نیوزی لینڈ میں دہشتگردی کے واقعہ کیخلاف احتجاجی مظاہرے ‘ شہداء کی یاد میں شمعیں روشن

نیوزی لینڈ میں دہشتگردی کے واقعہ کیخلاف احتجاجی مظاہرے ‘ شہداء کی یاد میں ...

  

ملتان‘جلالپور پیروالا(سپیشل رپورٹر‘خبرنگار خصوصی ‘نامہ نگار)نیوزی لینڈ میں،نمازیوں پر جنونی مذہبی دہشت گرد کی منصوبہ بند فائرنگ اور معصوموں کی المناک شہادت،رائفل پر صلیبی جنگوں کے حوالے، اس بات کا ثبوت ہیں کہ مغرب میں سیاسی اور میڈیا کی سطح پر اسلام دشمنی کو ابھارا جارہا ہے۔ایسی دہشت گردی کو مغرب تسلیم نہ کرکے امت مسلمہ کے جذبات سے کھیل رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار(بقیہ نمبر11صفحہ12پر )

وفاق المدارس العربیہ پاکستان جنوبی پنجاب کے ناظم ،مولانا زبیر احمد صدیقی نے جامعہ فاروق اعظم فیصل آباد کے اجتماع ودستاربندی اور جامعہ فاروقیہ شجاع آباد کے اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے حملہ آوروں کو مغرب ذہنی مریض قرار دے کر مسلمانوں کے قتل عام کی راہ ہموار کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے مغرب کی دوہری پالیسی اور اسلام دشمنی کھل کر ظاہر ہوتی ہے۔مسلم امت کو اب اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے دین اسلام کے دفاع میں یکجا ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا واقعہ اگر کسی مسلمان کے ہاتھوں خدانخواستہ چرچ میں ہو جاتا تو پھر دنیا کا ردعمل کیا ہوتا؟انہوں نے کہا کہ جو لوگ دہشت گردی کو اسلام اور مدارس کے ساتھ جوڑتے ہیں، ایسے واقعات ان کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ مغرب کو خوش کرنے کے لئے دہشت گردی کو مدارس کے ساتھ مت جوڑیں ۔انہوں نے ملک بھرکے مسلمانوں اور بالخصوص دینی مدارس کے اساتذہ اور طلباء سے درخواست کی کہ وہ شہدائے نیوزی لینڈ کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا کریں۔انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام نہ کی گئی تو دنیا بھر میں خانہ جنگی پیدا ہو سکتی ہے،ایک مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کے لوگوں پر حملہ آور ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ پیشانی پر کیمرہ لگاکر آنے والے ،بندوق پر اسلام و عیسائیت کی لڑائیوں کے حوالہ لکھنے والے،مسجد اور جمعہ کی نماز کا ادراک رکھنے والے ،نیز فائرنگ کرکے سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل کرنے والے دہشت گرد کو کیسے ذہنی مریض قرار دیا جا سکتا ہے؟یہ ایک منصوبہ بند سازش ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اس واقعہ پر صبر کریں،نیز اپنی حکومتوں کو اس ظلم پر پر امن طریقے سے احتجاج ریکارڈ کروائیں۔مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ سٹی کے زیراہتمام نیوزی لینڈ میں دو مساجد میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعہ کے خلاف لکڑ منڈی چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں شرکاء نے نیوزی لینڈ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور دہشت گردی میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قرار واقعی سزادینے کا مطالبہ کیا احتجاجی مظاہرے کی قیادت مسلم لیگ (ن)یوتھ ونگ سٹی کے صدر زاہد عدنان گڈو نے کی جبکہ اس موقع پر شیخ شہزاد اکرم، رانا اویس، چوہدری نعیم ارشد، رانا محمد عدیل، عبد الرحمان، شیخ فیصل ودیگر نے شرکت کی اس موقع پر زاہد عدنان گڈو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے کی بجائے نیوزی لینڈ میں افسوسناک واقعہ کی مذمت کریں بلکہ ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے پاکستان نیوزی لینڈ سے اس واقعہ کے خلاف شدید احتجاج کرے بلکہ شہید اور زخمی پاکستانیوں کے حوالے سے بھی ذمہ داری پوری کرے مسلم لیگ (ن) نیوزی لینڈ واقعہ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور زخمیوں کی جلد صحت کے لئے دعا گو ہے ۔ ملتان ڈسٹرکٹ بار ہال میں پیپلز لائرز فورم کے وکلاء کی جانب سے سانحہ نیوزی لینڈ کے شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں، اس موقع پر صدر پیپلز لائرز فورم جنوبی پنجاب شیخ غیاث الحق کا کہنا تھا کہ مسجد میں معصوم مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کرنا بہت بڑی دہشتگردی ہے، جس پر انسانیت کے علمبرداروں کو واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو عبرت ناک سزا دینی چاہیے۔صدر پیپلز لائرز فورم جنوبی پنجاب شیخ غیاث الحق نے کہا ہے کہ نیوز ی لینڈ کی مسجد میں معصوم مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کرنا بہت بڑی دہشتگردی ہے۔جس پر انسانیت کے علمبرداروں کو واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو عبرت ناک سزا دینی چاہیے۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نیوزی لینڈ میں مسلمانوں پر ہونے والے حملے پر اقوام متحدہ میں بھی بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا جائے تاکہ آئیندہ مسلم کمیونٹی کو نشانہ نا بنایا جائے۔وہ ڈسٹرکٹ بار ہال میں پیپلز لائرز فورم کے وکلاء کی جانب سے سانحہ نیوزی لینڈ کے شہداء کی یاد میں تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کی ،اور خصوصی دعا بھی کی گئی۔اس موقع پر صدر ڈسٹرکٹ بار ناظم خان، سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل مرزا عزیز اکبر بیگ، مہر اقبال سرگانہ، عمران بھٹہ، فیروزہ فیض سمیت وکلاء کی کثیر تعداد موجود تھی۔ڈسٹرکٹ بارایسوسی اشن ملتان کے زیر اہتمام سانحہ نیوزی لینڈ کے خلاف احتجاجی و تعزیتی اجلاس با ر ہال میں منعقد ہوا اجلاس سے صدر ڈسٹرکٹ بار محمد ناظم خان،سیکرٹری افضل بشیر انصاری،بابر سوئیکارنو، افتخار قریشی،اللہ دتہ کاشف،وسیم ممتاز،طاہر محمود، شیخ ارشد محمود،ملک محمد ظفر اقبال،سلیم اللہ،حبیب بنگیال،اشتیاق احمد،حفظہ رحمن،اجمل خان اور قارب نوید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ نیوزی لینڈ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اسلام کے خلاف تمام طاغوتی قوتیں یکجا ہیں اسلام بھائی چارے اور اخوت کا پیغام دینے والا مذ ہب ہے 9/11کو بہانہ بنا کر پوری دنیا کی امت مسلمہ پر چڑھائی کر دی گئی دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں مسلمانوں اور پاکستان کی ہیں لیکن پھر بھی مسلمانوں کو ہی دہشت گرد کہا جا رہا ہے کشمیر،بوسنیا،فلسطین سمیت دیگر ممالک میں مسلمان ہی دہشت گردی کا شکار ہیں اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کا کردار مایوس کن اور یکطرفہ ہے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اسلام دشمنوں کی سازشیں آج بے نقاب ہو رہی ہیں مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ ایک عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہیں۔ہم جس کے امتی ہیں انہوں نے تمام عمر دشمن کے ساتھ بھی بھائی چارے کا عملی پیغام دیا ہے اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکنے کے لئے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت مسلمانوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ نیوزی لینڈ کے متاثرین پاکستانیوں کو فی الفور سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر ملک حیدر عثمان اور جنرل سیکرٹری میاں ارشد وقاص چھجڑا نے کہا ہے کہ سانحہ نیوزی لینڈ کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے مسلمانوں کا امن و سلامتی کا دین ہے لیکن اسلام دشمن مسلمانوں کو ختم کرنے کے در پے ہیں جو نا ممکن ہے اسلام تا قیامت رہنے کے لئے آیا ہے اور تا قیامت موجود رہے گا مسلمانوں کے ساتھ دہشت گردی آج نئی نہیں ہے بلکہ دنیا کے قیام سے لے کر آج تک اسے ختم کے لئے سازشیں اور کاوشیں جا ری ہیں جسے کسی طور کامیاب نہیں ہونے دیں گے عالم اسلام کے بڑے لیڈر بھی اپنا رول ادا نہیں کر پارہے اقوام متحدہ جو صرف نام کا ادارہ ہے اسے فلسطین،بوسنیا،کشمیر و دیگر ممالک میں مسلمانوں پر ہونے والے بد ترین مظالم نظر نہیں آرہے آج مسلمانوں کے خلاف تمام اسلام دشمن قوتیں یکجا ہیں وقت کی ضرورت ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان آپس میں متحد ہو کر مظالم کا مقابلہ کریں۔نیوزی لینڈ میں نماز جمعہ کے دوران فائرنگ کرکے 49 نمازیوں کو قتل کرنے کی دہشتگردانہ کاروائی کے خلاف ہفتہ کے روز القدیر ہائیر سیکنڈری سکول جلالپور پیروالہ کے زیر اہتمام ایک مذمتی ریلی نکالی گئی۔ خانبیلہ روڈ سے شروع ہونے والی ریلی نے شہر کے مرکزی چوک فوارہ پر قیام کیا‘ اس دوران ریلی میں شریک سکول کے طلباء‘ اساتذہ ودیگر شہری ’’دہشتگرد مردہ باد، اسلام زندہ باد‘‘ اور دیگر مذمتی الفاظ پر مبنی پلے کارڈز اٹھائے مسلمانوں کے قتل عام کی جنونی کاروائی کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ریلی کی قیادت سکول کے پرنسپل سرفراز احمد گجر نے کی‘ انہوں نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا اسلام امن و آشتی ‘ رواداری اور بردباری کا مذہب ہے جس میں دہشت گردوں اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں نماز جمعہ میں فائرنگ کے نتیجہ میں شہید ہونے والے مسلمانوں کا غم ان کے لواحقین کے ساتھ ساتھ پوری امت مسلمہ بھی محسوس کر رہی ہے کیونکہ امت مسلمہ جسمِ واحد کی مانند ہے جس کے کسی بھی حصہ کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت اور بربریت پر مبنی اس کاروائی کی مذمت کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان اور تمام اسلامی ملک سفاک حملہ آور دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مل کر اپنا کردار ادا کریں اور نیوزی لینڈمیں مسلمانوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

احتجاجی مظاہرے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -