النور مسجد میں قتل و غارت کے بعد جب یہ دہشتگرد لین ووڈ مسجد پہنچا تو وہاں اس نوجوان بہادر عبدالعزیز نے اسے کس طرح روکا اور پکڑوایا ؟ بہادری کی نئی مثال قائم کر دی

النور مسجد میں قتل و غارت کے بعد جب یہ دہشتگرد لین ووڈ مسجد پہنچا تو وہاں اس ...
النور مسجد میں قتل و غارت کے بعد جب یہ دہشتگرد لین ووڈ مسجد پہنچا تو وہاں اس نوجوان بہادر عبدالعزیز نے اسے کس طرح روکا اور پکڑوایا ؟ بہادری کی نئی مثال قائم کر دی

  

کرائسٹ چرچ (ڈیلی پاکستان آن لائن )کرائسٹ چرچ میں دہشتگرد نے دو مختلف مساجد پر حملہ کرتے ہوئے 49 افراد کو شہید کر دیا جس میں 9 پاکستانی بھی شامل ہیں تاہم اس کو قابو کرنے کے دوران پاکستانی بہادر شہری نعیم راشد شہید ہو گئے لیکن ایک اور مسلمان شہری عبدالعزیز نے بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے سمجھداری کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اسے مزید لوگوں کو شہید کرنے سے روک لیا جس کے بعد پولیس نے اس درندے کو گرفتار کر لیا۔

” دی گارڈین “ کی رپورٹ کے مطابق جس وقت دہشتگر د بندوق تھامے مسجد کی جانب بڑھ رہا تھا تو وہ اپنے راستے میں آنے والے ہر شخص کو گولیاں مارتا چلا جارہا تھا تاہم اس دوران عبدالعزیز نامی شخص نے چھپنا مناسب نہیں سمجھا اور بہادری کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا ۔ عبدالعزیز نے فوری طور پر سٹورمیں سے ایک کریڈٹ کارڈ مشین اٹھائی اور باہر کی طرف بھاگا اور چلانے لگا کہ ” ادھر آﺅ ادھر آو “اور اس طرح عبدالعزیز دہشتگرد کا دیہان اپنی طرف دلوانے میں کامیاب ہوا ۔

عبدالعزیز کو نیوزی لینڈ میں ہیرو کا درجہ دیا جارہاہے کیونکہ انہوں نے اپنی سمجھداری اور بہادری کے ذریعے دہشتگردکو خوفزدہ کر کے مزید شہادتوں سے روک لیا ۔جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت عبدالعزیز کے چار بیٹے اور دیگر درجنوں افراد مسجد میں موجود تھے اور اس وقت یہ شخص دہشتگرد کا دیہان بٹانے کی کوشش میں لگا تھا ۔

دہشتگرد نے تقریبا 41 افراد کو النور مسجد میں شہید کیا جس کے بعد وہ پانچ کلومیٹر گاڑی چلا کر لین ووڈ میں واقع مسجد کی طرف گیا جہاں اس نے تقریبا 7 لوگوں کو شہید کیا ۔دہشتگرد کا نام ’ برینٹن ٹرینٹ “ ہے اور اس کی عمر تقریبا 28 سال ہے ۔

لین ووڈ مسجد کے قائم مقام امام لطیف الابی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ” میں سمجھتاہوں کہ اگر وہاں پر عبدالعزیز نہیں ہوتا ہے تو ممکنہ طور پر لین ووڈ مسجد میں بھی شہادتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ۔“ انہوں نے بتایا کہ ایک بج کر 55 منٹ پر جمعہ کی نماز پڑھا رہا تھا کہ اس دوران مسجد کے باہر سے کچھ آوازیں سنی تو میں نے نماز روکی اور کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں ایک شخص ملٹری کا لباس پہنے اور بندو ق اٹھاے چلا آ رہا تھا میں سمجھا کہ کوئی پولیس افسر ہے لیکن پھر میں نے باہر پڑی دو لاشیں دیکھیں اور اس کو چلاتے ہوئے سنا جس کے بعد مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ کوئی قاتل ہے ۔

امام مسجد نے کہا کہ میں اسی وقت وہاں موجود تقریبا 80 لوگوں سے کہا کہ وہ فوری طور پر نیچے جھک جائیں ، وہ ہچکچائے لیکن جب گولی چلی اور وہ کھڑکی سے ہوتی اندر آ کر لگی اور کچھ لوگ نیچے گرے تو لوگوں کو یقین ہوا یہ حقیقت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اسی موقع پر بھائی عبدالعزیز دہشتگرد کے پیچھے آ گئے اور انہوں نے اس پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی اور یہی ایک وجہ ہے جس کے باعث ہم زندہ بچ سکے ہیں ۔بصورت دیگر اگر وہ دہشتگرد مسجد میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو شہادتیں بہت زیادہ ہونی تھیں۔

عبدالعزیز کا تعلق دراصل افغانستان سے ہے ، انہوں نے کہاکہ حملہ آور اپنی گاڑی کی جانب دوسری بندوق لینے دوڑا اور میں نے کریڈٹ کارڈ کی مشین اس کی طرف طاقت سے ماری ۔عبدالعزیز کا کہناتھا کہ میرے پانچ سالہ اور 11 سالے بیٹے مجھے آوازیں دے رہے تھے کہ اندر آ جائیں ۔

عبدالعزیز نے بتایا کہ حملہ آور واپس آیا اور اس نے فائرنگ شروع کر دی اور میں کارپاکنگ کی جانب بھا گا اور گاڑیوں کے پیچھے سے ہوتا ہوا بھاگتا رہا تاکہ دہشتگرد کو گولی چلانے کیلئے صاف راستہ نہ مل سکے اور اسی دوران مجھے دہشتگرد کی جانب سے پھینکی گئی بندوق مل گئی ،میں نے وہ اٹھائی اور اسے حملہ آور کی جانب تانا لیکن وہ خالی تھی ۔

عبدالعزیز نے کہا کہ حملہ آور ایک مرتبہ پھر سے بندوق اٹھانے اپنی گاڑی کی طرف دوڑا ، وہ اپنی گاڑی پر پہنچا اوراسی وقت میں نے ہاتھ میں پکڑی بندوق اس کی گاڑی کی ونڈ سکرین پر زور سے ماری جس کے باعث وہ ٹوٹ گئی اور یہی وہ وجہ تھی جس کے باعث دہشتگرد خوفزدہ ہو گیا جسے پھر پولیس نے گرفتار کر لیا تھا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس