مزارت پر اکٹھا ہونے والا پیسہ دین کیلئے خرچ ہونا چاہئے ،اوقاف اپنے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے کچھ اور بندوبست کرے ،چیف جسٹس پاکستان

مزارت پر اکٹھا ہونے والا پیسہ دین کیلئے خرچ ہونا چاہئے ،اوقاف اپنے ملازمین ...
مزارت پر اکٹھا ہونے والا پیسہ دین کیلئے خرچ ہونا چاہئے ،اوقاف اپنے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے کچھ اور بندوبست کرے ،چیف جسٹس پاکستان

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب کے مزاروں سے نذرانہ وصولی کیس میں چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں مزارات کے پیسے سے اوقاف ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں،مزارت پر اکٹھا ہونے والا پیسہ دین کیلئے خرچ ہونا چاہئے ،اوقاف اپنے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے کچھ اور بندوبست کرے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں پنجاب کے مزاروں سے نذرانہ وصولی کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں مزارات کے پیسے سے اوقاف ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں،مزارت پر اکٹھا ہونے والا پیسہ دین کیلئے خرچ ہونا چاہئے ،اوقاف اپنے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے کچھ اور بندوبست کرے ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ مزارات کے پیسے سے تنخواہیں نہیں دی جا سکتیں ،یہ پیسہ اللہ اوردین کی راہ پر خرچ ہونا چاہئے،لوگ منتوں مرادوں کیلئے چندہ خیرات دے کر جاتے ہیں ،اس پیسے سے ہسپتال تعلیمی ادارے اور یتیم خانے بنائے جاسکتے تھے،ہمارے لوگ ہر چیز کھانے کے عادی ہوچکے ہیں ۔

وکیل فیصل چودھری نے کہاکہ چندے کے پیسے سے جہیز فنڈز بھی دیا جاتا ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ جہیز فنڈز بھی کھالیاہوگا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ریاست مزارات کے چندے کی محافظ ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ اوقاف والے مزارات کے پیسے کو من و سلویٰ سمجھتے ہیں ،اوقاف ملازمین کو سمجھ نہیں وہ کھارہے ہیں ۔

سپریم کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے تمام ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹسز جاری کردی اورتمام صوبوں اور اسلام آباد سے مزارات پر جمع ہونے والے چندے پر فرانزک رپورٹ طلب کرلی،ملک بھر کے مزارات کے اکاﺅنٹس رپورٹس بھی طلب کرلی گئیں،عدالت نے کہاکہ بتایاجائے مزارات پر کتناچندہ اکٹھااور کہاں خرچ کیاجاتا ہے ، عدالت نے مزارات پر عوام کی جانب سے چندہ دینے کے کیس کی سماعت2 ہفتے کیلئے ملتوی کردی

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد