کیا تعلیم میں سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے؟

کیا تعلیم میں سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے؟
کیا تعلیم میں سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے؟

  

’’اثر‘‘ (ASER) کے نام سے کام کرنے والی ایک تنظیم پاکستان میں تعلیم کی بہتری کے حوالے سے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم مقامی شہریوں کی رہنمائی میں مختلف مقامی خاندانوں کو ساتھ ملا کر کام کرنے والا ایک نیٹ ورک ہے۔ ادارہ تعلیم و آگہی کی سربراہی میں اس نے 2018ء کی اپنی حالیہ رپورٹ شائع کی ہے جس کے اعداد و شمار پاکستان میں تعلیم کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالتے ہیں۔

یہ اعدادوشمار تعلیم کے میدان میں مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد گار ہو سکتے ہیں۔ ایسے منصوبوں پر کام کرنے کا بڑا اور بنیادی مقصد بھی یہی ہوتا ہے۔ 2018ء کی رپورٹ کے مطابق 6 سے 18 سال کی درمیانی عمر کے 83 فی صد بچوں نے سکول میں داخلہ لیا۔ 2016ء میں یہ تعداد 85 فیصد تھی، گویا 2 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا جو کم ہونے کے باوجود بہتری کی جانب ایک قدم ہے۔رپورٹ کے مطابق 11 ہزار رضا کاروں ، شہریوں نے 154 اضلاع میں 4527 دیہاتوں کا دورہ کیا۔

یہ معلومات 89966 گھرانوں اور 3 سے 16 سال کی عمر کے 260069 بچوں سے حاصل کردہ اطلاعات کی بنیاد پر اکٹھی کی گئیں۔ 2018ء کے لئے دیہی علاقوں کے سروے میں 196253 ایسے بچوں کی جانچ اور تشخیص کی گئی جن کی عمر 5 سے 16 سال کے درمیان تھی۔ یہ بچے انگریزی اور ریاضی کے مضامین میں ہم جماعت یا ہم گروہ (Cohort) تھے۔ آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت ہونے والے کام کی کمی یا اضافے کی نشان دہی کرنے کے لیے ایسی رپورٹیں تیار کی جاتی ہیں۔ آئین کی یہ شق 5 سے16 سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم کو ان کا بنیادی حق قرار دیتی ہے۔

ایسی رپورٹیں دراصل Sustainable Development Goals 4 کے مطابق ہونے والی پراگرس کو ٹریک کرنے اور نچلی سطح پر پرائمری تعلیمی عمل کی پیمائش کا جائزہ لینے سے متعلق ہوتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2016ء کے مقابلے میں مدرسہ چھوڑ دینے والے بچوں کی شرح (school drop out rate) کا تناسب کم ہوا ہے۔2012-13ء میں 1.12 ملین لڑکوں اور 0.76 ملین لڑکیوں کی High Stage Education میں انرولمنٹ ہوئیؒ ۔ پانچ سال گزرنے پر High Stage Education، 2016-17ء میں 1.25 ملین لڑکوں اور 0.93 ملین لڑکیوں کی انرولمنٹ ہوئی۔ اس طرح لڑکوں کی انرولمنٹ میں 11.3 فیصد اور لڑکیوں کی انرولمنٹ میں 17.7 فیصد اضافہ ہوا۔PESR (Pakistan Education Statistics Reports) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جو اکیڈمی آف ایجوکیشن پلاننگ اینڈ مینجمنٹ وفاقی وزارتِ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت حکومت پاکستان کی تیارکردہ ہے، میں سکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کی تعداد 22.84 ملین بتائی گئی۔

عالمی سطح پر نائیجیریا کے بعد یہ دوسری بڑی تعداد ہے۔ 2016-17ء کی اسی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کل 51.53 ملین بچوں میں سے پانچ سے سولہ سال کی عمر کے 22.84 ملین یعنی 44 فیصد بچے سکول سے باہر تھے۔ 2018ء میں 17 فی صد بچے سکول سے باہر رپورٹ کیے گئے ہیں۔

22.84 ملین بچوں کے سکول سے باہر رہنے کے حوالے سے ایک توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے بارے میں یہ تعداد سب سے پہلے غیر ملکی اداروں کی جانب سے سامنے آئی اور اس کے بعد اس تعداد کو بلاتحقیق و تصدیق قبولِ عام ملتا چلا گیا اور ہمارے مختلف ادارے اس تعداد کو بے چوں و چرا قبول کرتے رہے، لیکن کچھ حلقوں کی جانب سے اس تعداد کے صحیح ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا، لیکن تردید و تصدیق کا کوئی دو ٹوک بیان سامنے نہیں آیا۔

اب اس حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آرہے ہیں وہ بظاہر ہمارے اداروں کے تیارکردہ دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ اس تعداد کے بارے میں اب بھی کوئی تصدیقی بیان سامنے نہیں آیا، لیکن نئی رپورٹ میں 44 فی صدسکول سے باہر بچوں کی تعداد کا کم ہوکر 17 فی صد پر آجانا خوش آئند ہے، بشرطیکہ یہ اعداد و شمار ہماری اپنی محنت و کاوش کا نتیجہ ہوں، اور اگر ایسا نہیں ہے تو صحیح اعداد و شمار اکٹھے کرنا سب سے پہلے ہماری ضرورت ہے۔

بیان کیا گیا ہے کہ قومی سطح پر سکول سے باہر رہ جانے والے بچوں میں صنفی خلیج (gender gap) ابھی تک برقرار ہے۔ ابھی تک سکول میں داخل نہ ہوسکنے والے بچوں میں لڑکیوں کا تناسب لڑکوں سے زیادہ ہے۔ سکول چھوڑنے والے بچوں میں بھی لڑکیوں کی شرح لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ پری پرائمری تعلیم (Early Childhood Education)کے بارے میں تخمینہ لگا کر بتایا گیا ہے کہ 2014ء میں انرولمنٹ 39 فی صد ریکارڈ کی گئی تھی۔ 2015ء میں یہ کم ہو کر 37 فیصد پر آگئی۔ 2016ء میں 36 فیصد ، 2018ء میں پھر سے بڑھ کر 37 فیصد ہو گئی، یعنی کم ہو کر 36 ہوئی اور بڑھ کر پھر 37 فیصد ہوئی تو اس ضمن میں آخری اضافہ 2014ء میں 39 فیصد تھا جو 2018ء میں بھی بڑھ کر 39 فیصد نہیں ہو سکا۔

مجموعی طور پر گورنمنٹ سکولوں میں پری پرائمری تعلیم (ECE) کے داخلوں میں 8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ نجی سکولوں میں داخلے کی شرح 29 فیصد تک چلی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماضی کی نسبت تعلیم کے معیار میں بھی بہتری آئی۔ جہاں تک اعدادوشمار کے حوالے سے تعلیم کے شعبے میں بہتری کا تعلق ہے تو ہر دور حکومت میں بہتری کی جانب بڑھتے ہوئے اعداد و شمار ظاہر کرنا ایک روایت چلی آرہی ہے، لیکن بہتری کی جانب بڑھتے چلے جانے کے باوجود ہم ہر مرتبہ دیئے گئے اہداف سے پیچھے ہی ہوتے ہیں۔ ایک اچھے نظام تعلیم کی نشوونما کے لیے ایک اچھے سیاسی و سماجی اور صحت مند معاشی ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی بھی ایسے آئیڈیل حالات نہیں رہے جو تعلیم یا دیگر بڑے معاشی منصوبوں کے لیے سازگار ہو سکیں۔ مزید المیہ یہ ہے پاکستان میں کوئی بھی حکومت تعلیم کے معاملے میں سنجیدہ نہیں رہی۔ سنجیدہ ہونے کے پہلے اور فوری معنی یہ ہیں کہ لیڈر شپ کو یہ معلوم ہو کہ دراصل کرنا کیا ہے۔ کام شروع کہاں سے کرنا ہے اور مجموعی جدوجہد کا اصل ہدف اور منزل کیا ہے؟

یہ بات درست ہے کہ ہمیں اس دنیا میں رہتے ہوئے زمانے کی رفتار کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے اقوام عالم میں اپنے عالمی کردار کا تعین کرنا ہے، اور اس کے مطابق راستہ بناتے ہوئے آگے کی جانب بڑھنا ہے، اور بحیثیت قوم خود کو منوانا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر لمحہ تبدیل ہوتی ہوئی اس دنیا اور اس کے چیلنجوں پر گہری نظر رکھیں۔ ہمیں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی حصہ بننا ہے اور اپنے عالمی کردار کو حسن و خوبی سے نبھانا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں ہمیں Sustainable Development Goals کے حوالے سے جو بھی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں ہم انھیں پورا کر کے دکھائیں، یہ ہماری عالمی ذمہ داری ہے، لیکن یہ عالمی ذمہ داریاں ہمیں اپنی مقامی ملکی وقومی ذمہ داریوں سے غافل نہیں کرتیں۔ ہماری تمام ترجدوجہد کا مرکز و محور یونیسکو کے مقرر کردہ اہداف کا حصول ہی نہیں ہے، اگرچہ ہم اس میں بھی کوئی خاص کمال نہیں دکھا رہے ہیں، لیکن پھر بھی تعلیمی اہداف کے حوالے سے عالمی ذمہ داریاں ہمارے راستے کی ایسی رکاوٹیں نہیں ہیں کہ ہم اپنے نظام تعلیم کو اپنے علمی اور اخلاقی اصولوں پر استوار نہ کر سکیں۔

سکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کو سکول بھیجنا، ترک سکول کی شرح کی کم سے کم سطح پر لانا، سکولوں کی تعمیر، اساتذہ کی تربیت، کتابوں کی ترسیل یہ تمام معاملات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کی اہمیت ثانوی ہے، یہ انتظامی نوعیت کے معاملات ہیں، جبکہ فوقیت یہ ہونی چاہیے کہ پہلے یکساں نصاب تشکیل دیا جائے۔ غیر ملکی این جی اوز، عالمی مالیاتی ادارے، سول سو سائٹی کی مقامی تنظمیوں کے ساتھ مل کر جس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں ان پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔

بین الاقوامی ادارے یا ایجنسیاں اپنے ایجنڈے پر ایشیائی، خاص طور پر مسلم معاشروں کو جس طرح اپنے لیے سازگار بنانا چاہتی ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ایجنڈا ہمارے لیے بھی سازگار ہو۔ اس حوالے سے بہت سارے پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مثلاً ایک صنفی برابری (gender equality) کے مسئلے ہی کو لے لیجیے۔ اس ضمن میں مغرب کا اپنا ایک مقصد اور مفہوم ہے۔

ہم مسلمان نہ صرف یہ کہ عورتوں کی تعلیم کے حامی ہیں، بلکہ اس کے بہت بڑے داعی ہیں۔ عورتوں کو مردوں کے مساوی تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے، اس میں کچھ شبہ نہیں۔ اس بات کا تعلق تعلیم کے مساوی مواقع سے ہے۔ اس حد تک ہم مغرب سے متفق ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا تعین ہم نے کرنا ہے کہ ہماری بیٹیاں کیا تعلیم حاصل کریں اور کس طریقہ کار کے ساتھ حاصل کریں۔

طرز و طریق تدریس کا تعین کیسے ہو؟ مغرب نے تعلیم کو ترقی کے اس محدود تصور کے ساتھ وابستہ کر دیا کہ لوگوں کو روزگار ملے، ٹیکنالوجی میں ترقی ہو اور معیشت بہتر ہو۔ بلاشبہ یہ تعلیم کے اہم مقاصد میں سے ہیں، لیکن نظام ونصاب تعلیم کے ذریعے اچھا مہذب اور پُرامن انسان بنانا پہلی ضرورت ہے

ایک ایسا انسان جو آخرت میں اپنے رب کے حضور خود کو جواب دہ سمجھتے ہوئے زندگی گزارے۔ مغرب کی یہ ضرورت ہو یا نہ ہو، ہماری بہر حال یہ ضرورت ہے، لیکن سب سے بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ جب تک ہم بیرونی فنڈنگ پر اپنے نظام تعلیم کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہیں گے، ہم اپنے ایجنڈے پر کام کر ہی نہیں سکتے۔

مزید : رائے /کالم