موسموں کی رنگینیاں کہیں کتابوں میں نہ رہ جائیں

موسموں کی رنگینیاں کہیں کتابوں میں نہ رہ جائیں
موسموں کی رنگینیاں کہیں کتابوں میں نہ رہ جائیں

  



 انسانی مزاج  کی خاصیت ہے کہ وہ حالات و واقعات کے ساتھ اپنا موڈ، سوچ اور خیالات کو تبدیل کرتا رہتا ہے ۔   صبح، دوپہر، شام اور رات کے بدلتے لمحوں میں انسانی موڈ ایک جیسا نہیں رہتا۔ موسموں کا  انسانی مزاج پر بہت  گہرا  اثرانداز ہوتا ہے۔   موسم بہار میں پھولوں و پھلوں کی خوشبو و مہک سے انسانی  ذہین کو تقویت ملتی ہے ۔ ذائقے کی حس  اور مہک  و خوشبو کو  سونگھنے کی  ہے ۔ ذہن کے اس حصے کو زبان تصوراتی تمثلیں بھی کہتے ہیں جو دماغ کے حصہ لاشعور سے جڑا ہے۔  ذائقے کوچکھنے  اورخوشبو کو سونگھنےکی صلاحیت  وجدانی اور روح  کی کیفیت میں تبدیلی کا با عث بنتی ہے ۔ قدرتی و فطری خوشبو سے جسمانی صحت کو بہت فوائد ملتے ہیں ۔ ذہن میں محفوظ تصورات  تروتازہو نے لگتے ہیں، تخلیقات ، مشاہدات اور تجربات کی صلاحیتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ جسمانی قوت مدافعت  مضبوط ہوتی ہے۔  

اللہ رب العزت نے وطن عزت   پاکستان  کو بہت دلفریب موسموں سے نوازا ہے کبھی گرمی  تو کبھی سردی ، کبھی خزاں تو کبھی بہار ۔ موسم بہاراں  کے تو   رنگ و روپ   ہی الگ ا ور نرالے  ہیں۔ خوبصورت  دل کش اور دلفریب موسم پوری فضا کو بے شمار پھولوں کی خوشبو اور رنگوں سے معطر اور رنگین کر دیتا ہے اور دل و دماغ  پر خوشیوں کا  سایہ  چھا جاتا ہے ، سورج کی کرنیں   جسم کو بھلی لگتی ہیں ،ٹھنڈی و صاف  ہوا اور  درخت کے سائے میں بیٹھنے سےراحت و سکون ملتا ہے۔کوئل کی کوک،  بلبل اور پرندوں کا چہچہانا بہار کے موسم کی انفرادیت ہے۔

فروری کے اختتام اور مارچ کے شروع میں اس خوبصورت موسم کا  جب آغاز ہوتا ہے تو گویا شہر نگاراں کا رنگ وڈھنگ ہی تبدل  ہوجاتے ہیں ۔ بڑی بڑی شاہراہوں ، کھیت و کھیلیانوں ، باغوں اور پارکوں کے ارد گرد کھلے پھولوں کے تختے،دھوئیں اور ٹریفک کے اڑدہام میں بھی ذہن و دل کو تروتازگی دیتے ہیں۔ بہار کا موسم  ہماری زندگیوں کے لئے  دیگر  تحائف کی طرح  انمول ہے جس کی خاصیت و اہمیت سے انکارکرنا  نہیں کیا جاسکتا ۔ موسم بہار اں کی آمد  رنگوں کی بارات  سے ہوتی ہے  جس کی خوبصورتی ، دل کشی سے ہر ذی  نفس  اپنے اپنے  انداز میں لطف اندوز ہوتا ہے ۔ جشن بہاراں بسنت ، ، میلوں کا انعقاد   یہ بہار کی خوش اور  آمد کا ہی  بغل  ہوتا ہے ۔ موسم بہاراں  جہاں باغوں کو رونق بخشتا ہے وہاں یہ حسین موسم  مزاجوں اور رویوں میں پر مسرت اور  خوشگوار تبدیلی رونما کرتا ہے ،  بہار کے موسم کی  ہوئی نکھری ہوئی ہریالی اور رنگا رنگ  و نسل کے پھولوں کی خوشبو سے معطر فضا ہرذی روح میں خوشی کا احساس  کو اجاگر کردیتی ہے۔ .

 محکمہ موسمیات  نے اپنی رپورٹ میں  انکشاف کیا ہے کہ کلائمیٹ میں تبدیلی کے باعث موسم سرماکا دورانیہ کم اور موسم گرما کا طویل ہو رہا ہے جس کی  وجہ فضائی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، ایٹمی  و تابکاری بجلی گھر،   فیکٹریوں و کارخانوں میں آتشک  و کیمیائی  مادوں کے اخراج سے ماحول اور آب و ہوا کا درجہ میں شدت آرہی ہے جس کی وجہ سے ہر سال سردی کا ایک دن کم اور گرمی کا ایک دن بڑھتا جارہاہے  اگر یہ صورت حال اس طرح رہی  تو آنے والے سالوں میں بہار کا موسم سرے سے  ختم ہی ہو جائے گا۔

آج سے بیس سال پہلے سردیوں  کا سیزن اکتوبر  سے فروری  پانچ ماہ پر محیط تھا جو اب تین ماہ  دسمبر سے فروری تک ہے  ، اسی طرح موسم گرما کے مہینوں جو پہلے  اپریل  سے جولائی کے گراف میں  شمار کئے جاتے تھے اب  ان کا شمار اپریل سے ستمبر  تک ہوتا ہے ۔  اب ضرورت اس امر کی ہے کہ  حکومت اور عوام مل کر اپنے ملک و شہروں کے ماحول کو بہتر بنائیں، درختوں کی کٹائی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں،  فیکٹریوں و کارخانوں میں کیمیائی مادوں کے اخراج کے لئے ہیلتھ سیفٹی سسٹم پر عملدارکو یقینی بنائے،  آبی ذرائع کے وسائل کوگندا ہونے سے  بچائیں،  حرارت وآگ کے ذریعے سے ویسٹ کو ضائع کرنے کی بجائے زمین میں دفن کرنے کے منصوبوں پر ورک کریں، زمین میں زرخیزی کے لئے کیمیکل کھاد کی بجائے دیسی کھاد کا استعمال کریں۔ موسم بہار کے لئے  ان اقدامات کو یقینی بنا کر ہی ہم دلفریب و دلکش موسم کے ساتھ اپنی زندگیوں کو انجائے کر سکتے ہیں بصورت دیگر یہ خوبصورتیاں، تصورات اور دلکش خیالات کتابوں کا حصہ بن  کر رہ جائیں گئی۔  

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ