یہ فنڈز اور ترقیاتی کام؟

یہ فنڈز اور ترقیاتی کام؟

  

تحریک انصاف کی طرف سے تواتر کے ساتھ کرپشن کے معاملے کو اچھالا جا رہا ہے۔ انضمام شدہ قبائلی علاقے میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے مبینہ کرپٹ سیاستدانوں پر بھارتی وزیر اعظم مودی تک کو ترجیح دے دی ہے۔ اس سے پہلے وہ بار بار اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کو بھی کرپشن ہی کہتے رہے ہیں۔ بعض باتیں کہنے کو ضرور ہوتی ہیں تاہم ان کی عملی شکل مختلف ہوتی ہے اب نئی صورت حال یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے اور اپنے حمایت یافتہ اراکین قومی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کا اجراء کر دیا ہے اور پندرہ پندرہ کروڑ روپے کے حساب سے 24 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ اسی طرح حکومت پنجاب نے بھی برسر اقتدار یعنی حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کو کروڑوں روپے فی کس ترقیاتی فنڈز دئیے ہیں۔ اس میں البتہ یہ شرط عائد کی ہے کہ یہ ترقیاتی فنڈز مختص رقم ہیں اور اراکین اسمبلی اپنے اپنے حلقہ نیابت میں مختلف ترقیاتی سکیمیں تیار کرا کے منظور کرائیں گے اور ان کے لئے مختص رقم سے ان کی منظوری ہو گی۔دلچسپ امر یہی ہے کہ یہ طریقہ کار بھی نیا نہیں۔ ماضی میں بھی یہی کہا جاتا تھا کہ ترقیاتی کاموں کے لئے ترجیحی فہرستیں دیں، پھر متعلقہ شعبوں اور محکموں سے ضروری کارروائی کے بعد رقم مختص ہو گی اور خرچ کی جائے گی۔ اس طریق کار کے تحت اس دور میں بعض چہیتے زیادہ رقم کے کام بھی کروا لیتے تھے۔ تحریک انصاف کو اس پر بہت اعتراض تھا اور کہا جاتا تھا کہ اس طرح رقوم خورد برد ہوتی ہیں، اسی طرح یہ بھی الزام عائد کیا جاتا تھا کہ وزیر اعلیٰ (شہباز شریف) اپنی صوابدید کے مطابق کروڑوں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ یہ اعتراض بجا تھا اسی لئے حکومت سازی کے بعد ابتدائی طور پر چیئرمین تحریک انصاف نے ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنے اور صوابددی فنڈز ختم کر دینے کے اعلان کئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اراکین اسمبلی کی طرف سے جب یہ باور کرایا گیا کہ اگر ترقیاتی کام ہی نہ ہوئے تو ووٹر ناراض ہو جائیں گے اور جو وعدے کئے گئے وہ کیسے پورے ہوں گے چنانچہ بالآخر یہ پابندی ختم کرنا پڑی، اب اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی کو یہ فنڈز جاری کر دیئے گئے قومی اسمبلی کے اراکین کو جاری فنڈز کو تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کر دیا گیا ہے۔دوسری طرف وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزردار نے جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے تونسہ کے لئے کئی کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اب یہ علم نہیں کہ یہ صوابدیدی فنڈز کی بحالی کے ہیں یا پھر ان کو ضمنی بجٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔ بہر حال جو بھی حالات ہیں وہ یوٹرن ہی کہلائیں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -