نیوزی لینڈ کی مساجد میں دہشت گردی

نیوزی لینڈ کی مساجد میں دہشت گردی

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں نمازِ جمعہ ادا کرتے ہوئے49 مسلمان شہید ہو گئے، جن میں خواتین، بچے اور بوڑھے شامل ہیں،چھ پاکستانی بھی شہید ہو ئے،دونوں مساجد میں پاکستان، اُردن، انڈونیشیا، شام، بنگلہ دیش، سعودی عرب، ملائشیا،ترکی اور فلسطین سمیت مختلف ممالک کے مسلمان نمازِ جمعہ کے لئے جمع تھے۔ فوجیوں جیسا لباس پہنے آسٹریلوی سفید فام دہشت گرد نے النور مسجد میں داخل ہو کر خود کار سب مشین گن سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، دہشت گرد نے اپنی سب مشین گن کئی بار لوڈ کی اور مختلف کمروں میں جا کر نمازیوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کرتارہا،اِس مسجد میں41نمازی شہید ہو گئے،دوسری مسجد میں بھی سات نمازی موقع پر اور ایک ہسپتال میں شہید ہوا،اِس مسجد میں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے گئے ہوئے تھے،جنہوں نے بھاگ کر جان بچائی۔ ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے درندگی کی اِس کارروائی کو سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر کیا گیا۔ دہشت گردی کی اِس خونی واردات کے بعد پورے مُلک میں تمام مساجد بند کر دی گئی ہیں اور ان میں نماز باجماعت کی ادائیگی پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔آسٹریلوی وزیراعظم جنیڈا آرڈرن نے اِسے نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذمے داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔اُن کا کہنا تھا کہ مساجد پر باقاعدہ منصوبہ بندی سے حملے کئے گئے، جو دہشت گردی ہے۔

دہشت گردی کی اِس خونریز اور دِل دھلا دینے والی واردات پر عالمی رہنماؤں نے اظہارِ مذمت کیا ہے اور اِسے نسل پرستی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ دہشت گرد کی رائفل پر جو تحریریں لکھی گئی ہیں اور جس طرح واردات کو براہِ راست نشر کرنے کا بندوبست کیا گیا تھا اِس سے لگتا ہے کہ واقعے کی منصوبہ بندی طویل غور و فکر کے بعد کی گئی تھی اور یہ آتشِ انتقام تھی، کسی وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ تو تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا کہ دہشت گردی کا یہ نیٹ ورک کتنی دور تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے ڈانڈے کہاں کہاں ملے ہوئے ہیں،لیکن بادی النظر میں محسوس ہوتا ہے کہ کسی بڑے گروہ نے طویل پلاننگ کے بعد یہ انتظام کیا ہے۔

نیوزی لینڈ اپنے مثالی امن و امان کے لئے مشہور ہے اور اس طرح کی کسی واردات کا تصور اب تک محال ہی سمجھا جاتا تھا۔اگرچہ دُنیا بھر میں اِس واقعے کی مذمت کی جارہی ہے۔اگر واردات کسی مسلمان نے کی ہوتی تو دُنیا بھر میں میڈیا کی کوریج کا انداز زیادہ جارحانہ ہوتا۔اگرچہ برطانیہ کے اخبار ٹیلی گراف نے اِس واقعے کی خبر پر ’’مانسٹر‘‘ (درندہ) کی ایک لفظی سرخی جمائی ہے،لیکن دُنیا کے معروف ترین سوشل میڈیا نیٹ ورک نے محتاط رویہ اپنایا ہے اور واقعے کو دہشت گردی سے زیادہ قتلِ عام کی واردات کا نام دیا ہے۔عالمی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا عمومی رویہ یہی رہاہے کہ اگر دہشت گردی کے کسی واقعے میں کوئی مسلمان ملوث ہو تو اس کے بارے میں طرح طرح کی تفصیلات ڈھونڈ ڈھونڈ کر لائی جاتی ہیں،اس کے پردے میں اسلام پر بھی رقیق حملوں سے گریز نہیں کیا جاتا، حالانکہ مسلمان ممالک کے اندر بھی نام کے مسلمان مساجد میں دہشت گردی کرتے ہیں اور یوں اپنے ناقص فہم کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں،لیکن دہشت گردی کے واقعے میں اگر کوئی غیر مسلم یا سفید فام ملوث ہو تو عام طور پر اس کی ذہنی حالت پر شبہ ظاہر کیا جاتا ہے یا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ حالات کا ستایا ہوا تھا،جس سے تنگ آ کر یا ردعمل میں اُس نے ایسی واردات کر دی، ایسے کسی دہشت گرد کو ’’مسلح حملہ آور‘‘ اور واردات کو قتلِ عام کی واردات کہا جاتا ہے،لیکن نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے تسلیم کیا ہے کہ یہ منظم دہشت گردی ہے۔ اِس واقعہ سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ حملہ آور مسلمان ہو یا غیر مسلم، نشانہ زیادہ تر مسلمان ہی بن رہے ہیں اور نیوزی لینڈ جیسے پُرامن مُلک میں اِس واردات نے مسلمانوں کے مستقبل پر بہت سے سوالات اُٹھا دیئے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اِس سانحہ کے بعد جو جرأت مندانہ موقف اختیار کیا وہ بہرحال قابلِ تعریف ہے۔اُن کا کہنا تھا مرنے والے کہیں سے بھی آئے ہوں وہ ہمارے ہیں، مارنے والے ہمارے نہیں،نہ اُن کی یہاں کوئی جگہ ہے۔انہوں نے یہ موقف اپنی اُن دو پریس کانفرنس میں اپنایا جو انہوں نے اِس واقعے کے بعد یکے بعد دیگرے منعقد کیں۔اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں اِس قتلِ عام کے محرکات کا جائزہ لے کر کسی نتیجے پر پہنچنا ہو گا،اِس فائرنگ سے متاثر ہونے والے زیادہ تر لوگ یا تو مہاجر ہیں یا پھر تارکینِ وطن،جنہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر نیوزی لینڈ کو اپنا وطن بنا لیا۔ انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا ہاں یہ اُن کا گھر ہے اور وہ ہمارا حصہ ہیں۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کھل کر متاثرین کا ساتھ دیا ہے اور دہشت گرد سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔البتہ یہ معلوم کرنا ہو گا کہ وہ یہ واردات کرنے کے لئے آسٹریلیا سے اکیلا آیا یا اُس کے ساتھ کوئی دوسرا گروہ بھی ہے، کیونکہ واردات کا انداز بتاتا ہے کہ یہ کسی ایک ذہن کی نہیں، بہت سے دماغوں کی شرارت ہے۔ دہشت گرد نے اپنا جو منشور سوشل میڈیا پر پیش کیا ہے اس سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے اِس مشن پر دوسرے لوگ بھی لازماً شریک ہوں گے۔

اِس واردات کے بعد برطانیہ کے بہت سے شہروں میں جہاں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں اور جہاں مساجد بھی کثیر تعداد میں ہیں، حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے گئے ہیں، ایسے واقعات کے بعد عموماً اس طرح کے انتظامات معمول کی ایک کارروائی ہے، جو شاید دوسرے ملکوں میں بھی کی جائے، کئی یورپی معاشروں میں اس سوچ کے حامل لوگ بہرحال موجود ہیں،جو نسلی تفاخر پر یقین رکھتے ہیں اور تارکینِ وطن جن کی نفرت کا نشانہ بنتے رہتے ہیں،لیکن ان ممالک میں مقیم مسلمانوں کو حکمت و تدبر کے ساتھ اپنا لائحہ عمل بنانا ہو گا،جن مسلمانوں نے اپنے اپنے وطن کو خیر باد کہہ کر ان ممالک کو اپنا گھر بنا لیا ہے،اب اُن کی آئندہ نسلوں کا مستقبل اور اُن کے گو ناگوں مفادات کا تحفظ بھی انہی ممالک سے وابستہ ہو کر رہ گیا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ