کورونا وائرس کے خوف کے باعث شہری گھروں میں بڑے پیمانے پر راشن ذخیرہ کرنا شروع، مقامی اخبار نے بڑا دعویٰ کردیا

کورونا وائرس کے خوف کے باعث شہری گھروں میں بڑے پیمانے پر راشن ذخیرہ کرنا ...
کورونا وائرس کے خوف کے باعث شہری گھروں میں بڑے پیمانے پر راشن ذخیرہ کرنا شروع، مقامی اخبار نے بڑا دعویٰ کردیا

  



کراچی (ویب ڈیسک)کورونا وائرس کے خوف کے باعث شہریوں نے گھروں میں بڑے پیمانے پر راشن ذخیرہ کرنا شروع کردیا، شہر میں اشیاءخورد و نوش و ضروریہ کی دو روز میں ریکارڈ خرید و فرخت ہوئی۔افواہوں کے باعث دکانوں، مارکیٹوں اور بازاروں میں خریداروں کا بے تحاشا رش دیکھنے میں آیا۔

روزنامہ جنگ کے مطابق کورونا وائرس کے حوالے سے شہر کو لاک ڈاﺅن کرنے سمیت بہت سی افواہیں گردش کررہی ہیں،اتوار کی شب پولیس کی جانب سے چائے خانے، کیفے، مارکیٹوں اور دیگر دکانوں کو بند کرانے سے عوام میں کورونا وائرس کے حوالے شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں نے اچانک بڑے پیمانے پر راشن کی خریداری شروع کردی۔لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت شہر کو لاک ڈاﺅن کرنے والی ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ پہلے سے راشن ذخیرہ کرلیا جائے، اتوار اور پیر کو بڑے پیمانے پر اشیا خوردونوش اور اشیا صرف کی خریداری ہوئی جبکہ حکومت کی جانب سے بار بار اعلان کیا جارہا ہے کہ شہری افواہوں پر کان نہ دھریں لیکن عوام میں کورونا وائرس کا خوف کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے اور اس خوف میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا۔جب علاقہ پولیس نے مارکیٹس، بازار، ریسٹورنٹ اور چائے خانے بند کرانے شروع کردیئے،کورونا وائرس کے خوف سے سبزی و فروٹ منڈی میں بھی اتوار اور پیر کی شب کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ اندورن ملک سے سبزیوں و پھلوں کی آمد بھی کم ہوگئی۔جس سے سبزیوں و پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں گندم کی وافر مقدار موجود ہے ، جبکہ نئی فصل بھی مارکیٹ میں آچکی ہے، اس صورتحال میں صوبے میں آٹے کی کوئی قلت نہیں ہے۔

شہری آٹے کی دستیابی کے حوالے سے اطمینان رکھیں ، جبکہ تھوک فوشوں و تاجروں نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق اشیاءکی خریداری کریں تاکہ شہر میں اشیاءکی قلت پیدا نہ ہو، کمشنر کراچی نے اشیاءخوردونوش کے ذخیرہ پر 144 کے تحت سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی