وفاقی حکومت سیاسی مخالفین کو انتقامی کاروائی کا نشانہ بنارہی ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

وفاقی حکومت سیاسی مخالفین کو انتقامی کاروائی کا نشانہ بنارہی ہے ،وزیراعلیٰ ...

  

ٹنڈومحمدخان(خصوصی نامہ نگار)وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے کہا ہے کہ نیب کے قانون کے ذریعے وفاقی حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہی ہے، اور سندھ کے حقوق جو بھی ہیں وہ غضب کئے جا ر ہے ہیں، یہ بات انہوں نے ٹنڈومحمدخان کے مقامی ہال میں پیپلزپارٹی کے ایم پی اے عبدالکریم سومرو کے بھتیجے اور ضلعی جنرل سیکریٹری خرم کریم سومرو کے کزن ہارون سومرو کی شادی میں شرکت کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، سید مراد علی شاہ نے کہا کہ نیب کے کیسز میں جو بھی ریفرنس ہیں اس پر کیس چل رہے ہیں، اور کوئی بھی ثابت ہو جائے تو اسے ثابت کیا جائے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، وفاقی حکومت کو سندھ کی عوام نے مسترد کر دیا ہے، اس لئے وہ سندھ سے انتقامی کارروائی کر رہے ہیں، سندھ کو این ایف سی سمیت گیس اور پانی کی تقسیم میں بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے اور این ایف سی ایوارڈ کے 16 ارب روپے بھی وفاقی حکومت کو دینے ہیں، سندھ کو اس کے اس کے حصے کا پانی گیس اور نہ دینا سراسر ناانصافی ہے، انہوں نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹ کیس کو راولپنڈی منتقل کرنا سمجھ سے بالا تر ہے، کیونکہ یہ جرم بھی سندھ میں ہوا ہے، اور اس کے ملزمان بھی سندھ میں ہیں، شاید نیب کو خود اپنے اداروں پر اعتماد نہیں ہے، ماضی میں روالپنڈی سے ہماری اچھی یادیں وابسطہ نہیں ہیں، کیونکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کی شہادتیں بھی اسی شہر میں ہوئیں، انہوں نے کہا کہ نیب کا احتساب اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اب لوگ ان کے خوف سے خودکشی کر رہے ہیں، نیب کا احتساب صرف سندھ میں نظر آ رہا ہے، اور گرفتاریاں بھی سندھ سے ہی ہو رہی ہیں، علیم خان کو دکھلاوے کے لئے گرفتار کیا گیا ہے، ان کی کسی بھی وقت ضمانت ہو سکتی ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سابق صوبائی وزیر جا م خان شورو کو سادہ لباس میں ملبوس مسلح افراد نے راستے میں روک کر اغوا کرنے کی کوشش کی، تاہم و خوش قسمتی سے وہاں سے نکل گئی، بعد میں معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ نیب والے تھے، اس موقع پر پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو، ایم این اے سید نوید قمر، ایم پی اے سید اعجاز شاہ بخاری، ایم پی اے عبدالکریم سومرو، ضلعی جنرل سیکریٹری خرم کریم سومرو اور دیگر بھی موجود تھے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -