عوام اللہ سے رجوع اور توبہ و استغفار کو اپنا معمول بنائیں: سینیٹر سراج الحق

عوام اللہ سے رجوع اور توبہ و استغفار کو اپنا معمول بنائیں: سینیٹر سراج الحق

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ کرونا سے خوف زدہ ہونے کی بجائے عوام اللہ سے رجوع اور توبہ و استغفار کو اپنا معمول بنائیں۔ حکومت وعظ و نصیحت کی بجائے کرونا سے بچاؤ کے لیے عملی اقدامات پر فوکس کرے۔ اب تک کی صورتحال سے واضح ہو گیاہے کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں کسی ناگہانی آفت سے نپٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ بہت سی بیماریوں سے دنیا بھر میں روزانہ ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں مگر کرونا کا اتنا خوف و ہراس پھیلا دیا گیاہے کہ دنیا کے ہر ملک میں مرنے والوں کی تعداد دن میں درجنوں بار بتائی جاتی ہے۔ عوام احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، باوضو رہیں، پانچ وقت نماز کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا و استغفار کریں۔ حکومت ہر چھوٹے بڑے ہسپتال میں کرونا کی تشخیص اور علاج کا انتظام کرے صرف چند بڑے شہروں میں علاج کی سہولت دینا چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والے کروڑوں عوام نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسجد قبا میں جماعت اسلامی سندھ کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی نے بھی خطاب کیا جبکہ الخدمت سندھ کے صدرڈاکٹر سیدتبسم جعفری،ناظم عمومی محمد دین منصوری اورسیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ قدرتی آفات اور وبائیں انسانوں کو اپنے خالق کی طرف رجوع کرنے کا پیغام دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتاہے کہ اے انسان تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے وہ اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے اور جو مصیبت آتی ہے وہ تیرے اپنے اعمال کی بدولت آتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہی بیماروں کو شفا دیتاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت عالم اسلام کے ساتھ ساتھ اپنی طاقت کے گھمنڈ اور سائنسی ترقی کے زعم میں مبتلا دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کو بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنا اور اس کے اقتدار و اختیار اور حاکمیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت کی طرف سے کرونا وائرس کی تشخیص، علاج اور عوامی آگاہی کے حوالے سے نااہلی کا مظاہرہ دیکھنے میں آرہاہے۔ حکومت خود اعتراف کر رہی ہے کہ اب تک سامنے آنے والے کیسز وہ ہیں جو مختلف ممالک سے پاکستان میں پہنچے ہیں لیکن اب تک بھی حکومت کرونا سے متاثر لوگوں کی ملک میں آمد کو روک سکی ہے نہ سکریننگ کا بااعتماد نظام قائم کیا جاسکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کے اندر زیادہ خوف و ہراس حکومت کی نااہلی اور بے خبری کی وجہ سے پھیلا ہے۔ وفاق اور صوبے ایک دوسرے پر نااہلی کا الزام لگا رہے ہیں اور توبہ و استغفار اور عوام کو وبا سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کی بجائے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے میں لگے ہوئے ہیں۔

مزید : صفحہ اول