پولیس اور ٹی ٹی ایز اور قلیوں کی ملی بھگت، ریولے کو ماہانہ لاکھوں روپے کا نقصان

پولیس اور ٹی ٹی ایز اور قلیوں کی ملی بھگت، ریولے کو ماہانہ لاکھوں روپے کا ...

  



کراچی (رپورٹ /ندیم آرائیں)ریلوے پولیس،قلیوں،کنڈیکٹرگارڈز اورٹریولنگ ٹکٹ ایگزامنرز(ٹی ٹی ای) کی ملی بھگت سے محکمہ ریلوے کو ماہانہ لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا جانے لگا،ٹکٹ نہ رکھنے والے مسافروں سے کیش رقم لے کر ان کو منزل مقصود تک پہنچایا جاتا ہے۔ریلوے ملازمین کی جانب سے اپنی ڈیوٹی پر توجہ دینے کی بجائے مال کمانے میں مصروف ہونے کی وجہ سے ٹرین حادثات میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔مسافروں نے وفاقی وزیر ریلوے اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ ملازمین کی کرپشن کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ٹرینوں کے ذریعہ روزانہ ہزاروں افراد ملک کے مختلف شہروں کا سفر کرتے ہیں۔اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ مسافر کہیں جانے سے قبل ایڈوانس بکنگ کرانے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ مختلف ٹرینوں کے اگلے کئی دنوں تک کے ٹکٹ بک ہوتے ہیں اور مسافروں کو ٹکٹ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم ریلوے پولیس،ٹی ٹی ایز اور قلیوں کی مدد اب مسافروں کے بغیر ٹکٹ سفر کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق بغیر ٹکٹ سفر کرنے والے مسافر وں قلی ریلوے پولیس کے اہلکاروں سے ملواتے ہیں جو ان کا نام اور مطلوبہ ٹکٹس کی معلومات حاصل کرتا ہے اور اس کے بعد ٹی ٹی ای کو اس حوالے سے بتایا جاتا ہے جو ان کے ناموں کا اندراج اپنے پاس کرلیتا ہے۔ٹی ٹی ای کے پاس تمام معلومات ہوتی ہیں کہ کونسی سیٹ اور برتھ میں مسافر نہیں آئے ہیں اور وہ خالی ہیں۔اس کے بعد مسافروں سے کیش رقم لے کر ان کو بغیر ٹکٹ کے سیٹ یا برتھ فراہم کردی جات ہے اور اس کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہوتا ہے۔ذرائع کے مطابق ریلوے پولیس،ٹی ٹی ایز اور قلیوں کی اس ملی بھگت سے سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔اس ضمن مٰیں مسافروں کا کہنا ہے کہ ریلوے اہلکاروں کی لاپرواہی کی وجہ سے ٹرینوں کے حادثات میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے اس کے باوجود ریلوے پولیس کے اہلکار اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے مال کمانے میں مصروف ہیں۔انہوں نے وفاقی وزیر ریلوے اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ پاکستان ریلوے میں ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس میں ملوث عناصر کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر