باشعور عوام کارکردگی کو فراموش نہیں کرتے !

باشعور عوام کارکردگی کو فراموش نہیں کرتے !
باشعور عوام کارکردگی کو فراموش نہیں کرتے !

  



وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے 10مارچ 2018ء کو تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے کے پہلے یونٹ کا افتتاح کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا آغاز پوری قوم کے لئے کسی بہت بڑی خوش خبری سے کم نہیں ہے۔یہ تربیلا 4، یونٹ ون470میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا ۔ اس اہم منصوبے کا دوسرا یونٹ آئندہ ماہ اپریل میں ،جبکہ تیسرا یونٹ اسی سال کے ماہ مئی میں اپنی پیداوار شروع کر دے گا۔ اس منصوبہ سے حاصل ہونے والی سالانہ 3ارب 84کروڑ یونٹس بجلی نہ صرف بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کا باعث بنے گی، بلکہ ملک میں بچا کھچا بجلی کا بحران بھی ختم ہو جائے گا۔ وفاقی حکومت کے میگا پراجیکٹس میں یہ منصوبہ اس اعتبار سے زیادہ اہم ہے کہ سابقہ حکومتوں کی غفلت اور عدم دلچسپی کی وجہ سے عوام اور صنعتوں کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے بے حال او رتباہ کر کے رکھ دیا تھا، لیکن مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے توانائی کے بحران پر خصوصی توجہ دی ۔ پے در پے انرجی منصوبے لگا کر اپنے انتخابی منشور اور عوام سے کئے ہوئے وعدوں کے مطابق ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر کے ایک نا قابل یقین اور بے مثال کارنامہ سر انجام دیا ہے۔اسی تسلسل میں تربیلا 4کا یہ منصوبہ تیزی سے روبہ تکمیل ہے جس کے بعد سسٹم میں اضافی بجلی موجود ہوگی، جس کے باعث موسم گرما میں عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب نہیں سہنا پڑے گا۔

تربیلا 4منصوبے کے مزید دو یونٹس مکمل ہونے کے بعد مجموعی طور پر اس منصوبہ سے 1410میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی جو پاکستان کے لئے بجلی میں خود کفالت کا خوش گوار پیغام ثابت ہوگی ۔اس منصوبہ سے قبل تربیلا ڈیم سے سالانہ 16ارب یونٹس بجلی پیدا ہوتی تھی، لیکن اب تربیلا 4کی پیداوار شروع ہونے کے بعد سالانہ 3ارب 84کروڑ اضافی یونٹس حاصل ہوں گے ۔ جس کے بعد یہاں سے بننے والی سالانہ بجلی 19ارب 84کروڑ یونٹس تک بڑھ جائے گی ۔ اس عظیم منصوبے کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’’ 60سالوں میں بجلی ااور گیس کے اتنے منصوبے نہیں لگائے گئے جتنے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ان 5سالوں میں مکمل کئے ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ نیلم جہلم اور بھاشا دیامیر ڈیم بھی زیر تعمیر ہیں ، جن کی تکمیل کے بعد ہم بجلی ایکسپورٹ کرنے کے قابل ہوجائیں گے ۔‘‘وزیر اعظم کا یہ بیان حقیقت پر مبنی ہے اور ملک و قوم کے لئے روشن مستقبل کی نوید ہے۔

پانی اور بجلی کا بحران موجودہ حکومت کو ورثے میں ملا تھا اور توانائی کے منصوبوں پر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق اور پرویز مشرف کی سابق حکومتوں کی عدم توجہ کے باعث بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ اٹھارہ گھنٹے تک جا پہنچا تھا ۔ عوام گھروں میں بجلی کے بغیر زندہ درگور تھے توبجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ملک میں صنعتوں ، فیکٹریوں اور کارخانوں کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا تھا ۔ صنعت کا پہیہ جام ہونے سے بے روزگاری نے محنت کشوں کی چیخیں نکال دی تھیں ، لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کی تمام تر رکاوٹوں ، دھرنوں ، احتجاجوں اور لانگ مارچوں کے باوجود نہ صرف توانائی کے نئے منصوبے شروع کئے، بلکہ ریکارڈ مدت میں ان منصوبوں کی تکمیل کر کے عوام کو بجلی بحران سے نجات دلادی ہے۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے بیان کے مطابق اب حکومت ایک قدم اور آگے بڑھ کر اس کوشش میں ہے کہ اضافی بجلی پیدا کر کے دوسرے ممالک کو فروخت کی جائے ۔ یہ موجودہ حکومت کی ناقابل یقین کارکردگی ہے۔ کل تک جو قوم بجلی کی کمی سے عاجز تھی، آج اگر وہ اضافی بجلی پیدا کر کے دوسرے ممالک کو فروخت کرنے کے منصوبے بنتے دیکھ رہی ہے تو حکومت کو یہ اعتماد بھی رہنا چاہئے کہ عوام کبھی کارکردگی کو فراموش نہیں کرتے۔

لاہور ، چکوال ، لودھراں ، سرگودھا کے پے در پے ضمنی انتخابات میں عوام نے عملاً ثابت بھی کر دیا ہے کہ عوام نے موجودہ حکومت کی کارکردگی پر شاباش دیتے ہوئے ان کو بھاری اکثریت سے کامیابیاں دلوائی ہیں ۔ بجلی بحران کا خاتمہ موجودہ حکومت کا ایسا انقلابی کارنامہ ہے جس کی امید بھی عوام نے چھوڑ دی تھی اور مایوسی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ ہر بندہ دھائی دے رہا تھا ’’ اب اس ملک سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کوئی ختم نہیں کر سکے گا۔ ‘‘لیکن۔۔۔ آج ہم یہ خوشگوار منظر دیکھ رہے ہیں کہ قلیل عرصہ میں مسلسل اور انتھک محنت سے اس بدترین بحران کو قبر میں دفن کر دیا گیا ہے۔ اگر اس حکومت کو آزادانہ طور پر اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے دیا جاتا تو نتائج اس سے بھی شاندار ہونے تھے ،لیکن خود کام نہ کرنے والے سیاسی مداریوں نے پوری کوشش کی کہ حکومت کو کوئی کام یکسوئی سے نہ کرنے دیا جائے، لیکن اب عوام بہت باشعور ہو چکے ہیں ۔ عوام کو دکھائی دے رہا ہے کہ کون کام کر رہا ہے اور کون ٹانگیں کھینچ رہا ہے ۔عوام اس تماشے کو سمجھ رہے ہیں کہ کس نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ بیچے اور کس نے خریدے۔ عوام دانتوں تلے انگلیاں دبا کر پی ٹی آئی اور پی پی پی اتحاد کو بھی دیکھ رہے ہیں کہ کل تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے آج بغیر کسی بنیاد کے ایک دوسرے سے بغل گیر ہوگئے ہیں ۔ عوام ووٹ کی توہین کو بھی محسوس کر رہے ہیں ۔ عوام کے بپھرے ہوئے موڈ سے اندازہ یہی ہو رہا ہے کہ 2018ء میں اگر منصفانہ اور آزادانہ الیکشن ہوئے تو ’’ کارکردگی ‘‘ کو پہلے سے بڑھ کر بہت بڑا ووٹ پڑنے والاہے۔

حکمران جماعت کو اگر عوام ضمنی انتخابات اور مسلم لیگ کے جماعتی جلسوں میں پذیرائی دے رہے ہیں تو عوام کے جذبات ، توقعات اور امیدوں کی قدر کرتے ہوئے مسلم لیگ کے رہنماؤں کو پہلے سے بڑھ کر محنت کرتے ہوئے باقی رہ جانے والے ڈھائی ماہ میں اپنے نامکمل ترقیاتی کاموں کو تکمیل پذیر کرنا ہوگا اور اپنے انتخابی منشور کے خاکوں میں ادھورے رہ جانے والے رنگ مکمل کرنا ہوں گے ۔یہ مسلم لیگ ن کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ وفاقی یا پنجاب حکومت کے خلاف جتنے بھی اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج ہوئے ، ان میں حکمران جماعت کے مختلف رہنماؤں کی ذات پر کیچڑ تواچھالا گیا اور بے سروپا الزامات بھی لگائے گئے، لیکن کسی ایک احتجاج میں بھی مسلم لیگ ن کے انتخابی منشور کو ہدف تنقید نہیں بنایا گیا۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی مسلم لیگ کے انتخابی منشور میں کوئی کمی کوتاہی نکالنے میں ناکام رہی ہیں۔

آمدہ انتخابات میں بھی تمام جماعتوں کو عوام کے ہاتھوں میں ایک جامع منشور تھمانا ہوگا ، جس کے تحت یہ سیاسی جماعتیں انتخابی دنگل میں اتریں گی ۔اس منشور میں ہر جماعت کو سی پیک منصوبہ کو تکمیل پذیر کرنے کے علاوہ بجلی کے بعد پانی کے بحران کو ختم کرنے کی بھی مکمل پلاننگ دینا ہوگی ۔ پانی کا خوفناک بحران ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے ۔ہر جماعت کو اپنے انتخابی منشور میں ڈیموں کی تعمیر کو خاص اہمیت دینا ہوگی ۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آبی ذخائر کی کمی اور ضیاع کی وجہ سے ملک کو سالانہ 30ارب ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ زرعی ملک ہونیکے باوجود پانی کا اس قدر بڑا نقصان نہ صرف ہماری معیشت کے لئے زہر قاتل ہے، بلکہ زراعت کے شعبہ کو بھی اس سے شدید ترین نقصان پہنچ رہا ہے ۔سالانہ 30ارب ڈالر کا صرف پانی کی مد میں نقصان کوئی معمولی نقصان نہیں ہے۔اس خطیر رقم سے کتنے ہی ڈیم بنائے جا سکتے ہیں ، کتنی ہی نہریں اور بیراج تعمیر کئے جا سکتے ہیں ۔ یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

ہمیں اس غفلت کا ادراک کرنا ہوگا کہ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب اور دریائے جہلم کا پانی چوری کرکے اپنے ڈیموں میں ذخیرہ کر رہا ہے اور اپنی زمینوں کو سیراب کر رہا ہے ، دوسری جانب ہمیں جو بچا کھچا پانی ملتا ہے، اسے محفوظ کرنے کی بجائے ہم اپنی نالائقی سے اسے سمندر برد کر رہے ہیں۔ یہ خبر بھی الارمنگ ہے کہ بھار ت اب پاکستان کے اوپر ایک اور واٹر بم حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔بھارت نے پاکستان کی سونا اگلتی زمینوں کو بنجر بنانے کے لئے دریائے راوی اوردریائے جہلم کے پانی پر نقب زنی کے بعد دریائے کابل کا پانی روکنے کی بھی پلاننگ کر لی ہے۔اطلاعات کے مطابق بھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر دریائے کابل پر ڈیم بنانے کا ابتدائی کام مکمل کر لیا ہے اور اس ڈیم کی فزیبلٹی اور ڈیزائین مکمل کیا جا چکا ہے۔اگر یہ ڈیم بن گیا توپاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ دریائے کابل کا اصل منبع چترال ہے جو ارندو کے مقام پر افغانستان میں داخل ہوتا ہے اور چھوٹے موٹے نالوں اور چشموں کا پانی جمع کرتا ہوا یہ دریا سالانہ 2کروڑ 30لاکھ ایکڑ فٹ پانی پاکستان میں لاتا ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر سے پاکستان اس پانی سے بھی محروم ہو جائے گا ۔ یہ صورتحال بہت نازک اور ارباب اختیار کے لئے غور و فکر کی متقاضی ہے ۔موجودہ اور آنے والی کسی بھی حکومت کو جنگی بنیادوں پر پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے کے بڑے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دینا ہو گی ۔ اس وقت زراعت کے پانی کی کمی کے علاوہ ہمیں پینے کے پانی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے ۔ ہر سیاسی جماعت کو آئندہ پانچ سالوں کے لئے انتخابی منشور سازی کے وقت ڈیموں ، نہروں اور بیراجوں کی تعمیر کو خصوصی اہمیت دینا ہوگی ۔ورنہ ہم بھارت کے ساتھ جنگ میں تباہ ہوں نہ ہوں ، پانی کی کمی کا شکار ہوکر ضرور تباہ ہو جائیں گے ۔

مزید : رائے /کالم