ارم خان اغواء کیس‘ سی پی او کی رفیع شاہ کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی

ارم خان اغواء کیس‘ سی پی او کی رفیع شاہ کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی

  

ملتان(وقائع نگار) سی پی او ملتان نے بیوہ نرگس ممتاز کو اپنے دفتر میں یقین دھانی کرائی ہے کہ ہم آپ کو انصاف دلوائیں گے۔ کوک پوڈر اور شراب کے ڈیلر اور معصوم لڑکیوں کی زندگیاں خراب کرنے والا رفیع شاہ کو کیفرکردار تک ضرور پہنچائیں گے مجھے یقین ہے کہ مجھے انصاف ضرور ملے گا رفیع شاہ جو کہ اپنے آپ کو سیاسی رہنما بتاتا ہے میری بیٹی کو کوک پوڈر گولیوں کے نشے پر لگا کر اس کا دماغ خراب کردیا ہے۔رفیع شاہ اپنے دوستوں سسرالی اور رشتے داروں(بقیہ نمبر37صفحہ12پر )

اپنے گھر والوں کا ماحول بچانے کے لئے میری بیٹی سے عدالتوں اور ویڈیو میسج نے ذریعے غلط بیان دلوا رہا ہے اور میری بیٹی اسی وجہ سے سہمی ہوئی ہے۔بے بسی کی وجہ سے بیان دے رہی ہے میری بیٹی کی بیبسی بتا رہی ہے ہے کہ میری بیٹی کو مار دے گا۔اور اس سے شادی بھی نہیں۔ کریگا۔ اگر میری بیٹی کو کچھ بھی ہوا تو اس کا ذمہ دار صرف رفیع شاہ ہوگا اس نے میری بیٹی کو کئی دنوں سے اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے اپنے دوستوں سے کہتا ہے کہ اس کے بیان کل کو میرے کام آئیں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ میری بیٹی کو مار دے گا اس نے میری بیٹی کو شادی کے جھوٹے لارے لگاکر اپنے مقدمے میں جھوٹے بیانات دلوا رہا ہے تا کہ وہ اس مقدمے سے نکل سکے۔نہ ہی میری بیٹی سے شادی کرے گا اس نے میری بیٹی سے شادی نہ کی اور میری بیٹی کو کچھ بھی ہوا یا میری بیٹی نے کوئی بھی قدم اٹھایا تو اس کا ذمہ دار رفیع شاہ ہوگا میری بیٹی کی زندگی خراب کرنے والا درندہ کئی ماؤں کے گھر برباد کرچکا ہے رفیع شاہ کہتا ہے کے میں ایک سیاسی ورکر ہوں میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا رفیع شاہ میری بیٹی کو کوک پوڈر۔گولیوں اور دیگر منشیات کی لت کر لگا کر دماغی توازن خراب کر دیا ہے۔اسی وجہ سے میں اپنی بیٹی کا علاج الرحمان ہسپتال سے کروا رہی تھی جس کے لئے میں نے دن رات ایک کیا ہوا تھا۔میری بڑی بیٹی نے مجھے بتایا ہے کہ ارم خان کا فون آیا ہے وہ کہہ رہی تھی کہ امی کو کہو کہ مقدمے کی پیروی چھوڑ دے ورنہ رفیع شاہ اس کو مار دے گا۔میں ایک دیہات میں رہ رہی ہوں۔جہاں رفیع شاہ کے بندے بھی میرے ساتھ ہیں اوردو وکیل بھی اس کے ساتھ ساتھ میرے پاس ہیں بیوہ نرگس ممتاز کا کہنا ہے میری بیٹی کا دماغ ان وکیلوں کے ذریعے خراب کروا رہا ہے میری بیٹی کو مسلسل اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے تاکہ مقدمے سے اس کا پیچھا چھوٹ جائے جب تک میری بیٹی میرے پاس نہیں آتی میں ہر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاؤنگی۔انصاف۔ نہ ملا تو میں خود سوزی کر لو گی جس کی تمام تر ذمہ داری رفیع شاہ پر عائد ہوگی۔

رفیع شاہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -