کون کہتا ہے روزہ ڈھال نہیں!

کون کہتا ہے روزہ ڈھال نہیں!
کون کہتا ہے روزہ ڈھال نہیں!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 سبھی جانتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کی رُو سے روزہ ڈھال ہے۔ گویا روزے کا مقصد ناجائز ترغیبات ، نفسانی خواہشوں ، بے انصافی اور دیگر برائیوں سے خود کو بچا کر رکھنا ہوا ۔ اِس لحاظ سے دیکھیں تو بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے روزے کو ’خود حفاظتی‘ کا حصار سمجھنا چاہیے ۔ یہ دوسری بات ہے ہم نے اپنی ڈھال کو مدافعتی آلہ نہ رہنے دیا بلکہ جارحیت کا ہتھیار بنا ڈالا۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری شعبے کی افطار پارٹی میں دھینگا مشتی کے مناظر دیکھ لیں یا روزہ کھلنے کے وقت لاہور کی ایم ایم عالم روڈ کا چکر لگا ئیں جہاں اخباری اطلاع کے مطابق اب ریستوران افطار سے سحر تک کھُلے رہیں گے۔ تیرہ سال پہلے اِسی فوڈ سٹریٹ میں ڈان نیوز کے ذیشان صدیق کے ہمراہ روزہ داروں کی آنیاں جانیاں دیکھ کر مجھے غذائی دہشت گردی کی اصطلاح ایجاد کرنا پڑی تھی ۔

 معمولی فرق کے ساتھ جو محض ’پروسیجرل اختلاف‘ ہے تمام مسلمانوں کے روزہ کھولنے کا وقت نمازِ مغرب کے قریب ہے ، لیکن تقوے کے غرور کی بنا پر ہماری جارحانہ کارروائیاں افطار ی سے کئی گھنٹے پہلے شروع ہو جاتی ہیں۔اول یہ کہ ماہِ صیام میں وقت پر دفتر پہنچنے والے افسروں کو خاندانی آدمی نہیں سمجھا جاتا ۔ پھر اگر آپ ڈیوٹی پر حاضر ہو ہی گئے ہیں تو رعایتی وقت پر ہونے والی چھٹی سے پہلے آپ کی ’ پبلک ڈیلنگ‘ میں ویسی متقیانہ بے رخی کی توقع کی جاتی ہے جس کا اشارہ ضمیر جعفری نے دیا تھا:

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار ، مَیں روزے سے ہوں 

ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار ، مَیں روزے سے ہوں

میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر

مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار ، مَیں روزے سے ہوں

مَیں نے ہر فائل کی دُمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا

کام ہو سکتا نہیں سرکار ، مَیں روزے سے ہوں

 سادہ الفاظ میں اِسے کہیں گے ’پپو یار ، تنگ نہ کر‘ کا عوامی رویہ ۔ ساتھ ہی مُلک بھر کے ’پپوﺅں‘ میں سے ہر ایک کا عزم کہ وہ اپنے سوا ہر کسی کو تنگ نہ کر سکا تو اُس کا نام بھی پپو نہیں ۔ اِس مقابلے کی ٹرافی ایف سی کالج کو ملنی چاہیے ۔ ایک تو نہر پر واقع میرے گھر کے اِس نواحی پُل سے پنجاب یونیورسٹی ، گلبرگ ، اچھرہ ، شاہ جمال ، شادمان، جیل روڈ اور مال کی طرف جانے والی سب سڑکیں اور ضمنی راستے شمار کیے جائیں تو زمینی ٹریفک کے لئے امکانی موڑ مڑنے کی کُل تعداد تینتیس بنتی ہے ۔ دوسرے، شاید جامعہ اشرفیہ کی برکت سے یہاں سحری کھانے ، روزہ رکھنے اور افطاری کرنے کے الگ الگ زمروں میں حصولِ ثواب کی مسابقت زیادہ شدید ہے۔ جیسے پردہءغیب سے آواز آ رہی ہو کہ ”اے روزہ دار جلدی جلدی پُل پار کر لے ۔ شاید یہ تیری زندگی کی آخری افطاری ہو“ ۔

 آزاد پاکستان نے روزہ کشائی کی جس گمبھیر روایت کو جنم دیا اِس علاقے میں پچھلی نسل کے بیشتر بزرگ اُس لذت سے آشنا نہیں تھے ۔ اب متوسط طبقے کا حال بھی یہ ہوتا جا رہا ہے کہ افطار اور رات کے کھانے کو دو الگ الگ غذائی اکائیاں شمار کرتے ہیں۔ معاشرے کی جو پرتیں ذرا اوپر ہیں اُن کی ماڈرن فقہ میں کھجور ، فروٹ چاٹ اور پکوڑوں کے بغیر روزہ کھل ہی نہیں سکتا ۔ ماضی کی عوامی زندگی میں آج کے تقریباتی کھانوں کا نام و نشان کم ہی ملے گا ۔ معروف افسانہ نگار اے حمید نے اپنے لڑکپن کے امرتسر میں سحری کی تیاریوں اور چائے کے سماوار کا ذکر ہمیشہ چاہت سے کیا ، مگر اکثر پاکستانیوں کے لئے14اگست کا سورج ہی انڈے پراٹھے لے کر آیا تھا ۔

 امرتسری مسلمانوں کے برعکس میرے بچپن کے سیالکوٹ میں روزہ رکھنے کا بندوبست دہی اور نِیم خشک پراٹھے سے آگے کبھی نہ بڑھا جس میں کشمیری روایت کے مطابق خمیر اٹھا دیا جاتا۔ افطاری میں بھی موسمی پھل کی ایک آدھ قاش اور اڑھائی آنے والی کھاری بوتل کی ’دردِ تہہِ جام‘ کے سوا کچھ یاد نہیں ۔ ممکن ہے اِس کے پیچھے نیم زرعی معاشرت سے نکل کر شہری متوسط طبقے میں نقب لگانے کی ہماری تگ و دو کو دخل ہو۔ اَسی لیے داد ا ابا میں ہر رُتبے کے آدمی کے ساتھ کندھے جوڑ کر نمازیں ادا کرنے کا شوق تو نظر آیا ، لیکن روزہ داری کی چُپ چپیتی، غیر آرائشی عادت ہم نے صرف دادی، ماں اور پھوپھیوں میں دیکھی ۔ کوئی مانے یا نہ مانے میرا ابتدائی تاثر یہی تھا کہ روزے عورتوں پر فرض ہیں، مردوں پر نہیں۔ 

 ہاں، رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ ، دادا ابا کی بڑے پایوں والی چارپائی پر میری آنکھ صبح کے جھٹپٹے میں اُنہی کی نیم مترنم آواز سے کھُلا کرتی ۔ یہ ترنم قدرے بلند آواز میں نماز پڑھنے سے پیدا ہوتا ۔ پھر حجازی ، مصری یا نجفی قرائت کے بجائے پنجابی لہجے میں تلاوت کرتے جسے قران پڑھنے کا لوک انداز کہنا چاہیے ۔ اس کے بعد حقے کی گڑگڑاہٹ جو ہلکی پھلکی بات چیت شروع ہو نے پر ہنسی اور معمولی کھانسی کے مشفقانہ مکسچر میں تبدیل ہو جاتی ۔ اباجی جس آہستگی سے ہر نماز کی پابندی کرتے ، اتنی ہی خاموشی کے ساتھ روزے بھی چھوڑتے جاتے۔نہ کبھی نمازیں بحث کا موضوع بنیں ، نہ روزہ خوری پہ کوئی تنازعہ اٹھا ۔ 

 گھر کی طرح محلّے میں بھی کوئی اِس پر نظر نہ رکھتا کہ کِس کِس کا روزہ ہے اور کون وضعداری سے کام لے رہا ہے ۔ نہ یہ حساب ہوتا کہ آپ نے کونسی مسجد میں نماز ادا کی ، ہاتھ کَس کر باندھے یا ڈھیلے چھوڑ دیے اور کیا سجدوں کی طوالت میں بخل سے کام تو نہیں لیا گیا ۔ اگر کوئی اِسے گپ نہ سمجھے تو ہمارے سو ، سوا سو گز نصف قطر کے اندر تین میں سے دو مساجد اِن معنوں میں ’سیکولر‘ نوعیت کی تھیں کہ وہاں تنخواہ دار پیش امام تھے ہی نہیں ۔ کئی لڑکے اذان دینے کے مشتاق ہوتے اور امامت کے لیے بھی ایک غیر رسمی پینل موجود رہتا ، جن میں سے پنجاب اسمبلی کو پہلی بار فرنیچر سپلائی کرنے والے مستری جھنڈا کے داماد پروفیسر عبدالمجید واحد باریش بزرگ تھے ۔

 اُن دنوں احترامِ رمضان آرڈیننس کے نہ ہوتے ہوئے بھی محسوس ہوتا کہ لوگ ایک دوسرے کے طرزِ عمل کو دِل سے برداشت کر رہے ہیں ۔مثال کے طور پر میری اور میرے بھائی کی عمریں آٹھ اور سات سال ہوں گی جب عید الفطر پر آبائی شہر جاتے ہوئے ابا کے اردلی نے ہم دونوں اور خود اپنے لیے ٹرین کی سیٹ پہ دسترخوان بچھایا ۔ ایک عمر رسیدہ مسافر نے بہت شائستہ لہجے میں نذیر سے کہا ’ ‘ بیٹا ، روزہ نہیں ہے؟‘ پھر اِس مختصر جواب سے مطمئن ہو گئے کہ ”جی ، آج نہیں رکھا۔“ نہ استغاثہ کے بیان ہوئے ، نہ صفائی کی جرح ۔ آپ پوچھیں گے کہ اِس صورتحال میں نذیر کی ڈھال کا کیا بنا ۔ سیدھا سا جواب ہے کہ ڈھال تو موجود رہی مگر اُس کا رخ الٹا دیا تھا تاکہ اپنے تحفظ کی بجائے ہماری روزہ خوری سے کسی اَور کا روزہ خراب نہ ہو نے پائے ۔ کیا پتا اللہ میاں کو یہی ادا پسند آگئی ہو ۔

مزید :

رائے -کالم -