خیبر پختونخوا میں اب تک کرونا وائرس کا کنفرم کیس ریکارڈ نہیں ہو ا، شوکت یوسفزئی

خیبر پختونخوا میں اب تک کرونا وائرس کا کنفرم کیس ریکارڈ نہیں ہو ا، شوکت ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر محنت اور ثقافت شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ابھی تک کرونا کا ایک بھی کنفرم کیس ریکارڈ نہیں ہوا لیکن اس وباء سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت نے بھرپور تیاری کی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان خود ٹاسک فورس کی نگرانی کر رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ انتظامات کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے پاکستان کھایا، کرپشن کی اور ملک سے فرار ہو کر دوبئی یا لندن میں بیٹھے ہیں وہ بھی کرونا وائرس کے خلاف ہماری حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات پر اعتراضات کر رہے ہیں مولا بخش چانڈیو پاکستان تحریک انصاف اور کرونا وائرس انتظامات پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے اردگرد ضرور دیکھیں کرپشن میں آصف علی زرداری کا کوئی ثانی نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آفریدی میڈیکل کمپلیکس پشاور میں " پہلے انٹرنیشنل مینیمل انویسیو سپائن کورس آن فل انڈوسکوپک سپائن سرجری، نیوکلیوپلاسٹی اینڈ سپائنل انجیکٹس" کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر جنگلات سید اشتیاق ارمڑ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ خیبرپختونخوا کے پہلے بغیر کٹ کے سپائنل سرجری کو براہ راست سکرین کے ذریعے دکھایا گیا۔ صوبائی وزیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کرونا کو وباء ڈکلیئر کر دیا ہے۔ کرونا کی روک تھام کے لیے صوبائی حکومت کے احکامات اور تدابیر پر ہر حال میں عمل کرایا جائے گا۔ شادی ہالوں اور سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ جو سکولز یا شادی ہالز کھلے پائے گئے تو ان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ خیبرپختونخوا میں بغیر کٹ کے پہلے سپائنل سرجری کے کامیاب آپریشن پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پشاور کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں بھی آگئی ہے۔ یہ سرجری ڈاکٹروں کی ٹیم اور اس ہسپتال کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بہت قابل ڈاکٹر پیدا ہو رہے ہیں بدقسمتی سے پہلے قابل لوگ ملک چھوڑ کر باہر پریکٹس کرتے تھے لیکن اب قابل ڈاکٹرز پاکستان میں ہی رہ کر پاکستان اور اپنے لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں جو قابلِ ستائش ہے۔ کامیاب سرجری کے بعد صوبائی وزیر نے ڈاکٹرز ٹیم میں اعزازی شیلڈ بھی تقسیم کئے۔

مزید : صفحہ اول