کپاس کے کاشتکاروں کو پیداواری نقصان کاازالہ کیلئے چیک دے رہے ہیں، وزیر زراعت

کپاس کے کاشتکاروں کو پیداواری نقصان کاازالہ کیلئے چیک دے رہے ہیں، وزیر زراعت

لاہور ( پ ر)صوبہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار کاشتکاروں کے نقصان کا ازالہ فصلات کے بیمہ پروگرام کے تحت کیا جارہا ہے اور یہ آپ کی منتخب حکومت کے وعدہ کی ایک تکمیل ہے یہ بات صوبائی وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان احمد لنگڑیال نے رائے علی نواز اسٹیڈیم چیچہ وطنی میں کپاس کے1 ہزار696 کاشتکاروں میں ان کے پیداواری نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے فصل بیمہ سکیم کے تحت چیکوں کی تقسیم کے دوران کہی۔تقریب میں محمد مرتضیٰ اقبال ممبر قومی اسمبلی،رائے حسن نواز اور محکمہ زراعت پنجاب کے اعلیٰ افسران سمیت کاشتکاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان احمد لنگڑیال نے کہا کہ زراعت ایک ’’اوپن انڈسٹری ‘‘ ہے اور قدرتی آفات کی وجہ سے کسانوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کاشتکاروں کو قدرتی آفات کے باعث نقصان سے تحفظ کے لئے حکومت پنجاب نے خریف 2018 میں چار اضلاع ساہیوال،شیخوپورہ،لودھراں اور رحیم یار خان میں کپاس اور دھان کی فصلات کے بیمہ کے لیے فصل بیمہ (تکافل) سکیم کا آغاز کیا ۔اس سکیم کے تحت 5 ایکڑ تک اراضی کے کاشتکاروں کے لئے بیمہ کے پریمیم پر100 فیصد سبسڈی جبکہ 5 سے25 ایکڑتک اراضی کے کاشتکاروں کے لئے 50 فیصد سبسڈی دی جا رہی ہے۔اب ربیع2018-19 سے اس سکیم کا دائرہ کار کاشتکاروں کی فلاح کیلئے مزیدپانچ اضلاع راجن پور،مظفرگڑھ،ملتان،فیصل آباد اور ناروال تک بڑھادیا گیا ہے اورگندم کی فصل کو بھی بیمہ (تکافل) سکیم میں شامل کیا گیا ہے۔اب تک کپاس،دھان اور گندم کے قریباً30 ہزار کاشتکاروں کی فصلات کا بیمہ کیا جا چکا ہے۔اس پروگرام کی افادیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس سکیم کا دائرہ مزید9 اضلاع(اوکاڑہ، بہاولپور، بہاولنگر، خانیوال، ڈی جی خان،لیہ،منڈی بہاؤالدین،قصور اوربھکر)تک بھی پھیلایا جارہا ہے جس کے بعد پنجاب کے مجموعی طور پر18 اضلاع میں یہ پروگرام جاری ہو گا۔

وزیر زراعت پنجاب نے محکمہ زراعت کو مزید کاشتکار اس سکیم کے تحت رجسٹرڈ کرنے اور اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت بھی کی۔

مزید : علاقائی