نوجوان لڑکے لڑکیوں میں شادی کے بعد اکیلے ہنی مون پر جانے کا رجحان زور پکڑنے لگا

نوجوان لڑکے لڑکیوں میں شادی کے بعد اکیلے ہنی مون پر جانے کا رجحان زور پکڑنے ...
نوجوان لڑکے لڑکیوں میں شادی کے بعد اکیلے ہنی مون پر جانے کا رجحان زور پکڑنے لگا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) دولہا کا دلہن اور دلہن کا دولہا کے بغیر ہنی مون پر جانے کا تصور ہی ہمارے لیے تو ناممکن ہے مگر آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ مغربی معاشرے میں لڑکے لڑکیوں کا شادی کے بعد اکیلے ہنی مون پر جانے کا رواج تیزی سے جڑ پکڑ رہا ہے اور ایسے لوگوں کی تعداد سالانہ ہزاروں میں جا پہنچی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق مغربی ممالک میں دولہا دلہن کے الگ الگ ہنی مون پر جانے کا رجحان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اس کے لیے ’سولومون‘ (Solomoon)اور ’یونی مون‘ (Unimoon)جیسی اصطلاحیں بھی وجود میں آ چکی ہیں اور ان اصطلاحوں پر مبنی ہیش ٹیگز کے تحت سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگ اپنی اکیلے ہنی مون منانے کی تصاویر وغیرہ پوسٹ کر رہے ہیں۔

ایسے ہی ایک میاں بیوی نے سوشل میڈیا پر اپنی ہنی مون کی پوسٹس کی ہیں۔ ان میں میکلینی نامی دولہا شادی کے فوراً بعد اپنے دوستوں کے ساتھ فرانس چلا گیا جہاں یورپین فٹ بال چیمپئن شپ ہو رہی تھی، جبکہ اس کی دلہن اوبرین نے اپنا ہنی مون کینیڈا میں ایک دوست کے پاس جا کر گزارا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ” ایسے نوبیاہتا جوڑے اکیلے ہنی مون پر جاتے ہیں جو اپنی شادی سے پہلے کے سفری پلان پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کے کام کے اوقات میں تصادم بھی ان کے اکیلے ہنی مون پر جانے کی ایک وجہ ہوتی ہے۔ “ ماہرین نے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا کہ ”شادی کے بعد میاں بیوی کا اکیلے ہنی مون پر جانا قطعاً خوش آئند عمل نہیں ہے۔ یہ ان کی ازدواجی زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ “

مزید :

ڈیلی بائیٹس -