مسلم لیگ (ن) میڈیا سیل کی تنظیم نو ضروری

مسلم لیگ (ن) میڈیا سیل کی تنظیم نو ضروری
مسلم لیگ (ن) میڈیا سیل کی تنظیم نو ضروری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

حکومت اب الیکشن 2018ء سے قبل تک صرف بجٹ 2018-19ء کی مہمان ہے اور اس کے بعد لاکھوں ووٹوں کی گنتی کا ایک نیا عمل شروع ہوگا، اور نئی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ 75 فیصد ان پڑھ ووٹر پولنگ سٹیشنوں پرقطاریں بنائیں گے اور ووٹ دے کر گھر چلے جائیں گے۔ ہو سکتا ہے جو امیدوار انہیں بسوں، ٹرکوں، ٹرالیوں میں ’’ڈھو ڈھا‘‘ کر لاتے ہیں، وہ انہیں واپسی کے لئے ٹرانسپورٹ بھی نہ دیں، کیونکہ اس کے بعد تو ان سے کرایہ مانگنے والے انہیں تلاش کررہے ہوتے ہیں، لیکن یہاں پر خدا کے فضل سے ایسی سیاسی پارٹیاں بھی موجود ہیں (مثلاً ایم کیو ایم) جن کے جمع کردہ فنڈز شاید آنے والے 25 برس میں بھی ختم نہ ہوں، وجہ اس کی یہ ہے کہ جو پارٹی بھی 25 برس لگا کر قومی افق پر اپنی شناخت بناتی ہے، اسے جاتے جاتے بھی کم و بیش اتنا ہی عرصہ لگ جاتا ہے۔۔۔یہ بات میں پہلے بھی اپنے کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب سے ختم کرنے کے لئے جو کمیٹی میاں نواز شریف نے بنائی تھی، اسے پنجاب سے اس پارٹی کو چلتا کرنے کے لئے واقعی 25-20 برس کا عرصہ لگا اور اس میں تھوڑا بہت حصہ چودھری برادران کا بھی ہے، کیونکہ پرویز الٰہی کو نائب وزیراعظم بنا کر نہ تو الگ جہاز دیا گیا، اور نہ ہی وہ دقعت۔۔۔

راقم نے کافی عرصہ چودھری خاندان اور میاں شریف مرحوم کے خاندان کے ساتھ گذارا ہے، کیونکہ جناب مجید نظامی مرحوم کے ساتھ دونوں خاندانوں کا رشتہ ایسا تھا، جو ان کے جانے کے بعد آج بھی قائم ہے۔ میاں شریف فیملی (نواز شریف، شہباز شریف) نے 1972ء میں جب اتفاق فونڈری بھٹو حکومت نے سرکاری تحویل میں لے لی تھی، بہت صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا، کوئی اچھل کود بھٹو کے خلاف نہیں کی، بلکہ ان کی پارٹی کے اہم لوگوں کو نسبتاً زیادہ دوست بنایا، یہی وجہ ہے کہ جب ضیاء الحق دور میں میاں نواز شریف وزیر خزانہ بنے اور پھر وزیراعلیٰ بنے تو ان کی مسلسل نوازشات پیپلز پارٹی (خصوصاً لاہور گروپ) پر جاری رہیں۔ پیپلز پارٹی کے اس عرصے میں مصطفےٰ کھر ہوں یا ملک معراج خالد، ملتان کے صادق قریشی ہوں یا حنیف رامے، کسی ایک کی بھی جرأت نہیں تھی کہ وہ کسی بھی چوکی یا تھانے میں میاں شریف خاندان کے خلاف ایک بھی ایف آئی آر کٹواتا، (یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ میاں نواز شریف کے ساتھ راستہ الگ کرنے اور جنرل پرویز مشرف کا اثاثہ بننے والے چودھری برادران نے بھی کبھی ایف آئی آر کی سیاست نہیں کی)۔۔۔ مجھے تو آج تک حیرت ہے کہ بیگم کلثوم نواز کو ضرورت پڑنے پر ان چودھری برادران نے کیوں مدد نہیں کی اور پھر جب زرداری بھی ان چودھریوں کو چھوڑکر چلا گیا تو ان کی آنکھ اب تک کیوں نہیں کھل رہی اور کیا یہ لوگ صرف اگلے الیکشن میں چندہ اکٹھا کرنے کے لئے ہی دکھاوے کے طور پر سائیکل کا نشان سجائیں گے۔


میں مانتا ہوں کہ نام بڑا اور درشن چھوٹے کے باوجود انہیں یہاں سے ہی نہیں جرمنی، گلاسگو، سکاٹ لینڈ اور شاید بہت سے دوسرے غیر ممالک سے بھی ہمارے پاکستانی چندے دیں، لیکن ، مونس الٰہی ہو یا چودھری شجاعت کی اولاد، ان کا عوام اور ووٹروں کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں رہا۔ مسلم لیگ ڈیوس روڈ والے دفتر میں اُلو بولتے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں جب راقم فیلڈ مارشل ایوب خان کے زیر سرپرستی اخبار کوہستان راولپنڈی کا چیف رپورٹر اور لاہور میں کنونشن لیگ کا پی آر او تھا تو وہ مسلم لیگ ایک مضبوط جماعت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو اس پارٹی کے جنرل سیکرٹری تھے، اور سینیٹر آصف کرمانی کے والد سید احمد سعید کرمانی (جو ان دنوں بیمار ہیں) مغربی پاکستان مسلم لیگ کے صدر تھے۔ ان دنوں اس مسلم لیگ کے دفتر میں ہر روز کوئی نہ کوئی سیاسی تقریب منعقد ہوتی تھی۔۔۔ (بے شک سرکاری ٹائپ کی ہی سہی) ۔۔۔ میڈیا میں تو ایوب خان کے جانے کے بعد ملک محمد قاسم مرحوم کی ہر روز پریس کانفرنس ہوا کرتی تھی ۔

نوابزادہ نصر اللہ خان بھی ہر روز ہی پریس کانفرنس کیا کرتے تھے۔ آج میڈیا جس قدر ترقی پذیر ہے، سیاسی پارٹیاں اتنی ہی نیچے جارہی ہیں۔میاں نواز شریف جب مری سے اسلام آباد آتے جاتے تھے تو راستے میں پتھر توڑنے والے مزدوروں کے ساتھ نہ صرف دوپہر کا کھانا بھی کھا لیتے تھے بلکہ ان کے بہت سے معاملات بھی حل کرتے رہتے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ ان کے ساتھ ایسی محبت اور اپنائیت تھی کہ خدا کی پناہ، ایسی ہی اپنائیت بھٹو کو 1967ء سے 1970ء کے درمیان پاکستان کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طالب علموں کے ساتھ تھی، کیونکہ تین برس کے دوران انہوں نے بہت سی یونیورسٹیوں کا دورہ کیا تھا اور طالب علموں سے ملتے رہے، بلکہ 1970ء کی اسمبلیوں کی ٹکٹیں بھی انہیں دی تھیں۔ جامعہ نعیمیہ میں آج ویسے ہی طالب علم ہیں جو حکمرانوں کی دید کو ترس رہے ہوتے ہیں کہ کاش کوئی ان کی طرف بھی توجہ دے۔ جو والدین سب کچھ فروخت کرکے میڈیکل، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، دندان سازی، فارمیسی کی تعلیم دلوا تے ہیں، وہ بھی بچوں کا منہ تکتے رہتے ہیں کہ انہیں کام ملے، تو یہاں مگر معاملات ہی دوسرے ہیں۔ اربوں کے منصوبے اس لئے لائے جاتے ہیں کہ چند لوگ انہیں مکمل کریں۔

نواز شریف کے لئے یہ نوجوان طبقہ بھی جو جذبات رکھتا ہے، وہ بہت ہی اچھے جذبات ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ نہ تو ان کی بات مسلم لیگ جیسی سیاسی پارٹی تک پہنچائی جاتی ہے اور نہ ہی اس کا حل سوچا جاتا ہے۔ پیار کے ایسے لمحوں کی قدر کریں اور انہیں ملنے جیل جائیں، ان کے گھروں میں جائیں، پولیس کی مت سنیں، مجھے یاد ہے کہ میاں نواز شریف کی سیاست کے اوائل دور میں جب میرا تعلق محکمہ تعلقات عامہ پنجاب سے بطور ڈی جی پی آر تھا تو اس وقت میاں نواز شریف کے جلوس لاہور سے ملتان، راولپنڈی اور دوسرے شہروں میں جاتے تو لوگ، خصوصاً نوجوان ان کی ایک جھلک دیکھنے گاڑی کے ساتھ ساتھ کئی کئی فرلانگ بھاگتے رہتے تھے۔ کئی نوجوان توجہ حاصل کر نے کے لئے لال رنگ بھی پانی میں ملا کر گاڑی پر ڈالنے کی کوشش کرتے تو محافظ پارٹی کے لوگ ان کی دھلائی کر دیتے۔ ایسے میں اگر میاں صاحب کو پتہ چلتا تو وہ جلوس کو رکوا کر گاڑی سے اترتے اور اس کی جان چھڑاتے۔

اسلامی جمہوری اتحاد کی الیکشن مہم کے دوران جب کراچی ایئر پورٹ سے نواز شریف کا جلوس مزارِ قائد اعظم تک جاتے ہوئے36 گھنٹے تک رواں دواں رہا تو وہاں بھی ایسے واقعات دیکھے گئے، لیکن وہ تمام شہر چونکہ ایم کیو ایم کی زیر نگرانی تھا اس لئے انہوں نے ایسے تمام واقعات کو خود ہی کنٹرول کیا۔ وہاں جلوس میں پنجابیوں، پٹھانوں، سندھیوں اور بلوچوں کے ساتھ ساتھ زیادہ بڑی تعداد ان کے یعنی ایم کیو ایم کے لڑکوں کی تھی، آج جو ضرورت نوجوان طبقے کے ساتھ مسلم لیگ کی ہے، وہ سب پر عیاں ہے، اگر کوئی یہ خیال کرے کہ سب کچھ فنڈز سے ہوگا تو یہ سوچ صحیح نہیں۔ آج شاید حالات قطعی مختلف ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ ایسے لوگ بھی میڈیا میں ساتھ ملائیں جو تنخواہ سے زیادہ اپنی بات منوانا ضروری خیال کریں۔ میاں نواز شریف چونکہ ان دنوں (اسی اور نوے کی دہائی میں)سیاست میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے، لہٰذا وہ میڈیا سیل کی ہر آواز پر لبیک کہتے تھے اور میڈیا کا کوئی کل پرزہ ان کے دروازہ کے باہر محض دربان بن کر کھڑا نہیں ہوتا تھا، کام کرنے والے آدھی رات تک کام میں مصروف رہتے تھے، لیکن جی حضوری کرنے والا کوئی میڈیا پرسن ان کی ٹیم میں شامل نہیں تھا۔ میڈیا سے ان کی یہ محبت اس وقت بھی تھی جب وہ صرف طالب علم تھے، اس وقت بھی پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کے والد مرحوم شبیر شاہ صاحب جو ’’پاکستان ٹائمز‘‘ راولپنڈی کے چیف رپورٹر تھے، ان کے مری والے گھر میں آتے جاتے تھے اور ان کے والد مرحوم اور میاں نواز شریف، شہباز شریف کے ساتھ نہ صرف یہ کہ وقت گذارتے تھے، بلکہ بہت سی پتے کی باتیں بھی بتاتے تھے۔ نوائے وقت کے مرحوم مجید نظامی کے ساتھ بھی مرحوم میاں شریف کے بہت اچھے تعلقات تھے۔ حد تو یہ تھی کہ جب میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب اورپھر وزیراعظم کے طور پر کام کررہے تھے تو باقاعدگی کے ساتھ اپنے والد کے ہمراہ اکثر چھٹی کے روز شہباز شریف کو بھی ساتھ لے کر نظامی صاحب کے میسن روڈ والے گھر پر حاضری دیتے رہتے تھے۔ میاں صاحبان کو پوری طرح علم ہے کہ میڈیا نے ان کی سیاسی آب یاری میں بے حد مدد کی ہے اور ہمیشہ کی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -