کرونا وائرس ،شیری رحمان نے وفاقی حکومت کو مجرمانہ غفلت کا مرتکب قرار دے دیا

کرونا وائرس ،شیری رحمان نے وفاقی حکومت کو مجرمانہ غفلت کا مرتکب قرار دے دیا
کرونا وائرس ،شیری رحمان نے وفاقی حکومت کو مجرمانہ غفلت کا مرتکب قرار دے دیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ جب ملک عالمی وبا کے بحران سے گذر رہا ہے تو بدقسمتی سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کے وفاقی سطح پر قیادت کا فقدان ہے،پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ہے،بروقت ردعمل صرف سندھ سے آیا ہے،یہ تشویشناک ہے کہ دوسرے صوبے بھی اس آزمائش میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریوں میں مجرمانہ غفلت برت رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ وفاقی سطح پر بحران شدت کو تسلیم نہیں کیا جا رہا،جب راتوں رات کرونا کیسز کی  تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا تو کابینہ نے اپنی ہی وزارت صحت کو رقم فراہم کرنے سے انکار کردیا،تفتان بارڈر پر قائم قرنطینہ کی سہولیات نے وفاقی حکومت کے ہنگامی ردعمل کے معیار کو بری طرح سے بے نقاب کردیا ہے، تفتان سے آنے والے زائرین کے اعداد و شمار کہاں ہیں جو واپس خیبرپختون خواہ، بلوچستان یا پنجاب واپس آئے؟ کیا ان صوبوں میں سکریننگ کی سہولیات کافی ہیں؟ صرف سندھ نے حقائق اور اعداد و شمار فراہم کیے ہیں۔ وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریوں میں مجرمانہ غفلت برت رہی ہے۔شیری رحمان نے کہا کہ حکومت کو شہریوں کی رہنمائی کرنی ہوگی اور سہولیات کو تیز کرنا ہوگا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ سٹیٹ بینک کو سود کی شرحوں کو 75 پوائنٹس سے کہیں زیادہ کم کرنا چاہئے،ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے مزدوروں کی مدد کی ضرورت ہے،عوامی کے لئے آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو قیادت کی ضرورت ہے، غیر حاضر وزیر اعظم کی نہیں،یہ ایک قومی بحران ہے جس کو فوری، مضبوط اور مربوط قومی ردعمل کی ضرورت ہے، ڈبلیو ایچ او نےحکومت سندھ کی جانب سےقائم کردہ حفاظتی پروٹوکول کی بنیاد پر پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔صرف سندھ حکومت ہی اس بحران سے نمٹنے کے لئے ایک اور متحرک نظر آ رہی ہے۔

مزید : قومی