حکومت اور الیکشن کمیشن

حکومت اور الیکشن کمیشن
حکومت اور الیکشن کمیشن

  

 سینیٹ الیکشن میں اسلام آباد کی سیٹ پر پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو بڑا اپ سیٹ سمجھا جا رہا تھا، لیکن سینیٹ کی چیئرمین شپ کے انتخاب نے سب کی رائے ہی بدل ڈالی۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام آباد کی سینیٹ کی سیٹ پر انتخاب کے وقت 7ووٹ مسترد ہوئے اور اس کا پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کو فائدہ پہنچا اور وہ ایوان بالا میں جا پہنچے۔ حکومت نے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ اپوزیشن نے ضمیر کا سودا کیا ہے، جبکہ عدالت بھی جانے کا اعلان کیا۔یوسف رضا گیلانی خفیہ ووٹ سے کامران ہو کر چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ہار گئے۔ اسلام آباد کی سیٹ پر وزیر خزانہ کو پی ڈی ایم کی عددی حیثیت سے لے کر شکست سے دوچار کرنے کی کامرانی پہ ان کی شادمانی ابھی جاری تھی کہ سینیٹ میں عددی اکثریت 51کے باوجود 47کے حامل صادق سنجرانی سے شکست کھاگئے۔ اگر خفیہ ہاتھ کی غیر جانبداری سے وہ مستفید ہوئے تھے تو اب حیران و پریشان کیوں ہیں؟ گیلانی صاحب کو پڑنے والے 49 ووٹوں میں سے7 ووٹ ان کے نام پر نقش کر دئیے گئے کہ شاید اس طرح رد ہو جائیں۔

دلچسپ بات ہے کہ سنجرانی کا کوئی ووٹ ضائع ہوا، نہ ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں کوئی ووٹ رد ہوا، جو 7ووٹ گیلانی صاحب کے ضائع کئے گئے تھے، وہ ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے راؤنڈ میں حکومتی امیدوار مرزا آفریدی کو پڑے جو سنجرانی کے ووٹوں سے 6زیادہ ہیں۔یوں مرزا صاحب نے عبدالغفور حیدری کو 10 ووٹ سے شکست دے دی۔ اگرچہ ووٹوں کی گنتی میں کھلی دھاندلی کے الزامات اور اس سے پہلے خفیہ کیمروں کی پولنگ بوتھ سے برآمدگی پر حکومت کی سبکی ہوئی، لیکن اگر عدلیہ نے گیلانی صاحب کے حق میں فیصلہ دے دیا تو پھر حکومتی پشیمانی دو چند ہوجائے گی۔پاکستان کے جمہوری وفاق کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سینیٹ کا انتخاب براہِ راست ہو۔ براہ راست منتخب کردہ سینیٹ کو امریکی سینیٹ کی طرح مقتدر بنایا جاسکتا ہے جسے تمام وفاقی اور بین الصوبائی معاملات میں قومی اسمبلی کے مساوی حیثیت حاصل ہو اور جو اٹھارویں ترمیم کی منشا کو بھی پورا کرسکے۔ سینیٹ کے ہنگامہ انگیز  انتخابات کے نتیجہ میں دونوں اطراف کی سیاست کو دھچکا لگا ہے۔ اگر حکومت ہل گئی ہے تو اپوزیشن بھی اپنے اصل ہدف سے دور ہٹ گئی ہے۔ پی ڈی ایم اپنے 26 نکاتی ایجنڈے کو بھول کر اندر سے تبدیلی کی راہ پہ بھٹک گئی اوراس امید پر کہ شاید خفیہ ہاتھ کی برکت اب عمران حکومت کو ویسے میسر نہیں رہی جیسے کہ پہلے تھی۔ پہلے سینیٹ کا انتخاب تمام تر توجہ کا مرکز رہا تو اب عدالتی لڑائی میڈیا پر چھائی رہے گی۔ اگر اپوزیشن مقدمہ جیت گئی تو پھر عدم اعتماد کا ووٹ لائے جانے کی تگ و دو چل پڑے گی۔

 وزیراعظم عمران خان کی طرف سے الیکشن کمیشن کو چارج شیٹ کئے جانے کے بعد اب حکومت نے الیکشن کمیشن پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے ابھی دو مہینے بھی نہیں گزرے ہیں 22جنوری 2021ء کو عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے سوال کے جواب میں موجودہ چیف الیکشن کمیشن راجہ سکندر سلطان پر مکمل طور پر اعتماد کا اظہار کیا تھا اور تعریف کی تھی،اب حکومت اپنے ہی لگائے گئے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ہو گئی ہے۔حکومتی وزراء کو میڈیا پر آ کر اس طرح اپنے لگائے ہوئے الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن ارکان کے خلاف نہیں بولنا چاہئے اگر اعتماد نہیں ہے تو ریفرنس دائر کریں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو اس بات کی اچھی طرح خبر ہے کہ الیکشن کمیشن نے ڈسکہ میں دھاندلی کے مبینہ منصوبے سے متعلق اہم شواہد حاصل کر لئے ہیں حکومت کو ڈر ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے یہ شواہد  عوام کے سامنے پیش کر دیئے تو حکومت کے لئے بری خبر ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے 20 گمشدہ پریزائیڈنگ افسروں کی ڈسکہ سے باہر موجودگی کے سائنسی شواہد حاصل کر لئے ہیں ووٹنگ اور گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد پریزائیڈنگ افسران ریٹرننگ آفیسر کے سامنے اپنی حاضری لگانے کی بجائے کئی گھنٹے رات گئے تک غائب ہوگئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے حکومت پاکستان سے ان افسران کے فون کالز کا ڈیٹا ریکارڈ بھی مانگا ہے۔ حکومت پہلے ہی کمیشن کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے معاملے میں پریشان تھی، کیونکہ فون کالز ڈیٹا ریکارڈ سے پریزائیڈنگ افسران کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔ ڈسکہ میں الیکشن کی رات الیکشن کمیشن نے پولیس اور سویلین انتظامیہ کے متعلقہ افسران سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی الیکشن کمیشن نے خود میڈیا کو بتایا کہ ان کا صرف چیف سیکرٹری پنجاب سے رات تین بجے ایک مرتبہ رابطہ ہوا تھا،لیکن وہ کمیشن کو گمشدہ پریذائیڈنگ افسران کی معلومات فراہم نہ کر سکے۔ آئی جی پولیس پنجاب، کمشنر، آر پی او گوجرانوالہ، متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سے بھی کمشن نے رابطہ کیا، لیکن وہ بھی دستیاب نہیں تھے۔ اگر ہم ساری صورت حال کو دیکھیں تو الیکشن کمیشن کے پاس بہت سارے ثبوت موجود ہیں۔ شاید اس کی وجہ سے استعفا مانگا گیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -