ہائیڈل، متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار اولین ترجیح: ڈاکٹر اختر ملک

ہائیڈل، متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار اولین ترجیح: ڈاکٹر اختر ملک

  



لاہور(کامرس ڈیسک) پنجاب کے وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک نے کہا ہے کہ ہائیڈل اور متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس سلسلے میں بہت سے پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ، سینئر نائب صدر علی حسام اصغر، نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد، سابق صدر سہیل لاشاری اور سابق سینئر نائب صدر میاں نعمان کبیر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ ایگزیکٹو کمیٹی ممبران عاقب آصف، فیاض حیدر، ذیشان سہیل ملک، نصراللہ مغل اور میاں شہریار علی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت متبادل ذرائع سے پیداوار پر توجہ دے رہی ہے جبکہ فوسل فیول سے چلنے والے پلانٹ اب نہیں لگائے جائیں گے، پنجاب میں سات ہزار سکول سولر پر شفٹ کردئیے گئے ہیں، تیرہ یونیورسٹیوں سے مفاہمتی یادداشتیں کی گئی ہیں جس کے تحت انہیں سولر بجلی دی جائے گی، اس کے لیے نجی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پانچ پانچ سو گھروں کے دو گاؤں مکمل طور پر بائیوگیس اور سولر پر شفٹ کردئیے گئے ہیں،جوہرآباد میں ونڈانرجی کے دو پلانٹس لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں آئی پی پیز اور دیگر اداروں سے مہنگے اور طویل المدت معاہدے کیے گئے، کچھ معاہدے 2023ء میں اور کچھ 2032میں ختم ہونگے، معاہدے ختم ہونے کے بعد حکومت ملک دوست معاہدوں کے لیے بات چیت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہائیڈل پراجیکٹس کے لیے کئی مقامات کی نشاندہی کی ہے، پرائیویٹ سیکٹر کے سرمایہ کار کم از کم ایک میگاواٹ یا اس سے زیادہ کے پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں پنجاب کا حصہ بہت اہم ہے، جی ڈی پی میں اس کا حصہ پچپن فیصد جبکہ بجلی کی طلب میں حصہ اڑسٹھ فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت و تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے توانائی کا کردار بہت اہم ہے، اگرچہ پاکستان نے توانائی کی پیداوار بڑھائی ہے مگر صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنا اشدضروری ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی منڈی میں دیگر ممالک کا مقابلہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کے لیے بجلی کے خصوصی ریٹس ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سولر اور ونڈ انری سے بجلی پیدا کرنے کی بہت گنجائش ہے، حکومت ان ذرائع کے لیے آلات کا حصول آسان اور سستا کرے۔ انہوں نے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا کہ لاہور چیمبر نے ایکسپورٹ ایمرجنسی نافذ کی ہے اور ممبران کے لیے ون ونڈو آپریشن کے تحت بہت سی سہولیات مہیا کی ہیں۔

مزید : کامرس