سعودی ایران کشیدگی کا خاتمہ،خطے کیلئے نیک شگون

سعودی ایران کشیدگی کا خاتمہ،خطے کیلئے نیک شگون
سعودی ایران کشیدگی کا خاتمہ،خطے کیلئے نیک شگون

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


گزشتہ نصف صدی سے طاغوتی اور دشمن قوتوں نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، دونوں اسلامی ممالک کی قربت اور مضبوط تعلقات اسلام دشمن طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے، تاریخ بتاتی ہے جب بھی دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور ہونے لگیں نئی سازشوں نے جنم لیا نتیجہ دو برادر ممالک دور ہوتے چلے گئے، دشمنان نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی میں مدد کرتے رہے اور اپنا اسلحہ فروخت کرتے رہے۔ امریکہ بہادر کا اہم کردار رہا، انقلاب ایران کو غلط رنگ دیا گیا ایران میں ہونے والی تبدیلیوں کو بلاوجہ عربوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی اور ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ انقلابی ایران کی تحریک عربوں کے خلاف سازش ہے ایسے تانے بانے بُنے گئے  عربوں کے بادشاہ ایرانی انقلاب کو خطرہ سمجھنے لگے۔ایرانی انقلاب کو غلط رنگ دیتے ہوئے اس کے خلاف عربوں کا باقاعدہ اتحاد کروایا گیا،مڈل ایسٹ میں ایران انقلاب مخالف اتحاد کا سربراہ سعودی عرب کو بنایا گیا۔مڈل ایسٹ کے ممالک کے سامنے ایران کو دشمن ثابت کیا گیا، مقابلے کے لئے ایران مخالف پراپیگنڈا کیا گیا، ایران بھی ان سازشوں کے تانے بانے کو نہ سمجھ سکا مڈل ایسٹ اور عربوں کے اتحاد کے مقابلے کے لئے سازشوں میں مصروف ہو گیا، عراق، شام، لبنان، یمن میں کھل کر سعودی عرب اور اتحادیوں کے خلاف برسر پیکار ہو گیا ایسی آگ اور خون کا کھیل شروع ہوا دونوں اطراف کے ممالک متاثر ہونے لگے اہم کردار فرقہ واریت نے ادا کیا۔ایک دوسرے کو کافر قرار دیا گیا ایک دوسرے کو مارنے کو جائز قرار دیا گیا، دونوں اطراف آگ کے شعلے بڑھکتے گئے۔ امریکہ بہادر نے اپنا جنگی سامان اربوں ڈالر کا فروخت کیا اور اسلامی ممالک کا تماشا بنے رہے نتیجہ مڈل ایسٹ کے ممالک سمیت سعودی عرب کی معیشت بھی متاثر ہونے لگی۔ ایران پر پابندیاں لگیں اس پر زندگی تنگ کر دی گئی، سعودی عرب اور یمن کی جنگ میں دشمنان کھل کر سامنے آ گئے۔

دس سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں بظاہر کوئی نہ جیت سکا مگر یمن میں تباہی ہوتی گئی۔ سعودی عرب کا نقصان بڑھتا گیا مسلم ممالک کو تماشا بنانے والوں کو خوشی ملتی رہی، امریکہ اپنے مقاصد نیٹو کے ذریعے پورے کرتا رہا۔ نیٹو اتحاد کو بھی مسلمانوں کی مجبوری بنا دیا گیا، افغانستان میں اتحاد اور امریکہ کی شکست کے بعد امریکہ کو عملاً پسپائی اختیار کرنا پڑی جس کا فائدہ چین نے اٹھایا، روس نے دوبارہ پَر نکالنا شروع کئے۔ امریکہ اسرائیل کی آئندہ سو سال کی منصوبہ بندی کو خطرہ لاحق ہوا امریکہ اور اسرائیل کو خوش فہمی تھی اس نے اسلامی ممالک کو بالعموم اور مڈل ایسٹ اور عرب ممالک کو بالخصوص اس حد تک کمزور کر دیا ہے کہ وہ کوشش بھی کریں تو ان کے سازشی جال سے نہیں نکل سکتے۔روس اور یوکرین کی جنگ نے خطے میں نئی پیش بندی کی امریکہ نے ورلڈ آرڈر کے تحت روس پر چڑھائی کی کوشش کی مگر روس نے جارحانہ حکمت عملی اور چین کی خطے میں نئے اتحاد کی کوششوں نے کامیابی نہ دی۔ اسرائیل، امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ سامنے آنے لگا تو ایران کو مزید پابندیوں میں جکڑ دیا گیا۔ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے ذریعے امریکہ نے ایران پر پابندیوں کو سخت کرتے ہوئے بنگلہ دیش، سری لنکا، پاکستان اور دیگر چھوٹے ممالک کی معیشت کی ڈوبتی ناؤ کو نکالنے کے لئے نئی شرائط پیش کیں۔ دشمنان کا اہم ترین ایجنڈا پاکستان کاایٹمی پروگرام اور عدم استحکام تھا یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے آئی ایم ایف نے تماشا لگایا ہوا ہے۔پاکستانی عوام سے کھلواڑ جاری ہے، سیاسی عدم استحکام کے ساتھ  روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے امریکہ بہادر آئی ایم ایف کے ذریعے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرانا چاہتا ہے۔امریکن اور اسرائیلی حکام کے دورے اسی سازشوں کی کڑی قرار دیئے جا رہے ہیں۔


سعودی عرب کی خوش نصیبی ہے اس کو ایسا نوجوان ملا ہے جو دور اندیش ہے اس نے دشمنانِ کی سازشوں کو بھی سمجھ لیا ہے اور اس کے مقابلے کے لئے تیل پر سو فیصد  انحصار ختم کر لیا ہے۔ سعودی عرب کے وزیراعظم ولی عہد محمد بن سلمان کو امریکہ نے کھلے عام دھمکی دی تھی ہماری مدد کے بغیر حکومت کر کے دکھاؤ، شہزادہ محمد بن سلمان نے عملاً کر کے دکھا دیا ہے۔ سعودی عرب امت مسلمہ کی امیدوں کا مرکز اور حرمین شریفین دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کی جان  ہے جس کے لئے وہ ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔
اللہ بھلا کرے چین کا اس نے امریکہ کی سازشوں کو بے نقاب کیا،ایران اور سعودی عرب کے درمیان پائی جانے والی دوری کے حقائق بے نقاب کیے، اس کے پیچھے جاری گزشتہ 30 سال کی سازشوں کی حقیقت دنیا کے سامنے لائے اور چھ سال کی کوششوں کے بعد سعودی عرب اور ایران کو قریب کر دیا۔سفارتی تعلقات کی بحالی کا فیصلہ ہو چکا ہے دونوں ممالک میں جشن کا سماں ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے عوام کے درمیان غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں خطے میں تعلقات کی بحالی کو نیک شگون قرار دیا جا رہا ہے۔امید کی جا رہی ہے فرقہ واریت کی آگ بھی خودبخود بجھ جائے گی۔ اسلامی ممالک میں فرقہ واریت کا ناسور اور آگ کو تیل بھی امریکہ اور اسرائیل ہی فراہم کر رہا تھا امید کی جا رہی ہے مڈل ایسٹ کے ممالک اور عرب ممالک میں بھی خوشی کی لہر ہے۔معلوم ہوا ہے ایران اور سعودی عرب17 اپریل 2001ء کو طے پانے والے سکیورٹی تعاون کے معاہدے پر عمل درآمد کے لئے تیار ہیں۔ 2019ء سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونے سے ایران کو نئی زندگی اور سعودی عرب کو نئی طاقت ملے گی۔واقفانِ حال کا کہنا ہے دشمنانِ اسلام آرام سے نہیں بیٹھیں گے، ایران سعودی عرب کی قربت ان کو ہضم نہیں ہو گی، چین اور روس اپنے مفاد میں امریکہ کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔
حرمین شریفین کی دعائیں کام آئیں گی اور محمد بن سلمان اُمت مسلمہ کی قیادت کریں گے اس کے لئے ہر فرد کو دُعا کرنی چاہئے فرقہ واریت نے اُمت مسلمہ کو کمزور کیا ہے ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کی روش ترک کرنے کا وقت آ گیا ہے۔امید ہے خطے میں امن ہو گا اور مسلمان نئی طاقت سے آگے بڑھیں گے۔
٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -