براستہ طورخم پاکستان داخل ہونیوالے ہر عمر کے افراد کو پولیو قطرے پلوانے کاکام شروع

براستہ طورخم پاکستان داخل ہونیوالے ہر عمر کے افراد کو پولیو قطرے پلوانے ...

ڈیرہ اسماعیل خان( بیورورپورٹ)پولیو وائرس کی ترسیل کوروکنے کے لیے 25مارچ 2019سے افغانستان سے پاکستا ن طورخم گیٹ کے ذریعے داخل ہونے والے ہرعمرکے افراد کوپولیو قطرے پلوانے کا کام شروع کیاجارہاہے ۔ایمرجنسی آپریشن سنٹر (ای اوسی ) خیبرپختونخواہ کی جاری رپورٹ کے مطابق پولیو کے خاتمہ کی عالمی کوششوں اور پاکستان کے قومی ایمرجنسی ایکشن پلان میں پولیو وائرس کی ترسیل کو روکنے کے واحد مقصد کے پیش نظرافغانستان سے طورخم گیٹ عبور کرنے والے ہر عمر کے افراد کو پولیو قطرے پلوانے کا کام 25مارچ 2019 سے شروع کیا جا رہا ہے۔کوارڈَنیٹر ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبرپختونخواہ کیپٹن ریٹائرڈ کامران احمد آفریدی نے کہاکہ پاکستان افغانستان کی سرحد پر طورخم گیٹ عبور کرنے والے ہر عمر کے مسافر کو پولیو وائرس کی ترسیل کو روکنے کے مقصد سے پولیو قطرے پلوائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پولیو خاتمے کے بہت قریب ہیں اور حکومت پاکستان اور افغانستان کے طورخم گیٹ پر ہر عمر کے مسافر کو پولیو قطرے پلوانے کے اس متفقہ فیصلے سے پولیو وائرس کی ترسیل کو روکنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا پولیو کی بیماری زیادہ تر بچوں میں عمر بھر کی معذوری کا سبب بنتی ہے مگر بڑے پولیو وائرس کوایک علاقے سے دوسرے علاقے منتقل کرنے یا وائرس کی ترسیل کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے سرحد پار کرنے والے ہر عمر کے مسافر کو پولیو قطرے پلوانے کا فیصلہ پولیو وائرس کی روک تھام کی جانب ایک مثبت قدم ثابت ہو گا اسی مقصد کیلئے طورخم گیٹ پر ہر عمر کے شخص کو پولیو قطرے پلوانے کے لیے ٹرانزٹ ٹیمیں اور سوشل موبلائزر بہت جلد تعینات کر دیے جائیں گے تاکہ مذکورہ تاریخ سے قطرے پلوانے کا کام بہتر طریقہ سے شروع کیا جا سکے۔ ضلع خیبر میں روزانہ تقریباً 14 ہزارمسافر سرحد پار کرتے ہیں۔ ہر شخص کی ویکسینشن نہ صرف اس علاقہ میں بلکہ پورے خطے میں پولیو وائرس کی گردش کو روکنے کے لئے کلیدی کردار ادا کرے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر