سانحہ گلبہار‘متاثرین کو فی الفور معاوضہ ادا کیا جائے،حافظ نعیم الرحمن

  سانحہ گلبہار‘متاثرین کو فی الفور معاوضہ ادا کیا جائے،حافظ نعیم الرحمن

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ سانحہگلبہارمیں رہائشی بلڈنگ گرنے سے 27قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے ذمہ دار غیر قانونی تعمیرات میں ملوث بلڈر مافیا، ایس بی سی اے،کے ایم سی، علاقہ پولیس، صوبائی اور شہری حکومت ہے۔واٹر بورڈ، سوئی گیس اور کے الیکٹرک اس طرح کی عمارتوں کو کس کی اجازت سے کنکشن دیتی ہیں؟12دن گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے متاثرین کی دادرسی کے بجائے صرف نمائشی اقدامات کیے جا رہے ہیں،سانحہ کے متاثرین کو فی الفور معاوضہ دیا جائے اور اس کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، حکومت اور متعلقہ اداروں نے اگر متاثرین کو زر تلافی اور ملزمان کو قرار واقعی سزا نہیں دی تو شہر بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ان خیالات کااظہارا نہو ں نے گلبہار میں گرنے والی بلڈنگ کے سامنے متاثرین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس سے ریاض احمد،پرنس خرم، زاہد علی، مسز عمران اور دیگر متاثرین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، امیر ضلع وسطیٰ منعم ظفر خان، وجیہہ حسن اور دیگر بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی جانب سے کوئی داد رسی نہ کرنے پر پرامن احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کیس فوری ختم کیا جائے، جماعت اسلامی نے متاثرین کے مسئلہ کے حل کیلئے نائب امیر ضلع وسطیٰ وجیہہ الحسن اور متاثرین کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنا دی ہے، جو مسئلہ کے حل تک متاثرین کی معاونت کرے گی، حکومت سانحہ گلبہار کے متاثرین کو ریلیف فراہم کرے، بدعنوان بلڈر مافیا اور سندھ بلڈنگ کنٹرول محکمے کے افسران سے عوام کو نجات دلائی جائے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے عدالتی فیصلہ کی آڑ میں رشوت ستانی جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ایس بی سی اے کی ملی بھگت سے شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے، شہری سستے گھرمیسر نہ آنے پر بلڈر مافیا کے جھانسے میں آکر گھر خرید لیتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت ٹیکس لیتی ہے لیکن تحفظ فراہم کرنے کو تیار نہیں ہے،کیماڑی میں زہریلی گیس اور تحقیقات کے کیس میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہ ہونا اور حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متاثرہ خاتون مسز عمران نے کہا کہ جو لوگ واقعہ میں جاں بحق ہو گئے، ان کی زندگی کا کوئی متبادل نہیں، واقعہ میں ملوث ملزمان کو کڑی سزا دی جائے، ان کی جائیداد ضبط کرکے ان پیسوں سے ہمارے مکان تعمیر کروائے جائیں۔ ریاض احمد نے کہا کہ سانحہ کے بعد تمام پارٹیاں صرف اپنی سیاست کرکے چلیں گئیں، ہم جماعت اسلامی کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا، حکومتی نمائندے اشرف جبار قریشی سے معاہدے کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ یہ بلڈنگ 1999میں صرف 2 منزلہ تھی، 2012میں مزید تعمیرات ہوئی۔ پرنس خرم نے مطالبہ کیا کہ ہمیں قصاص دیا جائے، اگر ایسا واقعہ دوبارہ رونما ہوا تو کچھ نہیں بچے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر