ‘ خلیفہ عبدا لغفار خان گڑھیؒ ،سیّد تاج محمود امروٹی ؒ شیخ المشائخ خلیفہ غلام محمددین پوری ؒ ‘ ملامحمد حسن کابلی ؒ ‘ خلیفہ دل مراد بلوچستانیؒ اور امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی ؒ ایسے نابغ�ۂ روزگار افراد شامل ہیں جو اپنی ذات میں ایک ادارہ اور حافظ الملت ؒ کے صحیح جانشین ثابت ہوئے۔

حضرت حافظ الملت ؒ نے تخلیقی اور تصنیفی میدان میں ایسے شاہ پارے تخلیق کئے جن کے مطالعہ سے انسان کے ظاہر و باطن میں انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ آپؒ کے ملفوظات کا فارسی زبان سے اُردو ترجمہ ’’جامِ عرفان‘‘ کے نام سے منصہ شہود پر آچکا ہے۔ حافظ الملت ؒ اولیاء اور مشائخ کے سر خیل تھے۔ آپؒ کی فکری و نظری تعلیم سے ایک زمانہ سیراب ہوتا رہے گا۔آپ نے 74برس کی عمر عزیز بسر کرنے کے بعد 10جمادالثانی 1308ہجری کو عالم بقاء میں تشریف لے گئے۔آپؒ کاسالانہ عرس مبارک درگاہ عالیہ قادریہ بھر چونڈی شریف میں فخرالمشائخ حضرت پیر عبدالخالق القادری سجادہ نشین بھر چونڈی شریف کی زیر سرپرستی منعقد ہوتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1