سائنسدانوں نے خواتین کے کان کے ذریعے حمل روکنے کا طریقہ دریافت کرلیا

سائنسدانوں نے خواتین کے کان کے ذریعے حمل روکنے کا طریقہ دریافت کرلیا
سائنسدانوں نے خواتین کے کان کے ذریعے حمل روکنے کا طریقہ دریافت کرلیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سائنسدانوں نے روزانہ کھائی جانے والی مانع حمل گولیوں کا ایک انتہائی حیران کن متبادل دریافت کر لیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں کی یہ نئی ایجاد درحقیقت کانوں میں پہننے والی بالیوں کی طرح کی ہے جو خواتین کی کان کی لوﺅں کے ذریعے لیبارٹری میں تیار کردہ ہارمونز ان کے نظام دوران خون میں شامل کرے گی جو خون میں جا کر ہو بہو اسی طرح کام کرے گی جیسے روایتی مانع حمل گولیاں کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کانوں میں پہننے والا یہ زیور ان مصنوعی ہارمونز سے آلودہ ہو گا جو خواتین کے کان کی جلد کے ذریعے ان کے جسم میں سرایت کرتے ہوئے خون میں شامل ہو گا۔ یہ نئی مانع حمل ایجاد کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”روزانہ کھائی جانے والی گولیوں میں ایک قباحت یہ تھی کہ خواتین اکثر گولی کھانا بھول جاتی تھیں جس کی وجہ سے وہ حاملہ ہو جاتی تھیں۔ اس نئی ایجاد سے انہیں یہ یاد رکھنے کی صعوبت سے نجات مل جائے گی کہ انہوں نے گولی کھائی ہے یا نہیں۔“تجربات میں یہ فارماسیوٹیکل زیور روایتی گولیوں کی نسبت کئی گنا زیادہ مو¿ثر ثابت ہوا ہے۔

مزید :

تعلیم و صحت -