کورونا وائرس خو اتین کی ذمہ داریاں

کورونا وائرس خو اتین کی ذمہ داریاں

  

کورونا وائرس کی تعریف اور تفصیل میں جانا اب اتنا ضروری نہیں ہے۔ سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا دسمبر 2019ء سے چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی اس وباء کے بارے میں بہت کچھ بیان کر چکا اور کر رہا ہے، جس وباء نے تقریباً پوری دنیا کو دہشت اور خوف کی فضا میں مبتلا کر دیا ہے۔ کورونا کے مرض کے لئے ویکسین نہیں ہے۔ کہتے ہیں ویکسین کی تیاری میں ایک عرصہ لگ سکتا ہے، البتہ احتیاطی تدابیر ہیں، جن پر سختی سے عمل کرکے اس وباء سے بچا جا سکتا ہے۔ چین نے تین ماہ کی مدت میں محیر القول تدابیر سے اس مرض پر کسی حد تک قابو پا لیا ہے تاہم یورپ اس وبا کا اب مرکزی ہدف بن رہا ہے۔

پاکستان میں صحت عامہ سے متعلقہ محکمے تن دہی سے اپنے فرائض ادا کررہے ہیں لیکن مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے ماہ اپریل کے پہلے ہفتہ تک بند کر دیئے گئے ہیں۔ مزارات پر حاضری سمیت ان تمام جگہوں کو بند کر دیا ہے جہاں لوگوں کا ہجوم لازمی امر ہے۔ ابلاغ کا ہر شعبہ البتہ پریشان کن بریکنگ نیوز سے ملک کے عوام میں لمحہ بہ لمحہ وسوسے اور خوف پیدا کر رہا ہے۔ اس دوران امید اور بہتری کا قمقمہ البتہ جلتا بجھتا رہتا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ موسمیاتی درجہ حرارت بڑھتے ہی وائرس کی شدت میں کمی واقع ہو گی۔ ٹوٹکوں، مشوروں اور دعاؤں نے لوگوں کے اذہان کو گومگو کی کیفیت میں ڈال رکھا ہے، البتہ وہ لوگ پُرسکون اور مطمئن ہیں جو تقدیر پر یقین رکھتے ہیں اور صفائی ستھرائی پر زور دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جسمانی آلودگی اور ماحولیاتی کثافت اور غیر متوازن اور غیر شرعی غذا ہی کورونا اور دیگر عوارض کو دعوت دیتے ہیں۔

میرے وطن کی خواتین اپنے اہل خانہ کی صحت اور خوراک بارے اگرچہ احتیاطی تدابیر کا خیال رکھتی ہیں، تاہم خود کی دیکھ بھال سے کسی حد تک غافل بھی رہتی ہیں۔ ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنا خیال بلکہ اپنے گھروالوں کی انتہائی نگہداشت کریں۔ اب بچے گھروں میں مقید ہیں۔ سکول اور کالج بند ہیں، تفریحی مقامات پر آمد بھی ممنوع ہے اس لئے توقع کی جاتی ہے کہ بچے گلی محلوں میں اپنے وقت کا استعمال کریں گے، لہٰذا ماؤں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال پوری دیانتداری اور سختی کے ساتھ کریں۔ بچوں کی ایک کثیر تعداد یوں بھی متوازن غذا کی کمی کا شکار ہے اس لئے خدشہ ہے کہ ان کا چھوٹے موٹے عوارض میں مبتلا ہونا بڑی بیماریوں کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ بچوں میں صابن سے ہاتھ منہ دھونے کی عادت پختہ کرنی چاہیے کیونکہ نادانی میں وہ عموماً اس عادت سے جان چھڑاتے ہیں۔

کورونا وائرس نے بہرحال پوری دنیا میں خوف کی ایک زبردست فضا قائم کردی ہے۔ شہر کے شہر لاک ڈاؤن کئے جا رہے ہیں لیکن مرض ہے کہ پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ پھر اس کی زد میں آنے والوں میں کسی قسم کی تخصیص نہیں ہے۔ امیر اور غریب اور مقتدر اور بے اختیار، سب ہی اس مرض کی گرفت میں آ رہے ہیں۔ اس شخص اور اس کے خاندان پر ایک قیامت گزر جاتی ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران جس کا ریزلٹ مثبت نکل آئے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر فرد احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرے۔ ان ترقی یافتہ ممالک میں کورونا کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو مرض کی نوعیت سے بخوبی آگاہ ہیں تو ان ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی حالت کیا ہو گی جو مرض کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ الزام تراشیوں کے کھیل اور سازشوں کی کہانیاں جنم لیتی ہیں اور وہ مسئلہ جس کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، ہنسی مذاق کی نذر ہو جاتا ہے۔ کورونا وائرس یقینا ایک بھیانک وباء ہے تاہم اس کے رَد کے لئے صرف اسی سے مدد طلب کی جا سکتی ہے جو حی القیوم اور ہر آن نئی شان میں ہے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -