نیب نے میرے خلاف جھوٹ کا پلندہ تیار کیا ،شہباز شریف ،اپنا موقف مقررہ تاریخ پر بتائیں ،عدالت

نیب نے میرے خلاف جھوٹ کا پلندہ تیار کیا ،شہباز شریف ،اپنا موقف مقررہ تاریخ پر ...

لاہور( نامہ نگار،این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک،جنرل رپورٹر )آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم اور رمضان شوگر مل ریفرنسز کی سماعت منتظم جج نجم الحسن کی رخصت کے باعث 27مارچ تک ملتوی کر دی گئی ۔احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے رمضان شوگر مل اور آشیانہ ہاؤسنگ ریفرنسزکی سماعت کی۔شہباز شریف، حمزہ شہباز، فواد حسن فواد، احد چیمہ اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے موقف اختیار کیا کہ میرے خلاف قومی احتساب بیورو نے جھوٹ کا پلندہ تیار کیا ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ میرا کیس نہیں اس لئے آپ مقررہ وقت پر عدالت کو اپنا موقف بتائیے گا ۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے شہباز شریف کی طرف سے 265سی کی درخواست بھی داخل کر دی جس میں دو گواہان عبدالستار اور جاوید کے بیانات کی کاپیاں ،ایک یو ایس بی بھی اور بعض دستاویزات کی صاف کاپیاں دینے کی استدعا کی ۔ایک اور استدعا پر جج نے کہا کہ جس عدالت میں کیس ہے شیڈول اسی عدالت کا چلے گا۔عدالت نے حکم دیا کہ شہباز شریف کی حاضری لگا لیں ۔رمضان شوگر مل ریفرنس کی سماعت کے دوران احتساب عدالت کے جج نے حمزہ شہباز کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے موکل کیوں پیش نہیں ہوئے جس پر حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل راستے میں ہیں کچھ دیر تک پیش ہو جائیں گے ۔ جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ اپنے موکل سے کہیں وقت پر عدالت آیا کریں۔حمزہ شہباز شریف کے تاخیر سے پیش ہونے پر عدالت نے ناراضی کااظہار کرتے ہوئے انہیںآئندہ سماعت پر بروقت عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی،بعد ازاں عدالت نے ملزموں اور گواہوں کی حاضری مکمل کرائی اور کیس کی مزید سماعت 27مارچ تک ملتوی کر دی گئی ۔عدالت نے پیش نہ ہونے پر دو ملزمان شاہود محمود اور صادق کے ایک ،ایک لاکھ رو پے کے مچلکوں کے عوض قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ۔شہباز شریف ، حمزہ شہباز کی احتساب عدالت آمد کے پیش نظر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ پولیس کی طرف سے احتساب عدالت کی طرف آنے والے راستوں کو کنٹینر اور خار دار تاریں لگا کر بند رکھا گیا ۔عدالتی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئیمیاں شہبازشریف نے کہا کہ نوازشریف کی ڈیڑھ سال قبل اوپن ہارٹ سرجری ہوچکی ہے جبکہ حکومت ان کی صحت کے مسائل کو سنجیدہ نہیں لے رہی،خدانخواستہ اگرمیں نوازشریف کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت اور وزیراعظم ہوں گے۔ پنجاب اسمبلی میں مراعاتی بل کی منظوری سے متعلق شہبازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے جو مراعات منظورکی گئی ہیں وہ سمجھ سے باہر ہیں،انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ سرکاری مراعات کبھی نہیں لی تھیں جبکہ طبی اخراجات بھی جیب سے ادا کیے تھے۔انہوں نے بتایا کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب 10 سال اپنی ذاتی گاڑی استعمال کیا۔بعدازاں میاں شہباز شریف سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں نے کیمپ جیل میں قید خواجہ سعد ، سلمان رفیق اور حنیف عباسی سے ملاقاتیں کی، اس موقع پر مجموعی سیاسی صورتحال اورمقدمات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں بھائیوں کا مورال بلند ہے ،ہمیں اللہ کے گھر امید ہے کہ انصاف ہوگا ۔ انہو ں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر حکومت کا یہی رویہ رہا تو اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی ہو گی اور گرینڈ الائنس بھی بنے گا۔

شہبازشریف

لاہور (این این آئی) سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے سوموار کو سابق وزیر اعلی شہباز شریف کو دوبارہ طلب کرلیا ۔شہبازشریف کی جانب سے جے آئی ٹی کو اپنا تحریری بیان بھجوایا گیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق شہبازشریف کے تحریری بیان بھجوانے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اس لئے جے آئی ٹی نے ان کو دوبارہ سوموار کو طلب کرلیا ۔ذرائع کے مطابق سابق وزیر ریلوے سعد رفیق کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن/طلب

مزید : صفحہ اول