ابھی بھی وقت ہے، دشمنی نہیں، اختلاف!

ابھی بھی وقت ہے، دشمنی نہیں، اختلاف!
ابھی بھی وقت ہے، دشمنی نہیں، اختلاف!

  

دل بوجھل اور ذہن پر غبار سا ہے، کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی نے بہت کچھ یاد دلا دیا ہے۔ ہم پاکستانی خود اپنے ملک میں اس کا شکار ہیں۔ ماضی میں آئے روز بم دھماکوں، خودکش حملوں اور گولیوں کی بوچھاڑ طفل و جوان اور بزرگ چھین لیتی تھی۔ اس کے باوجود مغرب والے الزام ہم پر ہی لگاتے تھے۔ امریکہ نے عراق اور لیبیا کو تاراج کیا۔

الزام دہشت گردی اور انسانیت سوز کیمیاوی ہتھیاروں کی تیاری کا لگایا، پھر افغانستان میں جو کچھ کیا وہ اب تک بھگت رہے ہیں اور اب شام اور یمن بھی انہی کی ریشہ دوانیوں کے باعث اموات و تباہی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ صدر شکر کہ ہماری مسلح افواج نے ہزاروں قربانیاں دے کرملک کو اس سطح پر پہنچا دیا کہ آج کراچی جیسے شہر میں پی ایس ایل کے میچ ہو رہے ہیں اور آج یہاں فائنل ہو گا۔

دکھ تو یہ بھی ہوا کہ نیوی لینڈ جیسا پرامن ملک بھی دہشت گردانہ کارروائی کی زد میں آیا، یہ الگ بات ہے کہ اس میں نشانہ مسلمان بنے اور ان کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی بھی ہیں کہ نشانہ دو مساجد بنیں جہاں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسلمان جمع ہوئے۔ ایک مسجد میں تو بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم بھی نماز کے لئے گئی ہوئی تھی۔ افسوس تو یہ ہے کہ حملہ آور واضح طور پر آسٹریلین اور خود کو کرسچین کہلاتا ہے، لیکن انہی ممالک میں ایسے بھی حضرات ہیں جنہوں نے اس حملے کو دہشت گردی تصور نہیں کیا اور امیگریشن پالیسی کا نتیجہ قرار دینے کی بھونڈی کوشش کی حالانکہ خود مغربی میڈیا ہی نے پردہ چاک کر دیا اور حملہ آور کی تاریخ اور عزائم بھی بیان کر دیئے، بہرحال یہ اطمینان ضرور ہے کہ مجموعی طور پر اکثریت نے اسے دہشت گردی اور المیہ ہی قرار دیا ہے۔ کیا اب یہ کہنا غلط ہے کہ ہمارا یعنی مسلمانوں کا یہ موقف درست ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب اور کوئی قومیت نہیں۔

یہ بزدلانہ کارروائی ہے جو شدت اور انتہا پسند لوگ کرتے ہیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ واضح طور پر دہشت گردی کی تعریف دہرائی جائے اور اس کے سدِباب کے لئے مل کر کوشش کی جائے یہ نہیں کہ واردات کہیں بھی ہو الزام مسلمانوں پر لگا دیا جائے۔ حالانکہ نائن الیون کے حوالے سے خود امریکہ میں بہت کچھ شائع ہوا جس کے مطابق یہ کارروائی باقاعدہ سازش اور بہت بڑی منصوبہ بندی کے تحت ہوئی، جس کا مقصد ہی دنیا پر بالادستی قائم کرنا ہے۔ یہ امر اور یہ سچائی تو خود مسلمان ممالک کے حکمرانوں پر واضح ہونا چاہیے اور ان کو آپس کے اختلافات ختم کرکے بڑی برائی کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔

دنیا پر نظر ڈالی جائے تو ہمارے اسلامی یا مسلمان ملک دنیاوی دولت سے مالامال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو قدرتی وسائل سے نوازا ہے، جو یا تو حکام اور حکمرانوں کی اپنی ضروریات پر خرچ ہوتے یا پھر ان سے یہ مغربی ممالک ہی مستفید ہوتے ہیں اور ہماری بلی ہمیں کو میاؤں کے مصداق استعمال بھی مسلمان ممالک ہی کے خلاف ہوتے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے جو فلسطین، کشمیر میں ہونے والے ظلم اور جبر کے علاوہ سربیا میں گزرے حالات سے بھی ظاہر ہے کہ مسلمان حریت کا مظاہرہ کریں اور اپنے حق کے لئے آواز بلند کریں تو وہ دہشت گرد اگر مغرب والے سازش کریں اور نیوزی لینڈ جیسی قتل عام کی واردات کریں تو یہ دہشت گردی نہیں زیادہ سے زیادہ انتہا پسندی ہے، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا شدید تر ردعمل بھی ملاحظہ فرمائیں تو اس میں بھی انتہا اور شدت پسندی ہی کا ذکر ہے، جبکہ آسٹریلین منتخب نمائندوں نے تو کھلے بندوں دہشت گردی کی بجائے اسے ردعمل قرار دے کر مسلمانوں کی مغربی ممالک میں آمد ہی کو غلط قرار دیا ہے۔ کیا ایسے ’’دانشور، منتخب حضرات‘‘ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دنیا بھر میں یہ جو آمد و رفت ہے نہیں ہونا چاہیے تو پھر یہ بھی تو لازم ہے کہ مسلمانوں کے ممالک سے بھی تمام غیر ملکی نکل کر اپنے ممالک کو چلے جائیں۔

اسی سلسلے میں اب انصاف اور ناانصافی کا بھی ذکر ہونے لگا ہے تو کیا فلسطین فلسطینیوں اور کشمیر کشمیریوں کا نہیں۔ جہاں اسرائیلی اور بھارتی ناجائز قابض ہیں، جب عوام اپنے حق کے لئے آواز بلند کرتے ہیں تو ان پر گولہ بارود کی بارش کی جاتی ہے۔

مسلسل مطالبے پر مستقل شہادتیں دی جا رہی ہیں، یہ ناانصافی اور ظلم ان ممالک کو کیوں نظر نہیں آتا اور اسے کیوں نہیں رکوایا جاتا اور فلسطینی، کشمیری عوام کو ان کا حق کیوں نہیں دیا جاتا؟ دنیا میں جب تک ناانصافی رہے گی، مظلوم آواز بلند کرتے ہی رہیں گے اور شاید ظلم بھی سہتے رہیں کہ یہ خود سے خردوہوش کا مظاہرہ نہیں کرتے۔

اسی تناظر میں یہ کہنا ہے کہ ہم پاکستانی کب سمجھیں گے۔ یہ ملک دنیا میں سب سے بڑی اسلامی ملک کے طور پر قائم ہوا، ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے ایک سے دو کر دیا، قیام پاکستان بھی عالم اسلام کی امنگوں کا ترجمان تھا اور اب بھی مسلمان تحفظ کے لئے ادھر ہی دیکھتے ہیں، لیکن ہم پاکستانی کیا کر رہے ہیں، ہم تو تہذیب اور اخلاق کو بھی گنوا چکے، اختلاف کو ذاتی دشمنی بنا لیا، خود اعتراف کرتے ہیں کہ اغیار کے نشانے پر ہیں، لیکن خود کو سنوارتے نہیں ہیں، مانا اور یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملکی وسائل کو لوٹا گیا۔ آج ملک بال بال تک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس کی حالت پتلی ہے۔

عوام کا نام لیا جاتا اور ہر کوئی انہی پر جبر کرتا اور نشانہ بناتا ہے۔ حالانکہ آئین و قانون کی بات ہے تو پھر جس نے بھی کیا اسے قانون کے سامنے آئین کے تحت بھگتنا ہو گا لیکن اس کو شدت پسندی کی حد تک لے جانا کس حد تک درست ہے؟ نیب ہو یا کوئی اور محتسب ادارہ سب کو کرپشن کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے اور سب کو تسلیم بھی کرنا چاہیے، لیکن یہ نہیں کہ محض اس وجہ سے دنیا کا ہر کام چھوڑ دیں، اور من مانی کریں، ملک کے اندر بھارتی حملے کے جواب میں اپنایا جانے والا رویہ مستقل ہونا چاہیے اور باقی امور عام (نارمل) انداز میں چلتے رہنا چاہئیں، سب کو مل کر معاشی دلدل کو ختم کرنا ہو گی۔

مزید : رائے /کالم