اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 108

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 108
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 108

  

حضرت شیخ محمد علی حکیمؒ ترمذی عہد شباب میں بہت ہی حسین و جمیل تھے جس کی وجہ سے ایک عورت آپ پر عاشق ہوگئی لیکن آپ نے جب اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی تو وہ لباس اور زیورات سے آراستہ ہوکر اس باغ میں جا پہنچی جہاں آپ بالکل تنہا بیٹھے ہوئے تھے لیکن آپ اس کو دیکھ کر ایسے بھاگے کہ پیچھا کرنے کے باوجود وہ آپ کو نہ پکڑسکی اور جب چالیس سال کے بعد بڑھاپے میں آپ کو وہ واقع یاد آیا تو دل میں سوچا کہ کاش میں اس وقت اس کی خواہش پوری کردیتا پھر بعد میں تائب ہوجاتا۔

پھر اس فاسد خیال کی وجہ سے آپ مسلسل تین یوم تک مصروف گریہ رہے اور تیسری شب خواب میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ تم رنجیدہ نہ ہو کیونکہ اس میں تمہارا قصور نہیں بلکہ میرے وصال کا زمانہ جس قدر بعید ہوتا جارہا ہے اسی قدر اس کا اثر بڑھ رہا ہے۔

***

کسی نے حضرت عبداللہ منازلؒ کو یہ دعا دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مراد پوری کرے ۔ آپ نے فرمایا، مراد کا درجہ تو معرفت کے بعد ہے اور یہاں تو ابھی تک معرفت بھی حاصل نہیں ہوسکی۔

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 107 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت سلطان باہوؒ ڈیرہ غازی خان کی طرف چند درویشوں کے ہمراہ سفر فرمارہے تھے۔ راستہ میں ایک گاؤں چھبری نامی سے آپ کا گزرہوا۔ چاشت کا وقت تھا۔ آپ کے ہمراہی درویشوں نے عرض کی کہ حضرت اگر فرمائیں تو اس گاؤں میں ٹھہر کر روٹیاں پکالیں۔

آپ نے اجازت فرمادی۔ اس گاؤں میں ایک عورت درویشوں کی خدمت کیا کرتی تھی، آپ اسی کے گھر تشریف فرما ہوئے۔ آپ کے مرید اس عورت کے ساتھ مل کر کھانا پکانے میں مشغول ہوئے۔

اس عورت کی ایک شیرخوار لڑکی پنگوڑے میں سوئی تھی، جاگ کر رونے لگی وہ عورت آپ کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگی کہ ’’اے درویش! اس بچی کے پنگوڑے کو ہلا دے تاکہ ذرا چپ رہے۔ آپ اس پنگوڑے کو ہلانے لگے اور ساتھ ہی اسم ذات اللہ اللہ اللہ کہتے جاتے۔ اس چھوٹی سی بچی کے اسی وقت پنگوڑے میں مرشد کامل کی توجہ سے اسم ذات اللہ جاری ہوگیا اور ایک ولیہ خدا بن گئی۔ پھر آپ اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا

’’اے عورت! اس بچی کے پنگوڑے کو ہم نے ایسی جنبش دی ہے کہ تاقیامت یہ جنبش ترقی اور زیادتی کرتی رہے گی۔‘‘

اس لڑکی کا نام حضرت فاطمہؒ ہے۔ یہ قوم بلوچ مستوئی سے تھیں اور ان کا مقبرہ قصبہ فتح خان کے نزدیک ہے۔ اس مزار پر لاکھوں زائرین اور سینکڑوں طالب اللہ فیض حاصل کرنے کے لئے آج بھی جاتے ہیں۔

***

حضرت عبداللہ احمد مغربیؒ نے ورثہ میں حاصل شدہ مکان کو پچاس دینار میں فروخت کردیا۔ اس کے بعد جج کے لئے روانہ ہوگئے۔ راستہ میں ایک بدو نے آپ سے پوچھا ’’تمہارے پاس کیا ہے؟‘‘

آپ نے بتایا ’’پچاس دینار۔‘‘ اور اس بدو کے طلب کرنے پر آپ نے اس کے حوالے کردئیے لیکن اس بدو نے آپ کی صدق گوئی کی وجہ سے دینار واپس کردئیے اور اپنے اونٹ پر بٹھا کر آپ کو مکہ معطمہ تک لے گیا اور کافی عرصہ آپ کی صحبت میں رہ کر شیخ کامل بن گیا۔

***

حضرت ابوبکر شبلیؒ نے حضرت جنید بغدادیؒ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا ’’لوگوں نے مجھے یہ بتایا ہے کہ آپ کے پاس ایک گوہر نایاب ہے۔ لہٰذا آپ یا تو اس کو میرے ہاتھ قیمتاً فروخت کردیں یا پھر بغیر قیمت کے دے دیں۔‘‘

حضرت جنیدؒ نے فرمایا ’’اگر میں وہ گوہر نایاب فروخت کرنا چاہوں۔ تو تم خرید نہیں سکتے۔ کیونکہ تمہارے اندر قوت خرید نہیں ہے اور اگر مفت دے دوں تو تم اس کی قدروقیمت نہ سمجھ سکو گے کیونکہ بلا محنت حاصل کردہ شے کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی لہٰذا اگر تم وہ گوہر حاصل کرنا چاہتے ہو تو بحر توحید میں غرق ہوکر فناہ ہوجاؤ۔ پھر اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر صبر اور انتظار کے دروازے کشادہ کردے گا اور جب تم دونوں کو برداشت کرنے کے قابل ہوجاؤ گے تو وہ گوہر تمہارے ہاتھ لگ جائے گا۔‘‘

پھر آپ نے حضرت جنیدؒ سے پوچھا’’تو پھر اس سلسلہ میں مجھے کیا کرنا چاہیے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’تم ایک سال گندھک بیچتے پھرو۔‘‘

چنانچہ حضرت ابوبکر شبلیؒ ایک سال تک گندھک بیچنے کے بعد دوبارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ’’اب ایک سال تک بھیک مانگو۔‘‘

چنانچہ آپ نے ایک سال تک یہ بھی کیا۔ حتیٰ کہ آپ نے بغداد کے ہر دروازے پر جاکر بھیک مانگی لیکن کبھی آپ کو کسی نے کچھ نہیں دیا اور جب اس کی شکایت آپ نے حضرت جنیدؒ سے کی تو انہوں نے مسکرا کر فرمایا

’’اب تو شاید تمہیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ مخلوق کے نزدیک تمہاری کوئی قیمت نہیں۔ لہٰذا اب کبھی مخلوق سے دل بستگی کا خیال نہ کرنا اور نہ کبھی کسی چیز پر مخلوق کو فوقیت دینا۔‘‘ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد حضرت جنید نے آپ کو حکم دیا ’’چونکہ تم نہاوند کے امیر رہ چکے ہو، لہٰذا وہاں جاکر ہر شخص سے معافی مانگو۔‘‘

چنانچہ حضرت ابوبکر شبلیؒ نے نہاوند پہنچ کر ایک ایک بچے، بوڑھے اور جوان سے معافی مانگی۔ اس طلبی معافی کے دوران ایک شخص آپ کو نہ ملا تو آپ نے اس کے بدلہ میں ایک لاکھ درہم خیرا کیے لیکن اس کے باوجود بھی آپ کے دل میں خلش باقی رہ گئی اور جب دوبارہ حضرت جنیدؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا

’’ابھی تمہارے دل میں دنیا کی محبت باقی ہے۔ اس لیے ایک سال تک اور بھیک مانگتے رہو۔‘‘

چنانچہ آپ نے ایک سال تک اور پھینک مانگی۔ اس دوران آپ کو جو کچھ ملتا تھا وہ حضرت جنیدؒ کے پاس لاکر فقراء میں تقسیم کردیتے تھے لیکن خود بھوکے رہتے تھے۔ پھر سال کے خاتمہ پر حضرت جنیدؒ نے وعدہ کیا کہ اب تمہیں اپنی صحبت میں رکھوں گا۔ بشرطیکہ تمہیں فقراء کی خدمت گزاری منظور ہو۔ چنانچہ اس کے بعد آپ ایک سال تک فقراء کی خدمت گزاری میں مشغول رہے۔

پھر حضرت جنیدؒ نے پوچھا ’’اب تمہارے نزدیک نفس کا کیا مقام ہے۔‘‘

آپ نے جواب دیا ’’میں خود کو تمام مخلوقات سے کم تر تصور کرتا ہوں۔‘‘

یہ سن کر حضرت جنیدؒ نے فرمایا ’’اب تمہارے ایمان کی تکمیل اور پختگی ہوگئی ہے۔‘‘

شیخ حسن مجذوبؒ سکندر لودھی پر عاشق تھے۔ ایک دفعہ سلطان سکندر محل خاص میں بیٹھا تھا کہ یکا یک آپ اس طرف آنکلے۔

سلطان نے کہا ’’ہماری اجازت کے بغیر یہاں کیوں آگئے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’میں تمہارا عاشق ہوں اور تمہیں دیکھنے کے لئے آیا ہوں۔‘‘

سلطان کو اس پر سخت غصہ آیا۔ اس وقت اس کے سامنے آگ کی انگیٹھی رکھی تھی اس نے آپ کو گردن سے پکڑ کر انگیٹھی میں ٹھونس دیا اور کافی دیر تک اسی حال میں رہنے دیا ۔ جب نکالا تو آپ پر آگ کا مطلق اثر نہ تھا۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 109 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے